ہم قانون کا احترام کیوں کرتے ہیں؟

پچھلے ہفتے کی بات ہے، اسلام آباد سے پشاور کی طرف موٹروے پر سفر کررہا تھا کہ اچانک انجانے میں رفتار مقررکردہ حد سے تجاوز کرگئی۔ چند ہی میٹر کے فاصلے پر کھڑے موٹروے پولیس کے مستعد اہلکاروں نے اشارہ دیکرگاڑی روکنے کو کہا۔ قانون کا احترام کرتے ہوئے جرمانہ بھرنے کیلئے میں نے بغیر کسی چوں وچراں کے متعلقہ تفصیلات مہیا کرنے کے بعد جرمانے کی رقم متعلقہ اہلکاروں کو تھماکر رسید حاصل کرلی اور پولیس نے میرے بعد لائن میں کھڑے دیگر لوگوںکی طرف توجہ دیکر حسب معمول جرمانے وصول کرنے شروع کر دئیے۔ جونہی میں نے سارجنٹ سے رسید وصول کی اتنے میں وہیں ایک وی آئی پی کانوائے ہمارے سامنے سے اس برق رفتاری سے گزرا کہ پلک جھپکتے ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ آٹھ سے دس گاڑیوں کا یہ قافلہ اس شان سے گزرا کہ مغل بادشاہوں کی یاد تازہ ہوگئی۔ شاید کوئی وزیر یا مشیر دنیا ومافیہا سے بیگانہ قوم کی غم میںگم یہ احساس تک نہیں کرسکا کہ قانون بنانے والے نے اپنے ہی قانون کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ میں نے سارجنٹ سے بڑے احترام کیساتھ پوچھا ان گاڑیوں کی حد رفتار کتنی ہوگی؟ سارجنٹ کی آنکھوں میں ندامت اور چہرے پر بے بسی کے آثار نمایاں تھے اور جواباً عرض کیا صاحب کیوں شرمندہ کرتے ہیں کہاں ہم غریب اور کہاں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں گھومنے والے یہ وزیر ومشیر، ہماری اوقات ہی کیا ہے ان سے پوچھنے کی۔ اس سارجنٹ کی بے بسی پر رونا تو مجھے بھی آیا لیکن تھوڑی سے توقف کے بعد یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دینے کے بعد وہاں سے چلتا بنا کہ یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے، ایسی ہی کتنی کہانیاں روز اس ملک میں جنم لیتی اور دب کر ختم ہوجاتی ہیں لیکن اس کہانی نے مجھے یہ سوال اُٹھانے پر ضرور مجبور کیا کہ اس ملک میں غریب اور امیر کیلئے قانون کے دو معیار کیوں ہیں؟ یہاں پر انصاف کا مفہوم غریب اور امیر کیلئے الگ الگ کیوں ہے؟ حیرت کی بات ہے کہ اس ملک میں قانون تھوڑنے والوں کو طاقتور سمجھا جاتا ہے اور قانون کا احترام کرنے والے کو کمزور اور ڈرپوک۔ اس ملک میں چھوٹے موٹے چور چوری کر کے سالوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کے ماہ وسال گزارتے گزارتے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ امیر لوگ قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور کروڑوں کی چوریاں کرکے جیل جاتے ہوئے بھی وکٹری کا نشان بناکر ایسے فاتحانہ انداز میں داخل ہوتے ہیں جسے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو اور پھر وہاں پر بھی عام لوگوں سے الگ اے اور بی کلاس میں زندگی اپنی شان سے جیتے ہیں۔ اس ملک میں ایک عام تنخواہ دار ملازم سے ٹیکس کی وصولی تنخواہ وصول ہونے سے پہلے کی جاتی ہے لیکن دوسری طرف انہی قوانین کے خالق اور بنانے والوں کی اکثریت ٹیکس نادہندہ ہیں۔ اس ملک میں ایک طرف شادی بیاہ کی تقریبات پر دوسو کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف صوبہ سندھ کے ضلع تھر میں ہر سال غذائی قلت کی وجہ سے سینکڑوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس ملک کے کرتا دھرتا اپنے طبی معائنے کیلئے برطانیہ، فرانس اور امریکہ جاتے ہوئے لمحہ بھر بھی اس خاتون کے بارے میں نہیں سوچتے جو ہسپتال میں بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے منجمد کر دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے پنجاب میں ایک سرکاری ہسپتال کے باہر بچے کو جنم دے گئی۔ اس دوہرے معیار کی وجہ سے لوگوں کا قانون، اس کے رکھوالوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اعتماد اُٹھتا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، کوئٹہ، راولپنڈی اور پشاور میں جب لوگ کسی چور لٹیرے کو پکڑتے ہیں تو اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بجائے اپنے آپ انجام تک پہنچا دیتے ہیں۔ قاعدے، ضابطے اور قوانین ہمارے لئے اس لئے واجب الاحترام ہیں کیونکہ یہ ہمارے روزمرہ زندگی کے معاملات کو منظم کرنے، اس میں ربط اور ترتیب لانے کیلئے بنتے ہیں۔ ہم قانون کا احترام اس لئے کرتے ہیں کیونکہ یہ قوانین ہمارے مفادات، ہماری جان ومال، عزت وآبرو کا محافظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے انہی قوانین کا احترام کرنا، اس پر عمل کرنا ہم اپنے اوپر لازم سمجھتے ہیں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کے اندر انصاف بکنے لگے اور قانون غریب اور امیر کیلئے الگ الگ رنگ دکھائے تو قانون فطرت حرکت میں آجاتی ہے اور اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اس ملک میں ریاستی اداروں پر لوگوں کا اعتماد تب بحال ہوگا جب اس ملک میں قانون سب کیلئے ایک ہو۔ امیر ہو یا غریب، قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔ کورٹ کچہری ہوں یا تھانے اور پٹوارخانے، یہاں پر انصاف بکتا نظر نہ آئے بلکہ امیر اور غریب کیلئے انصاف کا ایک ہی معیار اور قانون کی ایک جیسی تشریح ہو تاکہ وہی قانون، قانوں نافذ کرنے والے اہلکاروں کیلئے شرمندگی اور ندامت کا باعث بننے کی بجائے ان کی اخلاقی جرأت کو مذید جلا بخشے اور انصاف ہوتا نظر آئے۔