کراچی کے اصل مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے

وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ کراچی کے مسائل سنجیدہ اقدامات سے حل ہوں گے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں کراچی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تجاوزات ہٹانے کے لئے پہلے مکینوں کیلئے متبادل انتظامات کیئے جائیں۔اجلاس میں11کھرب روپے کے کراچی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ غور کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ کراچی کے مسائل سنگین ہیں اصلاح احوال انقلابی خطوط پر اقدامات سے ہی ممکن ہے لیکن اصلاح احوال کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے مشاورتی اجلاس میں سندھ حکومت کی نمائندگی کا نہ ہونا بذات خود ایک سوال ہے۔ثانیاً یہ امر بھی اہم اور جواب طلب ہے کہ کیا1988ء سے 2018ء کراچی کی نمائندگی کے98فیصد حصے پر کلی دسترس رکھنے والوں سے بھی کوئی سوال کر سکے گا کہ پچھلی7حکومتوں کے اتحادی رہنے والے اب آٹھویں حکومت میں بھی شامل ہیں تو انہوں نے مسائل کے حل کیلئے کیا اقدامات اٹھائے؟کیا کراچی کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب بنیادی ذمہ داروں کے تعین کا سوال ہو تو لسانی نفرت ہنڈیا چولہے پر چڑھا دی جائے؟ہماری دانست میں کراچی کے مسائل حقیقی معنوں میں اس وقت تک حل نہیں ہوسکتے جب تک ان مسائل کے ذمہ داروں سے باز پرس نہیں ہوتی۔تجاوزات کرنے والوں کے لئے متبادل انتظام بہت حیران کن ہے یعنی ایک غیر قانونی کام کا انعام قانونی طور پر متبادل انتظام کی صورت میں کیا جائے۔اڑھائی سے تین کروڑ کی آبادی والے کراچی کا اول مسئلہ غیر حقیقت پسندانہ انتخابی حلقے ہیں جن کی وجہ سے شہریوں کی حقیقی طور پر منتخب اداروں میں نمائندگی نہیں ہو پاتی اور مخصوص گروپ اس نمائندگی پر قابض ہیں۔بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ اب بھی کراچی کے بنیادی مسائل کو شعوری طور پر سمجھنے کی بجائے خاص فہم اورنظر سے دیکھا اور حل تلاش کیا جارہا ہے مسائل ضرور حل ہونے چاہئیں مگر یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس،کے ایم سی،ضلع کونسلوں ،واٹر بورڈ سمیت کراچی کے دیگر اداروں میں سیاسی بھرتیوں سے پیداشدہ عذابوں کا علاج بھی نیک نیتی سے تلاش کرنا ہوگا۔
آسڑیلوی حکومت کا احسن فیصلہ
آسٹریلیا کی حکومت نے افغانستان میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث اپنے10فوجیوں کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے برطرف آسٹریلوی فوجی39نہتے افغان مردوزن کو بلاوجہ قید اور قتل کرنے میں ملوث تھے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے دیگر ممالک میں بھی آسٹریلوی حکومت کی طرح نہتے شہریوں کے قتل میں ملوث فوجیوں کے خلاف انصاف پر مبنی کارروائیاں کی ہوتیں اس سے انصاف کا بول بالا ہوتا مگر بد قسمتی سے امریکہ سمیت چند دیگر ممالک نے اپنے فوجیوں کے جرائم کو چھپانے کے لئے بھونڈے جوازات پیش کئے جس سے عسکریت پسندوں کو عوامی ہمدردی حاصل ہوئی۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آسٹریلوی حکومت کو چاہیئے کہ39مقتولین کے ورثا کی بحالی کے لئے بھی انسانی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ مظلوم خاندان کی داد رسی ہوسکے۔