یہ افواہ کہیں حقیقت ہی نہ بن جائے

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اتوار کو خفیہ طور پر سعودی عرب گئے جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے تاہم سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی ہے ۔یادرہے کہ چند عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئی تھیںکہ وہ اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کرے گا، تاہم اب تک سعودی عرب نے اس حوالے سے پیش رفت نہیں کی۔اس کے علاوہ رواں ماہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دبائو ہے تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی تھی۔خلیجی ممالک نے جس طرح اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کا آغاز کیا ہے اس پر سعودی عرب کا اس طرح سخت ردعمل کا اظہار نہ کرنا جتنا ترکی اور ایران نے کیا اپنی جگہ سوالات کا باعث امر ہے، اسی طرح پاکستان کا لب ولہجہ بھی محض سفارتی ہونا بھی اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے ۔ترکی اور ایران اسرائیل کی سخت مخالفت میں اب باہم اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قریب آنے لگے ہیں جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کا کوئی واضح اور ٹھوس موقف اختیار نہ کرنا شکوک وشبہات کا باعث بن رہا ہے۔ اس طرح کی فضا میں کوئی بھی خبر اور واقعہ غیر متوقع نہیں ،اگر اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ لغو بھی ہے تب بھی یہ مقصد خیز ہے جس سے متوقع ردعمل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں ایک سابق دور حکومت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے تک کی بات چلی تھی علاوہ ازیں اسرائیل سے تعلقات اور ملکی حکمرانوں کے حوالے سے شہید حکیم محمد سعید نے برسوں قبل اپنی کتاب میں جس منصوبے اور تیاریوں کا ذکر کیا تھا موجودہ حالات اس پر دال ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کو واضح طور پر اپنی حکمت عملی اور پالیسی کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کی خوشنودی اور دبائو پر کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا واحد راستہ فلسطینیوں سے مذاکرات اورفلسطینیوں کیلئے قابل قبول فارمولے کا وضع ہونے اور اس پر حقیقی اور عملی طور پر عملدرآمد کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب ابہام کی کیفیت دور کریں اور عالم اسلام کے دو اہم ممالک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔
گلگت بلتستان میں ہنگامہ آرائی تشویشناک امر
گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 2گلگت2کے غیر سرکاری غیرحتمی نتائج پر پیپلزپارٹی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے سرکاری دفتر اورگاڑیوں کو نذر آتش کرنے کا واقعہ باعث تشویش امر ہے جس پر فکرمندی کا اظہار اس لئے بھی ہے کہ سی پیک کیخلاف سازش کرنے والے عناصر سیاسی اختلاف کو ہوا دے کر علاقے کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ہمیں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اورالیکشن میں دھاندلی کرنے سے کوئی سروکار نہیں، پاکستان میں تو یہ معمول کا عمل بن چکا ہے مگر تشدد، ہنگامہ آرائی اور پولیس سے جھڑپوں کی نوبت نہیں آئی۔ ایک نہایت حساس علاقے میں اس طرح کے حالات باعث تشویش امر ہے جس پرقابو پانے کا تقاضایہ ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر مل بیٹھیں اور ان کو سیاسی طور پر اور مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے اور بڑی مشکل سے گلگت بلتستان میں قائم ہونے والے امن کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
زیتون کے پودے لگانے کا احسن منصوبہ
خیبر پختونخوا حکومت کا صوبہ بھر میں 5کروڑ زیتون کے پودے لگانے کیلئے محکمہ جنگلات اور زراعت کو منصوبہ حوالے کرنے کا اقدام مثبت اور نافع امر ہے۔خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں یہاں تک کہ چترال میں بھی زیتون کے پودے لگانے اور بھرپور پھل حاصل کرنے کے انفرادی تجربے پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں، دیر میں بھی اس کا کامیاب تجربہ ہوچکا ہے، پنجاب میں جامع منصوبہ بندی کیساتھ زیتون کا جنگل لگایا گیا ہے اور اب زیتون کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔ صوبے میں اگر چہ تاخیر سے یہ کام شروع ہورہا ہے لیکن بہرحال دیر آید درست آید کے مصداق اب اس پر پوری طرح سنجیدگی سے کام کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ زیتون کے پودے لگائے جائیں۔ سرکاری سطح پر تو لوگوں کو قیمتاً ان کے علاقوں میں ہی پودوں کی فراہمی کا خصوصی انتظام کیا جائے تاکہ پودے صوبے میں سرکاری اور انفرادی سطح پر لگ سکیں اور مطلوبہ مقصد حاصل ہو۔