اردو ادب کی نامورشخصیت بانوقدسیہ کا 92 واں یوم پیدائش, گوگل کاخراجِ عقیدت

ویب ڈیسک (لاہور) : اردو ادب کی شاہکار تصانیف راجہ گدھ اور دیگر کی خالق مشہور ناول نویس، افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار بانو قدسیہ کا آج 92واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے، بانو قدسیہ 28 نومبر سنہ 1928 کو فیروز پور(بھارت))میں پیدا ہوئی تھیں۔

انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کردیا۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جبکہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا۔اس عظیم شخصیت کے اعزاز میں گوگل نے اپنا ڈوڈل بھی ان کے نام کردیا۔

انہوں نے کئی ناول بھی تحریر کیے۔ ان کا شہرہ آفاق ناول راجہ گدھ اپنے اسلوب کی وجہ سے اردو کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ان کی دیگر تصانیف میں ایک دن، شہرلا زوال، پروا، موم کی گلیاں، چہار چمن، دوسرا دروازہ، ہجرتوں کے درمیاں اور ان کی خود نوشت راہ رواں کے نام سر فہرست ہیں۔

بانو قدسیہ کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ناقابل ذکر، امر بیل، توجہ کی طالب،دست بستہ، بازگشت، سامان وجود ، آتش زیرپا اور کچھ اور نہیں کے نام شامل ہیں۔

سنہ 1950 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اورمشہور افسانہ نگاراورڈرامہ نویس اشفاق احمد سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔شادی کے بعد بانو قدسیہ نے اپنے شوہر کے ہمراہ ادبی پرچہ داستان گو جاری کیا۔