سوکھے پتے

کون جیتا کون ہارا اس سے عوام کو کوئی غرض نہیں تاہم جب دھاندلی دھاندلی کا غلغلہ اُٹھتا ہے تو ایک ہُوہاہ مچ جاتی ہے، ویسے پاکستان میں اگرچہ اس کو روایت کا نام دینا غلط ہے کہ یہاں کی سیاسی جماعتوں نے وتیرہ بنا لیا ہے کہ جب ان کو شکست ہوجائے تو دھاندلی دھاندلی کی مالا جپنے لگتے ہیں۔خیر یہ سب ضمنی باتیں تھیں تاہم عوام دیدہ حیرت ہیں کہ گلگت بلتستان کے باغ کو سنوارنے تین بڑی پارٹیاں میدان میں کو دی تھیں، جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت بری طرح ہار گئی، ورطہ حیرت یہ ہے کہ سب سے کم ووٹ لینے والی جما عت پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے کا میا ب ہو گئی اور پی پی پی جو اب پاکستان کی سیاست میں مقبولیت میں تیسرے درجہ میں گنی جا تی ہے وہ جی بی کے انتخابات میں دوسرے درجے کی نکلی، الیکشن کے بعد نتیجہ وہ ہی نکلا جو دھاندلی کے تعارف سے آشنائی رکھتا ہے تاہم مختصر ترین جا ئزہ یہ سمجھا تا ہے کہ مسلم لیگ نے کچھ ٹو ٹے دل سے انتخابات میں حصہ لیا، کیونکہ اس نے محد ود امید وار سامنے کیے جبکہ پی پی پی نے اور پی ٹی آئی نے تما م سیٹو ں کے برابر کھڑے کردیئے ۔اس کے علا وہ یہ کرشما تی عمل بھی منظر عام ہو ا کہ جس نے جی بی میں ہفتہ ڈیڑ ھ ہفتہ پہلے اس حسین زمین پر جنم لیا تھا جہا ں اس نے بازی جیت لی وہا ں ان کے کامیاب ہو نے والے سات سنگی وہ ہیں جو اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی بندیا لگائے ہوئے تھے اور مسلم لیگ ن کے کابینہ کے لوازما ت سے لطف اند وز ہورہے تھے ،یہ وہ سات ارکا ن ہیں جنہو ں نے جی پی میں لوٹوں کی بنیا د رکھی ہے اس سے پہلے اس علاقے میں کوئی مثال مو جو د نہیں جب بی جی میں اسمبلی کے پہلے انتخابات ہوئے اس میں پی پی نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی تھیں غالباًبارہ سے چو دہ تھیں جب دوسر ی مدت کے انتخابات کا انعقادہوا تب مسلم لیگ ن نے پی پی پی کے مقابلے میں سولہ نشستیں کھینچ لیں تاہم دو نو ںمرتبہ کوئی دھا ند لی کا شوشا نہ اٹھا ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان ادوار میں تحر یک نا بو د تھی اس وقت پاکستان کے وارث بن بیٹھنے والو ں کا شاید کوئی رشتہ نہیں ہو ا تھا ۔ اب ایک ہی ہفتہ پہلے جنم لینے والی جما عت کی فوراً ہی جیت کی کنڈلی نکل آئی اگر یہ رشتہ پاکستان میں تئیس سال پہلے قائم ہوجاتا تو آج ان کو یہ دہائی دینے کی ضرورت نہ ہو تی کہ سرٹیفائیڈ دودھ سے نہائے ہوؤں کو اس مقام کیلئے چھبیس سال کی مشقت نہ جھیلنا پڑتی، چلیں یہ ہی کہا جا تا ہے کہ دیر آیددرست آید ۔ اب چلتے ہیں امریکا کی جا نب جہا ں امریکی ٹرمپ بری طرح ہا ر گئے، بہت سو ں کو دکھ بھی ہو ا ہو گا بہتروںکو سکھ بھی ملا ہے ، پاکستانی ٹرمپ کے جا ن وجگر دوست کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کو بھی جانا پڑے گا، پاکستانی ٹرمپ کی اصطلا ح کسی نے استعمال نہیں کی ہے اس لئے بد گمانی کر نے کی ضرورت نہیں ہے یہ اصطلا ح پی ڈی ایم کے سربرا ہ مو لا نا فضل الّرحما ن نے پشاور کے جلسہ میں ایجا د کی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جس طر ح امریکی ٹر مپ اقتدار سے گیا ہے اسی طر ح وہ پاکستانی ٹرمپ کو بھی بھیجیں گے ، جب سے 2018ء کے انتخابات ہوئے ہیں نہ جا نے وہ کیو ں عمران خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں حالا نکہ ان کی جما عت اقتدار کے کھٹولے پر براجما ن نہیں ہو پا ئی ہے البتہ ان کو پی پی اور مسلم لیگ ن اقتدار کا چسکا دینے کیلئے ایک آ دھ ہی وزارتی چوکی کے چورن کی چٹکی چٹاتی رہی ہے کہ ان کے اقتدار سیٹا سیٹا نہ کردیں، جہا ں تک عمر ان خان کے پاکستانی ٹرمپ ہونے کا قضیہ ہے اس بارے میں امریکا کے حالیہ انتخابات کے موقع پر امریکا اور یو رپ کے کئی ٹی وی چینلز ازراہ تفنن ٹرمپ کو عمر ان خان کی کاپی کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور وہ بھی پاکستانی ٹرمپ کو امریکی ٹرمپ کا جوڑوں پر تو قرار دیتے رہیں جس کی ویڈیو یوٹیو ب پر پڑی ہوئی ہے ۔ عمران خان کو یوٹرن کا مہا دیو تا کہا ہے کتنی غلط بات ہے جس قدر وہ مستحکم مزا ج ہیں حزب اختلا ف کا کوئی اس پائے استحکام تک کبھی پہنچا ہی نہیں، انہوں نے پائے استحکامات کیساتھ امریکی ٹرمپ کے اشارو ں پر ان کی خدما ت کا ساتھ دیا ہے ایسا کسی پاکستانی لیڈر نے جرأت رندانہ نہیں دیکھی جبھی تو ان کے اقتد ار کو جھولا جلدی جلدی جھول کھا تا رہا اور اپنا دھڑ م تختہ کرتے رہے ۔اسی لیے تو پی ٹی آئی نے اپنے ساتویں روز اپنے جنم کی چھٹی منا کر جشن جنم دوبالا کر لیا ۔امریکی ٹرمپ بھی کوئی کم نہیں ہیں ، یہ جو کہتے ہیں درست ہی کہتے ہیں کہ گونگے کی ماں ہی گونگے کی زبان سمجھتی ہے۔ دیکھئے ٹرمپ نے لقمہ دیا کہ اگر فریقین کشمیر ان سے کہیں کہ ان کی ثالثی کردو تو وہ اس کیلئے تیا ر ہیں، ابھی یہ لقمہ دیگر کو ہضم نہیں ہوا، عمر ان خان نے ایک وفادار کی حیثیت سے درخواست بھیج دی جبکہ وہ مو دی جس کو وہ دل میں بٹھائے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے مجنوں کی پیشکش کو لمحوں میں دامن سے جھاڑ کر رکھ دیا اوراس کے خلوص اور موودت کی پرواہ تک نہیںکی لیکن جب امریکی ٹرمپ دوسری مرتبہ میدان انتخابات میں کودے ہوئے تھے تب بھی عمران خان نے اپنے دوست کی لاج رکھتے ہوئے دعائیں کیں کہ اللہ کرے مو دی جیت جائیں تو مسئلہ کشمیر حل ہو جا ئے گا،یہ غور طلب بات ہے دیکھئے کہ وہی ہوا جس دعا کاموصوف نے حل بتایا تھا مو دی نے اقتدار کی عنا ن سنبھا لتے ہی عمران خان کی دعائے قبولیت کو عملی صورت عطا کر دی۔