کورونا کے سائے تلے شوقِ بزم آرائی

کورونا کی دوسری لہر حسب توقع تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ ملک کے طول وعرض میں کورونا کے باعث ہلاکتوں کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ آئے روز کسی نامور شخصیت کے کورونا سے انتقال کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے میں کورونا سے چھپن افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2738 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ مجموعی طور پر ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد تین لاکھ 82ہزار 892 ہوگئی ہے۔ سات ہزار803افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فعال کیسز کی تعداد 42ہزار 115ہے۔ پاکستان میں دس ہزار سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جن میں اٹھانوے افراد فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ ان میں صف اول میں خدمات دینے والے ڈاکٹرز، نرسز اور دوسرا سٹاف شامل ہے۔ جان ہوپکنز یونیورسٹی امریکہ کی تحقیق کے مطابق کورونا سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان کا نمبر اٹھائیسواں ہے۔ ملک میں مختلف تقریبات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ گزشتہ روز وزیرتعلیم شفقت محمود نے تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر یہ فیصلہ دلچسپ انداز میں موضوع بحث رہا، خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں طلبہ نے ''جب تک سورج چاند رہے گا شفقت تیرا نام رہے گا'' کے نعروں سے اس فیصلے پر جشن منایا۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے شفقت محمود پر وزیر تعطیلات کی پھبتی بھی کسی۔ کورونا کا گراف جس رفتار سے بلند ہو رہا تھا اس میں والدین کی تشویش بڑھنا فطری بات تھی۔ والدین کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں ان کے بچے اس لہر کی نذر نہ ہو جائیں۔ ایسے میں حکومت نے تعلیمی اداروں کی بندش کا درست فیصلہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کے باعث جہاں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں وہیں تعلیمی حرج بھی ہو رہا ہے۔ آن لائن تعلیم سے اس نقصان کی تلافی ممکن نہیں رہی مگر اس کا کیا کیجئے کہ دنیا کو حالات کے جبر کا سامنا ہے اور اس وقت تک اس بحران کو سہنا لازم ہے جب تک کہ کورونا کا مؤثر علاج دریافت نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان جیسے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ کورونا کی ویکسین پاکستان تک پہنچنے میں چھ سے آٹھ ماہ کا وقت لگے گا گویا کہ سردیوں کا موسم کورونا کے خوف کے سائے تلے گزارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کیلئے صبح چھ سے شام پانچ بجے کا وقت مقرر کیا تھا مگر تاجر برادری اس شیڈول کو ناقابل عمل کہہ کر قبول کرنے سے انکاری ہے۔ پاکستان کے زمینی حقائق میں صبح چھ بجے کاروبار کا آغاز کرنے کا رواج نہیں۔ عوام خریداری کیلئے اپنے مقررکردہ وقت کے مطابق ہی بازاروں کا رخ کررہے ہیں اس لئے بازاروں میں بھیڑ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ شیڈول بلاشبہ تبدیلی کا متقاضی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی ہو رہی ہے اور مریضوں کو وینٹی لیٹر کی تلاش میں ایک ہسپتال سے دوسرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک طرف ملک میں یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف کورونا کو محض کھیل تماشا سمجھنے کا غیرسنجیدہ رویہ چہارسو غالب ہے۔ ماسک پہننا دوبارہ متروک ہو چکا ہے اور ہاتھ دھونے اور سینیٹائز کرنے کو فضول مشق اور مشقت جان لیا گیا ہے۔ عوام کے اس عدم تعاون کے باعث کورونا کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کی تو بات ہی کیا بیتے ہوئے کل کی حکمران اور آج کی اپوزیشن جماعتیں ملک میں جلسے جلوس کا سلسلہ جاری رکھنے پر بضد ہیں۔ ان جلسوں میں نہ تو عوام ماسک کی پابندی کرتے ہیں اور نہ فاصلے رکھنا عملی طور پر ممکن ہوتا ہے۔ یوں جلسے جلوس کورونا وبا کو پھیلانے اور منتقل کرنے کا ایک نیا سامان ہوکر رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن کے کئی بزرجمہر ٹی وی پر برملا کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہجوم سے کورونا نہیں پھیلتا۔ اپنی سرگرمیوں میں رکاوٹ کیلئے اپوزیشن راہنما حکومت سے مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے حکومت کورونا کو جلسے روکنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں جم کر انتخابی مہم چلائی ان کے سیکرٹری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد بلاول نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔ اپوزیشن کو احتیاط کیلئے کس حادثے کا انتظار ہے؟ بلاول سندھ کے حکمران ہیں اور سندھ میں جہاں ایک طرف وینٹی لیٹرز کی کمی کا سب سے زیادہ سامنا کر رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت بھی ایک اتھارٹی ہے ڈاک خانہ نہیں جس کا کام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دوسرے عالمی اداروں کے انتباہ کو عوام تک پہنچانا اور محض ایس او پیز کے نام پر خطرے کی گھنٹیاں بجانا ہو حکومت کاکام قانون کی عملداری کو یقینی بنانا اورعوام کے جان ومال کا تحفظ ہوتا ہے۔ اس لئے حکومت کو اُدھر کا پیغام اِدھر پہنچانے اور بے بسی سے حالات کا مشاہدہ کرنے، تماشا دیکھنے کی بجائے سنجیدہ خطرے کا مقابلہ کرنے کی تدبیر کرنا چاہئے۔ انسان زندہ رہیں تو محفلیں بھی سجتی رہیں گی۔ انسانی جان کی قیمت پر شوقِ محفل آرائی کسی طور صحت مند رویہ نہیں۔ حکومت کو جی کڑا کرکے ایک بار مکمل لاک ڈاؤن کرنا ہوگا اس کے سوا سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر رسمی کارروائیاں اس گمبھیر ہوتے ہوئے مسئلے کا حل ثابت نہیں ہوسکتی۔