پابندی کا مذاق

ہمارے وقائع نگار کے مطابق پشاور میں پابندی کے باوجود پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال جاری ہے جس کیخلاف حکام کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ پشاور میں پولی تھین کے استعمال پر پابندی تو عائد کر دی گئی ہے لیکن کچھ مخصوص علاقوں،ہوٹلوں اور دیگر جگہوں پر اس کے استعمال میں تھوڑی سی کمی آئی ہے مگر نتائج انتظامیہ کی کارروائیوں اور دعوئوں کے برعکس ہیں۔ پولی تھین کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے روزگار کے متاثر ہونے سے ہمدردی رکھنے کے باوجود اجتماعی مفاد میں پولی تھین بیگز کے خاتمے کیلئے مئوثر اقدامات میں ناکامی حکومت کی ناقص کارکردگی ہی شمار ہوگی۔ حکومت کو کسی امر کا اعلان کرتے ہوئے تمام امور کو مد نظر رکھنا اور متبادل انتظام یقینی بنانا چاہئے، پولی تھین بیگز پر پابندی کے اعلان کے وقت پلاسٹک کے تھیلے بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان کو متبادل کاروبار اور ڈی گریڈیبل تھیلے بنانے کیلئے خود کو تیار رکھنے کا پورا موقع دیا گیا تھا لیکن حکومتی اعلانات پر عدم عملدرآمد کے معمول کے پیش نظر انہوں نے زحمت ہی گوارا نہ کی جبکہ خود حکومتی سطح پر بھی افسوسناک حد تک غفلت کا ارتکاب کیا گیا جس کا نتیجہ پابندی کے باوجود پولی تھین بیگز کی تیاری اور استعمال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جس کا حکومت کوسخت نوٹس لینا چاہئے، حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک حکومت اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات نہیں کرے گی اورپلاسٹک بیگز تیار کرنے والوں کو اس امر کا یقین نہیں آئے گا کہ اب یہ کاروبار کسی صورت ممکن نہیں رہا تو نہ صرف اس کی تیاری بند ہوگی بلکہ پنجاب سے لاکر یہاں فروخت کرنے کا عمل بھی رک جائے گا۔ یہ چند افراد کا نہیں اجتماعی طور پر ماحول کی خرابی اور شہری سہولیات میں خلل اور رکاوٹ کا باعث عمل ہے اور یہ مسئلہ روز بروز سنگین ہو رہا ہے حکومت جتنا جلد درست اقدام کرے اتنا بہتر ہوگا۔
مولانا طارق جمیل کی وضاحت
معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی جانب سے ایک شادی میں دوسو کروڑ کی بجائے دس کروڑ کے اخراجات بتانا جبکہ انکم ٹیکس کے حکام کا دوسو کروڑ بتانے کا معمہ تو تحقیقات کے بعد ہی طے ہوگا۔ایسا لگتا ہے کہ اس شادی پر اُٹھنے والے اخراجات کامعاملہ دبا دیا گیا ہے جس سے قطع نظر بہرحال مولانا طارق جمیل کی جانب سے نکاح پڑھانے کے دس لاکھ روپے نہ لینے کا بیان اس غلط فہمی کا ازالہ ہے جو ان کے حوالے سے میڈیا میں آیا تھا۔ سوشل میڈیا سے مقامی میڈیا پر آنے والے اس اطلاع کی مولانا طارق جمیل جلدی سے وضاحت کرتے تو ان کو میڈیا کو جھوٹا، لغو اور دجالی قرار دینے کی نوبت نہ آتی۔ مولانا طارق جمیل میڈیا کے حوالے سے اپنے ہی ایک غیرمحتاط جملے پر معذرت کر چکے ہیں، اب میڈیا کو اجتماعی طور پر ان القابات سے نوازنا مناسب نہ تھا۔ مولانا طارق جمیل خود بھی میڈیا پر آتے رہتے ہیں، ان سے سوال ہونا چاہئے کہ اگر میڈیا دجالی ہے توپھر کیا ان کو اس سے مکمل اجتناب نہیں کرنا چاہئے؟ علاوہ ازیں علمائے کرام اگر اجتماعی طور پر اسراف سے بھرپور اور شرعی پردے کی عدم پابندی والے ماحول والی شادیوں میں جانے سے عملی طور پر اجتناب برتیں اور خاندانی تعلق ہونے پر مبارک باد دینے، ان کے گھر تشریف لے جانے کا وتیرہ اپنالیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ علمائے کرام کو اس طرح کی شادیوں کی مذمت اور اس طرح کے اسراف کیخلاف باقاعدہ مہم چلانی چاہئے۔مولانا طارق جمیل ایک عالم باعمل شخصیت ہیں جن کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اگر مولانا طارق جمیل ہی اس نیک کام کی ابتداء کریں تو عملی تبلیغ اور نہی عن المنکر کی مثال قائم ہوگی اور آخرت میں یقیناماجور بھی ہوں گے۔
دخل در معقولات
محکمہ بلدیات خیبرپختونخواکے ترقیاتی منصوبوںبارے ایم پی ایزکوآگاہ نہ کرنے پر ناراضگی سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ محکمہ بلدیات کو مستقبل میں شروع کئے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایم پی ایز کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کا بھی کوئی جواز نہیں، ارکان صوبائی اسمبلی کے عوامی نمائندے ہونے میں کلام نہیں لیکن بلدیاتی امور سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں بلکہ یہ کونسلرزاور ناظمین کے معاملات ہوتے ہیں جو بدقسمتی سے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے باعث موجود ہی نہیں۔ سیاسی حکومتوں کو اس امر کا الزام دیا جاتا ہے کہ وہ اراکین صوبائی اسمبلی کی مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کیلئے بلدیاتی انتخابات نہیں کراتیں اور یہ بہت حد تک حقیقت بھی ہے۔ اراکین صوبائی اسمبلی کی جو ذمہ داریاں ہیں بہتر ہے کہ وہ ان تک محدود ہوں اور دخل در معقولات سے گریز کریں۔ حکومت جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروائے اور شہری معاملات ومسائل جتنا جلد ممکن ہوسکے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو سونپ دیا جائے۔