مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات اور پاکستان

مؤمن خان مؤمن کا شعر پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے بعض دوست ممالک کے درمیان موجودہ حالات میں تعلقات میں سردمہری پر پوری طرح صادق آتا ہے۔
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی
کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
قیام پاکستان کیساتھ ہی جن ملکوں کیساتھ پاکستان کے بہترین تعلقات کی بنیاد پڑی اُن میں سعودی عرب سر فہرست تھا، ترکی کیساتھ ہمارے تعلقات قیام پاکستان سے پہلے یعنی تحریک پاکستان کے دور سے تھے اور اب بھی مثالی ہیں لیکن سعودی عرب کیساتھ اتنے اچھے کہ سعودی عرب کی خاطر مجبوری کے تحت سہی پاکستان نے ترکی جسے دوست کو ملائیشیا سمٹ میں اپنی مجبوریاں بتا دیں لیکن سعودی عرب پھر بھی پاکستان سے راضی نہ ہوا، دراصل سعودی عرب اور امارات کی پاکستان کیساتھ دوستی بڑے خان اور گائوںکے ایک غریب کسان اور مزارع کے درمیان تعلقات جیسے تھی لیکن پاکستان اور پاکستانی حرمین الشرفین سے محبت وعقیدت میں ان کی ہر بات تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔لیکن اس کا اس لحاظ سے ایک غلط اثر یہ پڑا کہ وہ اپنی بے تحاشا دولت کے گھمنڈ میں بعض دوستی اور سفارتی تعلقات کے آداب تک بھول گئے۔ پچھلے دنوں اسرائیل اور امارات وبحرین کے درمیان جو سفارتی تعلقات قائم ہوئے تو پاکستان کے ان دوستوں کے مزاج ہی بدل گئے، اُن کا خیال تھا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کر کے پاکستان سے تسلیم کرالیں گے حالانکہ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ بس چلتے چلتے پاکستان کو فار گرانٹڈ لیتے ہوئے اُس سے اسرائیل کو تسلیم کرایا جائے۔ ویسے تو سعودی عرب پاکستان سے اُس وقت سے ناراض ہے جب سے پاکستان نے یمن جنگیں سعودی عرب کیساتھ مل کر شریک جنگ ہونے سے معذرت کی تھی۔عمران خان کیساتھ ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن یہ بات بلاخوف وتردید کہی جا سکتی ہے کہ پاک افواج کیساتھ ایک صفحے پر آکر پاکستان نے اپنی یکطرفہ خارجہ پالیسی کے سبب جو نقصانات اُٹھائے تھے اُن سے سیکھتے ہوئے پاکستان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے میانہ روی واعتدال کی پالیسی اپنائی جس کے بڑے دوررس اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ایران ہمارا قریب ترین پڑوسیوں میں شمار ہوتا ہے لیکن ہماری مشرقی وسطیٰ کی پالیسیوں کے سبب ہم سے دور دور ہی رہتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ چاہ بہار سے کلبھوشن کا نیٹ ورک پکڑا گیا لیکن ہم پھر بھی مشرقی وسطیٰ کی محبت میں اُلجھے رہے۔ یہاں تک کہ اُن کو اب جب اسرائیل کی صورت میں نئی یاری گانٹھنے کا موقع میسر آیا ہے تو اس کو پاکستان پر تھونپا اور ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ پاکستان بوجوہ اس کیلئے اپنے معاشی مشکلات کے باوجود تیار نہیں۔اس کی سب سے اہم اور بڑی وجہ بابائے قوم کا اصولی فیصلہ ہے جو اہل فلسطین کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیساتھ منسلک ہے۔اسی کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ اب امارات کرونا وبا کی آڑ میں ایشیا اور افریقہ کے کئی ایک ممالک جس میںپاکستان بھی شامل ہے پر سیاحتی اور ورک ویزہ وغیرہ بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔اس فہرست میں
ترکی اورایران وافغانستان بھی شامل ہیں لیکن اصل نشانہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان ہی کے لاکھوں فرزند محنت مزدوری کیلئے وہاں مقیم ہیں جبکہ باقی ملکوں کے افراد نہ اتنی تعداد میں ہیں اور نہ ہی شاید ترکی اور ایران جیسے ملکوں کے لوگوں کو اتنی ضرورت ہے لیکن پاکستان کو اس کی ضرورت بھی ہے اور اس کی مجبوری بھی ہے کیونکہ سعودی عرب اور امارات سے سالانہ نو دس ارب ڈالرز زرمبادلہ آتا ہے جو پاکستانی معیشت میں بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن اب عمران خان کی تازہ انٹرویو نے شاید ان دونوں دوست ملکوں کو ذرا مایوس سا کیا ہے جس کا ردعمل اس صورت میں آرہا ہے کہ ایک طرف اربوں ڈالر کا قرضہ واپس طلب کیا جارہا ہے اور دوسری طرف ویزہ کی بندش سے دھمکایا جارہا ہے حالانکہ اگر کورونا ہی اس کا سبب ہے تو پھر تو انڈیا کیلئے ویزہ سب سے پہلے بند ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں تو کرونا کے مریض پاکستان سے سوگنا زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل میں کرونا کی وبا کی شرح کافی زیادہ ہے اور یہی حال برطانیہ وغیرہ کا ہے۔لیکن صاف بات یہ ہے کہ اب بقول اکبر الہ آبادی
عشرتی گھر کی محبت کا مزہ بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے
بقیہ صفحہ 7