تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے موزوں انتظامات

خیبر پختونخوا حکومت نے کوروناوائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند کرنے کیساتھ باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھنے کانیا طریقہ کار وضع کر کے احسن قدم اُٹھایا ہے۔ صوبائی وزیرتعلیم کے مطابق ہرکلاس کے تمام بچوں کو ہفتے میں ایک دن لازمی سکول آنا ہوگا تاکہ اساتذہ ہوم ورک چیک کریں اوراگلے ہفتے کیلئے مزید ہوم ورک فراہم کر سکیں۔ ایک دن میں صرف ایک کلاس کے طلباء کو سکول بلایاجائے گا۔ جن سکولوں میں آن لائن کلاسز کی سہولت موجود ہے وہ آن لائن تعلیم کاسلسلہ23دسمبر تک جاری رکھیں گے، ہاسٹلزمیں موجود دوردرازعلاقوں کے طلباء کو بھی آن لائن کلاسزکے ذریعے پڑھایا جائے گا۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 10.35فیصد ہونے کے بعد تعلیمی اداروں میں تدریس کے سلسلے کی معطلی ضرورت بلکہ مجبوری بن گئی تھی۔ خیبرپختونخوا میں طلبہ کی مشکلات اور حالات کے تناظر میں محکمہ تعلیم نے جو طریقہ کار وضع کیا ہے یہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق امر ہے۔ بہت سارے سکولوں کے طلبہ کو انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں ہوتی جہاں انٹر نیٹ کی سہولت میسر ہو بھی وہاں معاشی معاملات آڑے آجاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کنکشن حاصل کی بھی جائے تو پھر اسے استعمال کرنے اور آن لائن تعلیم کے حصول کیلئے بھی تھوڑی بہت بلکہ کافی حد تک آئی ٹی سے واقفیت درکار ہوتی ہے جس کی ہر طالب علم اور ہر گھرانے سے اس کے انتظام کی توقع نہیں رکھی جاسکتی، پھر گھر میں بچے زیادہ ہوں تو ان کیلئے الگ الگ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر سسٹم اور الگ کمرے کی بھی ضرورت پڑتی ہے جس کا انتظام متوسط گھرانے کیلئے مشکل بلکہ نا ممکن ہوتا ہے کجا کہ ہر طالب علم کو اس طرح کی سہولت میسر آنے کی توقع کی جائے، ان تمام مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کی تحسین نہ کرنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ صوبے میںاختیار کردہ طریقہ کار بچوں کو تعلیم سے جڑے رکھنے کیساتھ ساتھ سکول سے بھی جڑے رکھنے کا باعث ہوگا اور ہفتہ وار اساتذہ سے رہنمائی اور کارکردگی کے تبادلے وہدایات سے تعلیم کاحرج کم ہوگا۔ جن سکولوں میں آن لائن تعلیم کی سہولت میسر ہے ان سکولوں کیلئے بھی اگر ہفتہ وار ایک جماعت کے طلبہ کی احتیاطی تدابیر کیساتھ حاضری کا طریقہ کار اپنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ آئی ٹی کے حوالے سے محولہ مسائل ان سکولوں میں بھی دیکھے گئے ہیں بعض سکولوں میں خصوصاً ان سکولوں میں جن میں طالب علموں کے معاشی حالات ایک جیسے نہیں اور بعض طالب علموں کو اسی طرح کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر نے کا موقع ان کے والدین کی ملازمت کے باعث مل رہا ہے چونکہ اس طبقے کے طالب علموں کے والدین اتنے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور نہ ہی اتنے سہولیات رکھتے ہیں وہاں خاص طور پر مسائل یہ سامنے آتے ہیں کہ بعض طالب علم آن لائن ٹاسک پوری کر لیتے ہیں لیکن بہت سے طالب علم مختلف وجوہات جن میں والدین کی لاپرواہی بھی شامل ہے مقررہ ہدف حاصل نہیں کرپاتے اور یوں ایک ہی کلاس کے بچے تقسیم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان مسائل سے بچنے کیلئے ہفتہ وار کلاسوں کا انعقاد ان سکولوں میں بھی ہوں تو بہتر ہوگا اور اگر خدانخواستہ صورتحال خراب ہوتی ہے تو پھر مجبوراً آن لائن کلاسز ہی کا طریقہ کار اپنا نا مجبوری ہوگی، ممکن ہے حکومت کو بھی محولہ طریقہ کار سے ہٹ کر حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑے البتہ معروضی حالات میں ہفتہ وار کلاسوں کا انعقاد ہوم ورک اور طالب علموں کی کارکردگی کا جائزہ ورہنمائی بہتر طریقہ کار نظر آتا ہے۔ دور دراز کے طالب علموں کو ہاسٹلز میں رہنے کی اجازت سے یونیورسٹی اور کالجوں کے ان طالب علموں جن کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت سرے سے میسر نہیں یا پھر بہت کمزور وسست ہے، ان کو حصول تعلیم میں مشکل کاسامنا نہیں ہوگا اور وہ متاثر نہیں ہوں گے، یہ بھی ایک موزوں فیصلہ ہے البتہ ہاسٹلز میں رہائش مہیا کرتے ہوئے اگر ممکن ہو تو طالب علموں کی کمرے میں تعداد کم اور ان کو کوشش کر کے محدود رکھا جائے تو متاثر ہونے کا خطرہ کم سے کم ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ محولہ تمام انتظامات کو منصوبے کے مطابق نہ صرف یقینی بنایا جائے گا بلکہ ان کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیکر ضروری ترامیم اوربہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔