تعلیم اور تعلیمی اداروں کا مستقبل؟

کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بار پھر26نومبر سے10جنوری تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے' حالانکہ6ماہ سے زائد کی بندش کے بعد اکتوبر کے آغاز میں ہی تعلیمی ادارے کھلے تھے۔ تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کے بعد والدین بچوں کے تعلیمی سال کیلئے پریشان ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کے مالکان بھی مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مکمل طور پر طلباء کی فیسوں پر انحصار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیاگیا ہے۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے اگرچہ اس دوران گھر سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا کہا ہے، تاہم پاکستان کے معروضی حالات میں گھر سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا بہت مشکل ہے' کیونکہ پہلی دفعہ جب تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تھا تو تعلیمی سلسلہ تقریباً بند ہوکر رہ گیا تھا، تعلیمی اداروں نے جو آن لائن سسٹم متعارف کرایا تھا اس سے طلباء کی بہت کم تعداد مستفید ہو رہی تھی، اکثریت ایسے طلباء کی تھی جو تعلیمی اداروں کے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تعلیمی سال کا آغاز ہی نہیں ہو سکا تھا۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیمی سسٹم اعلیٰ تعلیم کیلئے ہے، جس میں ایم اے سے اوپر کی کلاسوں کے طلباء ہی کماحقہ مستفید ہو سکتے ہیں، طلباء کیلئے صرف ہوم ورک ہی ضروری نہیں ہوتا بلکہ کلاس سے سیکھ کر وہ ہوم کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات طلباء کیلئے نصاب کی تکمیل ہے۔ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے تعلیمی سلسلے میں نصاب کا ایک چوتھائی حصہ بھی پورا نہیں ہو پایا ہے۔ چاروں صوبائی وزراء اور وفاقی وزیرتعلیم کی طرف سے امتحانات کو ملتوی کرنے کی بات کی گئی ہے' حالانکہ ایسے ماحول میں سب سے زیادہ توجہ نصاب کی تکمیل پر دی جانی چاہئے اور نصاب تسلی بخش حد تک پورا ہو جائے گا تو امتحان بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ کووڈ کے ایام میں بھی امتحان لیا جا سکتا ہے' جن تعلیمی اداروں میں طلباء کی تعداد زیادہ ہو وہاں پر مرحلہ وار لے لیا جائے۔ پنجاب کے وزیرتعلیم نے تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران تعلیم کے طریقہ کار پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرتبہ طلباء کو ہوم ورک کے بغیر نہیں جانے دیا جائے گا، اس مرتبہ ان چھٹیوں میں اس طرح ہوم ورک دینا ضروری ہے جیسے ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں
دیتے ہیں۔ بچوں کی اگلی کلاس میں پروموشن کا پچاس فیصد انحصار اس ہوم ورک پر ہوگا جبکہ50فیصد کے ایم سی کیوز کے ذریعے دئیے جائیں گے۔ اسی طرح پہلی سے آٹھویں تک کی کلاسز کا تعلیمی سال مارچ میں اختتام میں ہوگا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد وشمار کے بعد کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں سامنے آنے والے کورونا کیسز میں19 فیصد کیسز تعلیمی اداروں سے سامنے آئے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں مثبت کیسز کی شرح 1.8فیصد سے بڑھ کر3فیصد ہو چکی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے آنے سے متعلق فیصلہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوںکے بارے میں کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو عالمی وباء کورونا وائرس سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے وفاق اور چاروں صوبوں کا فیصلہ خوش آئند دکھائی دیتا ہے تاہم اس سے جڑے متعدد مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو طلباء کے والدین اور تعلیمی اداروں کے مالکان مشکلات کا شکار ہوں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ تعلیمی اداروںکو مکمل طور پر بند کرنے کی بجائے اگر تھوڑی لچک کا مظاہرہ کیا جاتا اور طلباء کو مرحلہ وار یعنی ہفتہ میں ایک دو دن محض ایک مختصر وقت کیلئے اسکول جانے کی اجازت دی جاتی تو تعلیمی سلسلے میں انقطاع اور تعطل آنے کے امکانات محدود ہو جاتے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ والدین بخوشی فیس بھی دیتے اور تعلیمی اداروںکے معاملات بھی چلتے رہتے کیونکہ اسکولوںکو مکمل طور پر بند کرنے کی صورت میں والدین کی طرف سے اسکولوں کو فیس کی ادائیگی اس بنیاد پر نہیں کی جا رہی تھی کہ جب طلباء اسکول نہیں جا رہے تو پھر فیس کیوں ادا کریں۔ یہ صرف طلباء اور اسکولوں کے درمیان ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کا اس شعبہ سے روزگار وابستہ ہے، لیکن نہ جانے کیوں اس مسئلے کو یونہی چھوڑ دیا گیا، یوں محسوس ہوتا ہے کہ دیگر بہت سے مسائل کی طرح تعلیمی اداروںکی بندش کے حوالے سے بھی عارضی بندوبست کیا گیا ہے، پہلی دفعہ جب وزارت تعلیم کی طرف سے فیصلہ آیا تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا پڑا تھا لیکن اب کی بار ایسے فیصلے کی توقع نہیں تھی' ہم نے کورونا کیساتھ جس طرح جینے کا فیصلہ کیا ہے جس طرح دیگر کاروبار زندگی کو چلانے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح تعلیمی اداروں کیلئے بھی گنجائش نکالنی ہوگی' ہفتے کے سات دن اور دن کے چھ گھنٹے پڑھانے کی کون بات کر رہاہے' کم ازکم ایسا فیصلہ تو کیا جائے کہ جس سے لگے کہ کورونا وائرس کے دوران تعلیمی ضروریات کا کسی حد تک بندوبست کر دیا گیا ہے۔