درندوں سے ہمدردی کیوں؟

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جنسی زیادتی کے ملزموں کو سزائے موت دینے کی تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے صرف جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی قانون سازی کا فیصلہ ملک میں زیادتی کے واقعات میں بدترین اضافے کے تناظر میں مصلحت کا شکار ہونے کے مترادف امر ہے جس کی معروضی حالات میں گنجائش نہیں۔ اگر اس مسئلے پر رائے شماری کی جائے تو عوام کی غالب اکثریت پھانسی بلکہ سرعام پھانسی کی حامی ثابت ہوگی۔ سرعام پھانسی کی سزا تحفظات اور عالمی دباؤ کے باعث ممکن نہ ہو یا پھر اسے مناسب خیال نہ کیا جائے تو پھانسی کی سزا کی مخالفت نہیں ہوسکتی، ہم سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر سخت سزا کسی بھی جرم کا ازالہ نہیں لیکن جہاں قتل اور زیادتی کے واقعات ہوں وہاں ذمہ دار ملزموں کیلئے قصاص اور سزائے موت ہی موزوں ہوگی۔ اسلام میں بھی آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، قاتل کو قصاص کی سزا کا حکم ہے۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کو اگر انسان اور اشرف المخلوقات کی بجائے درندے قرار دے کر اسی تناظر میں ان کیلئے سزا تجویز ہو تو نامناسب نہ ہوگا۔ کسی معصوم سے زیادتی صرف ان کی باقی زندگی ہی کو زندہ درگور نہیں کرتی بلکہ ان کے پورے خاندان اور ہر درد دل رکھنے والے انسان کیلئے عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے اور جو لوگ قتل بھی کرتے ہیں، لاش تک کو جلا دیا جاتا ہے ان لوگوں کو صرف مردانہ صنف سے محروم کرنا کوئی سزا نہیں، اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ یہ ذہنی مجرم معاشرے کیلئے کسی اور ناسور کی صورت میں سامنے نہ آئے اور بچوں سے انتقام لینے کی راہ پر نہ چل نکلے، ویسے کوئی بھی نارمل شخص بچوں سے زیادتی کے غیرفطری فعل کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن میں خناس اور اس کے اندر کا شیطان اسے اس گناہ کی طرف راغب کرتا ہے۔ صنفی طور پر ناکارہ ہونے کے بعد اس طرح کے ذہنی مریضوں کا انتقام کی راہ پر چل نکلنا عجب نہ ہوگا۔ ہمارے تئیں کسی کو عمر بھر کا جسمانی وذہنی روگ لگانے کی سزاء جتنی سخت اور زیادہ ہوگی، معاشرے میں اس کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا اتنا ہی بہتر ہوگا۔ مردانہ صلاحیت سے محروم کرنا اس لئے بھی موزوں اقدام نہیں کہ اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس سے خود اس کی نہیں اس کے جوڑے کی بھی حق تلفی ہوگی۔ اس طرح کے ملزموں کو سزا کیا دی جائے اس سے قطع نظر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات رپورٹ کرنے کی بجائے اب بھی ان واقعات کی پردہ پوشی کا رجحان ہے جس کے باعث درندوں کو مزید مواقع ملتے ہیں اور دوسرے بچوں کو نقصان پہنچانے کا راستہ کھلا رہتا ہے، اس طرح کے مقدمات کو اگر میڈیا میں رپورٹ نہ کیا جائے یا کم ازکم اس طرح رپورٹ ہو کہ بچے کا نام اور اس کا علاقہ و خاندان کو کوشش کرکے مخفی رکھا جائے تاکہ لوگ بدنامی کے خوف سے اس طرح کے واقعات کو چھپانے کا فیصلہ نہ کریں اس طرح کے ملزموں کے شناختی کارڈ پر جنسی مجرم لکھنے اور ان کے گلے میں یا بازو پر کوئی واضح علامتی نشان باندھنے یا لگانے کا بھی اہتمام ہو اور معاشرے میں وہ دور سے ہی قابل فاصلہ اور علیحدہ گردانا جائے تو یہ بھی ایک موزوں عمل ہوگا ہم تو اس امر کے حامی ہیں کہ کسی بھی ملزم پر اگر جرم ثابت ہو تو اسے اگر پھانسی اور سزائے موت نہیں دی جاتی تو کم ازکم اسی کو اس وقت تک سزا دی جائے اور جیل میں رکھا جائے جب تک وہ اس طرح کے جرم کے قابل رہے اور ذہنی طور پر توبہ تائب اور اپنے کئے پر سخت نادم وپشیماں نہ ہو اور وہ اپنے عمل سے دوران قید یہ ثابت نہ کرے کہ وہ اب معاشرے کا باعزت شہری بننے کا خواہشمند ہے اور وہ اسے قابل اطمینان طور پر اپنے عمل وحرکات وسکنات سے ثابت نہ کرے۔