مشرقیات

ایک مرتبہ عیسیٰ اپنے حواریوں کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ راستے میں ایک شہر سے گزر ہوا ۔ اس کے رہنے والے سب کے سب مردہ پڑے تھے ۔ آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا:''اے ساتھیو!اے میرے عزیزو!یہ سب کے سب یقینااللہ کے قہر کا شکارہوئے ہیں ، ورنہ یہ قبروں میں دفن ہوتے ''۔ (اور یوں ان کے مردے خراب نہ ہوتے)
حواریوں نے عرض کیا:''ہم ان کی موت کا سبب جاننا چاہتے ہیں''۔رات کے وقت حضرت عیسیٰ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور آپ نے بلندآوازمیں پکارا:''اے اہل شہر! تم پر کیا گزری''۔آواز آئی :''اے روح اللہ! رات کے وقت ہم بھلے چنگے سوئے تھے ، لیکن صبح سویرے اپنے آپ کو اس شہر کے بجائے دوزخ کی گہرائیوں میںپایا''۔
آپ نے فرمایا:''اس کا سبب کیا ہوا''۔
آوازآئی : ''ہمیں دنیا سے بے حد محبت تھی اور اس کی خاطر گنہگاروں کی غلامی سے بھی عار نہیں تھی ''۔
آپ نے پوچھا:''دنیا سے تمہاری دوستی کا اندازکیا تھا؟''
آواز آئی :''ہماری اس سے محبت اس طرح کی تھی جس طرح بچے کو اپنی ماں سے ہوا کرتی ہے ، یعنی جب دنیا حاصل ہو جائے تو پھولے نہ سمائے اور اگر پل بھر کے لئے آنکھوں سے اوجھل ہوجائے تو اداسی اور غم گینی سے ادھ موئے جائیں''۔
آپ نے پوچھا:''دوسرے کیوں خاموش رہے ،تم نے ہی کیوں جواب دیا''۔
آواز آئی :'' اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک کے منہ میں آگ کی لگام ہے ''۔
آپ نے پوچھا :''تو پھر تم کیسے بول رہے ہو''۔
اس نے کہا:''میں ان کے درمیان بستا ضرور تھا ، لیکن میں ان میں سے نہیں تھا ، یعنی مجھے دنیا سے محبت نہیں تھی ۔ لیکن جب عذاب نازل ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اب اس وقت میں دوزخ کے کنارے کھڑا ہوں اورنہیں جانتا ، نجات کی کوئی صورت مل جائے گی یا آخر کار مجھے دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا''۔
حضرت اسحٰق بن حلف فرماتے ہیں:خائف وہ نہیں جو روکر اپنی آنکھوں کو پونچھ ڈالے اور پھر گناہ کا مرتکب ہو ، بلکہ حقیقی خائف وہ ہے ، جوخوف الٰہی سے گناہ ترک کردے ۔ حضرت حاتم اصم فرماتے ہیں ،جب تم کسی دوست کا حال دریافت کرو اور وہ کہے میں فلاں چیز کا محتاج ہوں اور تم اس سے تغافل کرو اور اس کی ضرورت پوری نہ کروتو اس کا حال دریافت کرنا اس کے ساتھ تمسخرہوگا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اگر انسان کے سر پر اخلاص ، مرض اور موت نہ ہوتی تو شدت کبر کے سواوہ کبھی سر تسلیم خم نہ کرتا، باوجودان کے وہ پھر گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ۔
(مخزن اخلاق صفحہ ، 167,166)