آن لائن تعلیم اور معیار تعلیم

پشتو زبان میں ایک ضرب المثل ہے مفہوم جس کا کچھ یوں بنتا ہے کہ میں بھوک سے مر رہا ہوں اور یہ میرے سرہانے پراٹھے ڈھونڈ رہا ہے، سرکاروالا مدار نے ایک بار پھر یہ جو کورونا کی مبینہ شدت اختیار کرنے کی بناء پر تعلیمی ادارے 26نومبر 2020 سے 10 جنوری 2021ء تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر تو یقینا کسی کو بھی معترض نہیں ہونا چاہئے کہ انسانی جانوں کی حفاظت اور خصوصاً چھوٹے چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ انہیں سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بلوا کر وباء کو پھیلنے کی دعوت نہ دی جائے اور سوشل میڈیا پر اس حکومتی فیصلے پر طلبہ وطالبات کے ایسے ویڈیوز اور تصویریں بھی وائرل ہو رہی ہیں جن میں ان زبردستی کی ''چھٹیوں'' پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم جس پشتو ضرب المثل کا تذکرہ ہم نے کالم کے آغاز میں کیا ہے اس کا کارن یہ ہے کہ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے البتہ یہ بھی کہا ہے کہ26نومبر سے24دسمبر تک آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا، 25دسمبر سے10جنوری تک سردیوں کی چھٹیاں ہوں گی۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں ریویوسیشن ہوگا جس کے بعد 11جنوری کو تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے اور ہم دراصل وفاقی وزیر تعلیم کے اس فیصلے پر چند گزارشات عرض کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ صرف ہمارا ہی خیال نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نوع کے سوال اُٹھائے جارہے ہیں کہ حکومت نے تو آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی بات کر کے بظاہر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے تاہم سوال یہی اُٹھایا جارہا ہے کہ جن کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت نہ ہو یاجن دور دراز علاقوں میں سرے سے یہ سلسلہ موجود ہی نہیں وہاں کیا کیا جائے گا؟ اس کا بظاہر جواب تو وزیر تعلیم نے پریس کانفرنس میں بھی دیا ہے یعنی جہاں آن لائن کی سہولت موجود نہیں وہاں اساتذہ ہوم ورک فراہم کریں گے، تاہم اسے تومقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات ہی قرار دیا جا سکتا ہے یعنی ہمارے ہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟ اور کیا طلبہ میں (بہ استثنائے چند) یہ صلاحیت ہے کہ وہ صرف ہوم ورک سے ہی اپنی تعلیمی کمی پوری کرسکتے ہیں یعنی اس طرح کیا وہ لکیر کے فقیر ہی نہیں رہیں گے؟ کہ کاپیوں میں لکھی ہوئی عبارت کو نقل کرتے ہوئے یا پھر بڑی کلاسوں کے طلبہ ہدایات کے مطابق کتابوں کا مطالعہ کرتے وقت عبارتوں کے اصل مفہوم کو اسی طرح سمجھ سکیں گے جیسا کہ کلاسوں میں اساتذہ ان اسباق کو پڑھاتے ہوئے ان کی تشریح کرتے ہیں؟ یا پھر بعض طلبہ کے ذہن میں سوال اُبھرتے ہیں تو وہ اساتذہ کرام سے ان کی وضاحت کیلئے درخواست کر کے زیادہ بہتر طور پر ذہن نشین کرلیتے ہیں۔ چلئے آن لائن تعلیم کے ذریعے تو جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت اور کمپیوٹر موجود ہیں وہ پھر بھی کچھ نہ کچھ استفادہ کرلیں گے مگر محروم سہولیات والے طلبہ تو اسی طرح محروم رہیں گے اور ان کے ذہنوں میں اُبھرنے والے سوالات تشنہ وضاحت ہی رہیں گے۔ یوں نیٹ کی سہولت اور عدم سہولت کی وجہ سے مسابقت کا معیار بری طرح متاثر رہے گا اور ذہنی استعداد کے حوالے سے طلبہ کے دو واضح گروپوں میں بٹ جانے کے خدشات موجود ہیں، خیر ویسے بھی ہمارے ہاں تعلیم کا معیار جس پستی سے دوچار ہے اور لارڈ میکالے نے برصغیر کیلئے جو نظام تعلیم بنا کر لاگو کرایا تھا اس کا مقصد تعلیم کے اعلیٰ وارفع معیارات کو چھونا ہرگز نہیں تھا بلکہ انگریزوں کے نظام حکومت چلانے کیلئے ''کلرک بادشاہوں''کی ایک فوج ظفرموج تخلیق کرنا تھا اور یہ مقصد ''گھوٹا''کے اصولوں پر چل کر بھی حاصل کیا جاسکتا تھا جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صرف اپنے ہمدردوں، بہی خواہوں اور وفاداروں کی اولاد کیلئے مختص کیا گیا تھاجہاں ان مراعات یافتہ طبقات کی اولادوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کر کے یا تو انڈین سول سروس کے ذریعے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر کے غلام ہندوستان کو غلام ہی رکھنا مقصود تھا یا پھر ان وطن فروش خاندانوں کے چشم وچراغ آگے مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان کی اہم یونیورسٹیوں میں پہنچا دیئے جاتے۔ بدقسمتی سے اس وقت وہی انگریز دور کا تعلیمی نظام مزید ترقی کر کے ہمیں تگنی کا ناچ نچارہا ہے۔ دنیا کی یونیورسٹیوں میں پاکستان کی یونیورسٹیاں کسی نمایاں مقام پر دکھائی ہی نہیں دیتیں یعنی معیار کے حوالے سے ہم نہ کسی قطار میں ہیں نہ شمار میں، ادھر پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگریاں یہ تعلیمی ادارے جس تیزی سے بانٹ رہی ہیں ان پر بھی حیرت ہوتی ہے یعنی ہمارا تعلیمی معیار انحطاط کا جس بری طرح شکار ہے اس کی وجہ وہی انگریز کے زمانے میں مشہور ہونے والا مقولہ ہی ہے یعنی ''گھوٹالائزیشن از دی بیسٹ کوالیفکیشن فار دی میٹریکولشین ایگزامینیشن'' یہی وجہ ہے کہ اگر آج ہمارے ہاں آن لائن تعلیم کو ہر ''مرض کی دوا'' سمجھ لیا گیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ پہلے ہی ''تعلیم یافتہ بیروزگاروں'' کی کھیپ کی کھیپ ملک بھر میں گھوم پھر رہی ہے،
(باقی صفحہ 7پر)