کورونا کا پھیلائو، سیاست کانہیں خدمت خلق کا وقت ہے

ملک بھر میں کورونا کے پھیلائو میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے ضمن میں یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کی جانی چاہیئے کہ عوام الناس نے انفرادی واجتماعی طور پر اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا نہیں کیا۔گلیوں بازاروں اور دیگر پر رونق مقامات کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کی80فیصد اکثریت کورونا ایس او پیز پر عمل کو توہین گردانتی ہے ایک طبقہ بد قسمتی سے وہ بھی ہے جو اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ کورونا وبا حقیقت نہیں بلکہ دشمنان اسلام کا پروپیگنڈہ ہے۔معمولی بخار میں مبتلا شخص کو عجیب وغریب قسم کے انجکشن لگا کر ماردیا جاتا ہے اس طرح کورونا کا ہواپھیلایا جارہا ہے۔اس سوچ کو فقط ناخواندگی سے اس لئے نہیں جوڑا جا سکتا ہے کہ بہت سارے بظاہرپڑھے لکھے افراد بھی یہی سوچ رکھتے ہیں بلکہ وہ اس انسانیت دشمن فہم کے حق میں دلائل کا انبار لگاتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر اولین لہر کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ۔گزشتہ روز کورونا کے 3306نئے کیسز سامنے آئے جبکہ40افراد اس وباء کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر اور نرسوں کے علاوہ معاون طبی عملہ بھی کرونا سے متاثر ہورہا ہے۔ کورونا کے پھیلائو کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی بندش اور امتحانات کے التواء کا اعلان دوروزقبل کردیا گیا بد قسمتی سے دینی مدارس کی ایک تنظیم نے مدارس بند نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا مدارس کی وجہ سے نہیں پھیل رہا بلکہ اس کی دیگر وجوہات ہیں۔دینی حلقوں کی تو بنیادی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ عوام کی شعوری طور پر رہنمائی کا فریضہ ادا کریںمحراب ومنبر پر عوام الناس کے اعتماد اور محبت کے تناظر میں اگر دینی حلقے سنجیدگی سے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں تو کورونا کے خلاف آدھی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔اسے بد قسمتی ہی کہیں گے گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اکابرین اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ کورونا وباء اتنی شدید نہیں جتنا حکومتی پروپیگنڈہ ہے۔اس موذی وبا کی پہلی لہر کے دوران حکومت کہتی تھی اتنا کورونا خطرناک نہیں جتنا اپوزیشن والے شور مچارہے ہیں ۔ہر دو رویئے قابل افسوس اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔چند ماہ قبل حکومت غیرسنجیدہ تھی اور اب اپوزیشن اتحاد عجیب بات یہ ہے کہ اس عرصہ میں دونوں کے درجنوں رہنما اور معاونین کورونا کا شکار ہوئے گزشتہ روز بلاول بھٹو کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگئی ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اپوزیشن اتحاد کسی تاخیر کے بغیر آگہی مہم شروع کرتا اس کے پرجوش کارکنان عوام کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے اور سب ملکر اس وبا سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے۔ہمارے یہاں چونکہ سیاست کسی نظریہ پر نہیں دشنام طرازی اور پگڑیاں اچھالنے کا ریکارڈ بنانے پرہوتی ہے اس لئے حساسس معاملات کی طرح موذی امراض اور وبائوں پر بھی سیاست کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔مارچ اپریل میں وزیراعظم تواتر کے ساتھ کہتے تھے کورونا بس معمولی بخار ہے پیناڈول اس کا علاج،پھر یہ کہ یہ اشرافیہ کا پروپیگنڈہ ہے آج جب مارچ اپریل کے مقابلہ میں صورتحال زیادہ خطرناک ہے تواپوزیشن کہہ رہی ہے حکومت اس کے جلسوں سے خوفزدہ ہو کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر دونوں کے موقف کو درست مان لیا جائے تو پھر اس وبائی مرض سے اب تک جو سات ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور تین لاکھ چھیاسی ہزار ایک سو اٹھانوے متاثر ہوئے ہیں یہ سب کیا ہے؟بہت احترام کے ساتھ اس ملک کے سیاست دانوں ،اہل دانش،مذہبی رہنمائوں اوراس دوسرے سماج سدھاروں کی خدمت میں یہ عرض کیا جانا چاہیئے کہ بندگان خدا!اپنی لڑائیوں نفرتوں اور عدم برداشت کو کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھئے اس وقت بھی ملک بھر میں50ہزارکے قریب کورونا متاثرین زیر علاج ہیں4سو کے لگ بھگ وینٹی لیٹر پر ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ میں ذمہ دارانہ طرز عمل کے مظاہرے کی بجائے اگر مگر سے بندھے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو ہی زندگی کی حقیقت اور اپنی سچائی کے طور پر پیش کرنے والے عوام کے دوست نہیں بلکہ کھلے دشمن ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب کورونا سے چار اور کی دنیا متاثر ہورہی ہے دنیانئے نئے قوانین لارہی ہے روزگار کے ذرائع محدودہورہے ہیں ترقی یافتہ ممالک اپنے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ سائنسی تحقیق پر صرف کر کے اس موذی وباء کا علاج دریافت کررہے ہیں ہمارے یہاں تلخ ترین حقائق کا سامنا کرنے اور عوام کی درست سمت رہنمائی کی بجائے دشنام طرازیوں کا مقابلہ جاری ہے کچھ وقت بچ رہتا ہے تو سازشوںکی کچھڑی پکانے کے لئے ہنڈیا الزامات کے ایندھن سے جلنے والے چولہے پر رکھ دی جاتی ہے۔یہ صورتحال افسوسناک ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔مکرر یہ عرض کرنے کی ضرورت ہے کہ خدا کے لئے کورونا وباء کو سنجیدگی سے لیجئے۔سیاست وحکومت کے لئے ایک پررونق پھر میراسماج ضرورت ہوتا ہے خاکم بدہن انفرادی واجتماعی طور پر اپنائے گئے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے رونقیں اُجڑ گئیں تو کیسی حکومت اور کس کام کی سیاست دنیا بھر میں سیاست حصول حکومت برائے خدمت خلق کی فہم پر ہوتی ہے ہمارے یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔اقتدار سب چاہتے ہیں خلق خدا کے لئے اپنی ذات جتنا درد بھی کسی کو محسوس نہیں ہوتا۔اس فہم پر نظر ثانی کی ضرورت ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جس ملک میں جنازوں پر سیاست ہو ٹھٹھہ اڑایا جائے اور اس ٹھٹے بازی کے حق میں دلائل گھڑے جائیں وہاں سنجیدہ فہمی جاگتی آنکھ کا خواب کہلاتی ہے۔کورونا وباء کی جاری لہر گزشتہ لہر کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک ہے یہ بات دنیا بھر کے معالجین سمجھا رہے ہیں لیکن ہمارے یہاں ایک ذات میں عالم ،طبیب،رہنما اور دانشور جمع رکھے جاتے ہیں اس لئے ہر شخص اپنا راگ الاپے چلے جارہا ہے۔کوئی بھی اس امر پر غور کرنے کو تیار نہیں کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے وباء کا پھیلائو بڑھنے سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ خدا کے لئے وبائوں اور اموات پر سیاست کے خوانچے لگانے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیجئے یہی ہمارے آج اور کل کی بنیادی ضرورت ہے۔