تعلیمی اداروں کی بندش کا موزوں اقدام

کورونا وبا کے بڑھتے کیسزکے پیش نظر26نومبرسے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ معروضی صورتحال میں دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ حکومت نے تعلیم کے سلسلے کو ممکنہ طور پر جاری رکھنے کا بھی متبادل انتظام کیا ہے۔ موسم سرما کی جلد اورمعمول سے زائد تعطیلات کی تجویزبھی قابل غور اور قابل عمل اس لئے ہے کہ موسم کی شدت میں کمی کیساتھ ساتھ کورونا کیسز کی شرح میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے، اگرچہ شدید گرمی بھی اپنی جگہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن کم ازکم جان لیوا نہیں، اس لئے سردیوں کی چھٹیوں میں اضافہ اور گرمی کی چھٹیاں کم کرنے پر سنجیدگی سے غور اور فیصلہ ہو جائے تو بہتر ہوگا۔تعلیمی سیشن میں تبدیلی لا کر گرمی کی تعطیلات سے قبل سیشن ختم کر کے بچوں کو چھٹی ملے تو وہ ہوم ورک سے آزاد یا کم سے کم ہوم ورک کر کے چھٹیاں اچھی گزاریں گے۔ حالات کے تناظر میں خصوصی تبدیلیاں اور فیصلے بہرحال ناگزیر ہیں۔ اعدادوشمار کی روشنی میں اب بھی کورونا کی شرح کچھ کم نہیں بلکہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں بچوں کی زندگی اور مستقبل کا مشکل سوال آجائے وہاں تعلیم کو متاثر کرنا ہی مناسب فیصلہ ہے ۔ موسم میں خنکی آتے ہی کورونا وائرس کیلئے سازگار ماحول میسر آنے کے باعث آمدہ دنوں میں خدانخواستہ اس لہر میں شدت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماہرین اس لہر کی شدت کے حوالے سے متفق ہیں، جہاں تک آن لائن کلاسز اور دیگر ذرائع سے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کا سوال ہے سوائے اس کے کہ اولاً ہم اس کے عادی نہیں، دوم اور سب سے مشکل امر نیٹ کی سہولت ہر طالب علم کو میسر نہ ہونے کا ہے۔ ایک اور سنجیدہ مسئلہ ہر گھر میں ہر طالب علموں کو والدین اور بڑے بہن بھائیوں کی اساتذہ کے برابر کی مہارت وتجربہ اور ان کو پڑھانے اور رہنمائی کی سہولت میسر نہیں۔ یہ سارے سنجیدہ مسائل ہیں اس کیلئے اگر اساتذہ ریٹائرڈ خواتین وحضرات اور طالب علم رضا کارانہ طور پر اپنے ارد گرد کے بچوں کی تعلیم میں مدد کریں جن کے پاس نیٹ کی سہولت موجود ہے وہ اپنے پڑوس کے بچوں کو بھی ان کی کلاسز کے دورانیہ میں ہوم ورک وکلاس ورک ڈائون لوڈ کرنے اور ان کی رہنمائی کو اخلاقی وقومی فریضہ سمجھ کر خوش اخلاقی سے نبھائیں تو یہ بڑی قومی خدمت ہوگی۔ ہمارے تئیں سب سے زیادہ توجہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طالب علموں کی تعلیم پر دینے کی ضرورت ہے، انہی دوجماعتوں کے نمبروں اور تعلیم پر ان کے مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے اس لئے ان کے حوالے سے خصوصی انتظامات کی ضرورت ہے۔جن جن علاقوںمیں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں ان کیلئے سرکاری سطح پر اسباق ودروس جماعت کا کام اور گھر کا کام کروانے کا کوئی مربوط نظام وضع کیا جائے تاکہ اس سہولت سے محرومی کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔سیلولر کمپنیوں کو سٹوڈنٹس پیکجز متعارف کرانے پر آمادہ کیاجائے اور تعلیمی گھنٹوں کے دوران طالب علموں کو سستے داموںنیٹ کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کو کورس ورک کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں اور سرکاری ونجی سکولوں کی سرکاری سطح پر نگرانی وسر پرستی کر کے طلبہ کیلئے گھروں سے تعلیم جاری رکھنے کا عمل آسان بنایا جائے۔جہاں تک دینی مدارس کے تعلیمی ادارے ہونے کا سوال ہے ان کو کسی الگ نظر سے دیکھنے کی گنجائش نہیں، دینی مدارس کے طلبہ کی زندگی اور ان کو بیماری سے محفوظ رکھنے کی تدبیر اختیار کرنا حکومت اور مدارس کے ممتہمین ومنتظمین دونوں کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ دینی مدارس کے ہاسٹلز زیادہ گنجان اور محدود جگہ کے باعث خاص طور پر خطرے کا باعث ہیں،ان تمام امور کے باعث دینی مدارس کے طلبہ کیلئے بھی آن لائن تعلیم کا بندوبست ضروری ہے اور جب تک انتظامات نہ ہوں مدارس بند رکھے جائیں اور طلبہ اپنے اپنے علاقوں کے علماء سے یاپھر گھر پر خود ہی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ایک اور ضروری امر پر حکومت کو بروقت توجہ دینے کی ضرورت ہے جس طرح علمائے کرام نے مساجد میں باجماعت نماز کیلئے ایک باقاعدہ طریقہ کار طے کر کے اس پر کورونا وائرس کے پھیلائو کے خطرات میں واضح کمی تک عملدرآمد یقینی بنایا تھا اب بھی مساجد میں صفوں اور نمازیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنے کا عمل دوبارہ سے شروع کیا جائے۔ مساجد میں ایسا کرنے کی خاص طور پر ضرورت اس لئے بھی ہے کہ مساجد میں اکثر بڑی عمر کے افراد آتے ہیں جن کے متاثر ہونے کی صورت میں شدید بیمار ہونے اور مزید پیچیدگیوں کا شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔