کورونا کی دوسری لہر اور حکومتی انتظامات

جس گھر میں بڑے روایات کی پاسداری نہیں کرتے اس گھر کے بچے سے کبھی بھی تمیز سے پیش آنے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ قوانین تب کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں جو سب کیلئے ایک برابر ہوں، جس ملک میں امیر وغریب کیلئے الگ الگ قوانین ہوں وہاں قوانین کی دھجیاں ہی بکھیری جاتی ہیں۔ وطن عزیز میں قوانین کے احترام کے بھاشن بہت زیاد دئیے جاتے ہیں مگر یہاں پر قوانین کے لاگو ہونے میں بہت زیادہ مشکلات پیش ہوتی ہیں کیونکہ یہاں امیر اور غریب ایک ہی جرم میں پولیس اسٹیشن کے اندر ہونگے مگر دونوں کو ایک قانون کے سائے تلے مختلف طریقے سے برتا جائے گا۔ امیر کو پروٹوکول باہر کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن میں بھی دی جاتی ہے جبکہ غریب کی باہر بھی چھترول ہوتی ہے اور جب وہ جرم میں اندر جاتا ہے تو وہاں بھی اس کی قسمت میں وہی چھترول ہوتی ہے یعنی اندر اور باہر کا ماحول دونوں کیلئے یکساں ہوتا ہے۔ زیادہ کرپشن والا پلی بارگیننگ کرکے مزے لوٹتا ہے جبکہ کچھ لاکھ کی کرپشن والے بندے کو پولیس اتنا ذلیل کردیتی ہے کہ وہ اس وقت کو کوستا ہے جب قسمت کے منحوس لمحے میں اس نے بنک سے قرض بہ امر مجبوری لیا ہوتا ہے مگر وہ بعد میں اسے پھر ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور یوں اس کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے کیونکہ یہاں پھر بات یکساں قوانین کی آتی ہے۔ سائبر قوانین، جنسی ہراسانی کے قوانین، کم عمری میں شادی کے قوانین، بچوں کیساتھ جنسی درندگی، سورہ، غگ، کاروکاری کو روکنے سمیت بہت سے قوانین میدان میں آئے۔ اب حالیہ کورونا کی روک تھام کیلئے بھی کچھ ایس اوپیز بنائے گئے جو قوانین کی ہی شکل ہے جس میں کہا گیا کہ کوئی بندہ ماسک کے بغیر نہیں جائے گا، سینیٹائزر کا استعمال کرے گا اور سماجی دوری رکھے گا کیونکہ اس بیماری سے بچنے کا یہ واحد علاج ہے۔ تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری ادارے اس بیماری کے باعث بند کر دیئے گئے تھے جس سے ملکی معیشت کو خاصا دھچکا بھی لگا۔ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ ڈھے گیا کیونکہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمارے پاس کوئی نظام نہیں تھا۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا بھی کوئی خاطرخواہ سسٹم ملک میں موجود نہیں اس لئے اس صورتحال سے نمٹنا ہمارے لئے اور ہمارے حکمرانوں کیلئے بہت پریشانی کا باعث تھا۔ لوگ ایس اوپیز کو نہیں مان رہے تھے، جب لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن لاگو کیا گیا تب بھی لوگ کورونا کو ایک مذاق ہی سمجھ رہے تھے۔ جس کے بعد کچھ سخت فیصلے
کئے گئے، شادی ہالز، سکولز، یونیورسٹیاں اور بہت سے ادارے زبردستی بند کرائے گئے۔ جب کورونا کا زور ٹوٹ گیا تو رفتہ رفتہ اداروں کو کھول دیا گیا مگر جب کورونا کی نئی لہر کی بازگشت سنائی دینے لگی اور دوبارہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے قصے چلنا شروع ہوئے تو عوام نے ایک دفعہ پھر ان قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا کیونکہ یہاں پر حکومت کی جانب سے کچھ ایسے اقدامات کی سرکوبی نہیں کی گئی جس سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ سب ایک ٹوپی ڈرامہ ہے۔ ایک طرف حکومتی جلسے ہورہے ہیں جہاں پر ایس اوپیز کو فالو نہیں کیا جاتا تو دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے جلسے تواتر سے جاری ہیں جن پر حکومت نے کوئی پابندی نہیں لگائی اور لگا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ حکومت نے خود سوات کے گراسی گراؤنڈ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کیا تھا تو گلگت، چلاس میں مریم نواز اوربلاول بھٹو نے بھی اپنا پاور شو کیا۔ پھر پی ڈی ایم نے پشاور میں لوگوں کو اکٹھا کیا اس دوران کورونا کے کیسز کی بات بھی شروع ہوگئی اور تعلیمی ادارے ایک دفعہ پھر بند کئے گئے، شادی ہالز بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے، مارکٹییں بند کرنے کے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا کہ جو ان ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرے گا ان کیخلاف تادیبی کارروائی کی
جائے گی۔ پشاور میں شادی ہالز پر چھاپے مارے گئے، ایس او پیز نہ فالو کرنے پر جرمانہ کیا گیا تو قصہ خوانی بازار میں تاجروں نے احتجاج کیا، تعلیمی اداروں کی بندش کا غیردانشمندانہ فیصلہ کیا گیا کیونکہ کورونا کی وبا سے بچوں کا تعلیمی سال تباہ ہوچکا ہے۔ اب سمارٹ لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی لاک ڈاؤن زیرغور نہیں کیونکہ سب سے زیادہ ایس اوپیز کی دھجیاں مارکیٹوں اور پبلک ٹرانسپورٹ، بازاروں میں بکھیری جاتی ہیں۔ سکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پھر بھی ایس او پیز کو فالو کیا جاتا ہے مگر طلبہ کا آزادانہ تعلیمی اداروں میں پہنچنا مسائل پیدا کر سکتا تھا اس لئے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا۔ جب حکومت خود ایس اوپیز پر عمل نہیں کرتی، جلسے جلوس اور پراگراموں میں کوئی ماسک پہن کر نہیں جاتا نہ ہی سماجی دوری رکھی جارہی ہے تو عوام سے اس کی توقع ہی فضول ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں عوام اسی طرح سفر کر رہے ہیں جس طرح پہلے کرتے تھے، جس سے کورونا میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پبلک ٹرا نسپورٹ میں اسی طرح سواریوں کو ٹھونسا جارہا ہے یعنی سماجی دوری کی ایسی کی تیسی کی جارہی ہے، لوگوں سے پوچھا جائے تو وہ ہنستے ہوئے بولتے ہیں کہ ایس اوپیز کس چڑیا کا نام ہے یعنی ثابت ہوا کہ جب تک حکومت خود ایس اوپیز پر عمل نہیں کرتی تو عوام بھی ایس اوپیز کو ایسا ہی تصور کریں گے کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔