جمہوریت انصاف اور مساوات

مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ سیاست دانوں پر الزامات کی قیمت میں اگلے ہوئے لفظوں سے شکم سیری کرنے والے کہتے ہیں ملکی محکموں پر تنقید بھاری ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے ۔بنیادی سوال جسے ہم ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں یہ ہے کہ کیا اس ملک میں کوئی دستور بھی ہے یا صاحب''غلیل''کی غلیل میں رکھا پتھر ہی دستور ہے؟۔دستور ہے تو ہر اس میں خاص وعام سب کا کردار اور حد ادب ہے۔بجا کہ سیاستدان فرشتے نہیں ہیں۔ہونا بھی نہیں چاہیئے فرشتہ انہیں۔ گوشت پوست کے انسان ہی چاراور کے لوگوں کے مسائل اور حالات ومعاملات کو سمجھ سکتے ہیں۔سیاستدانوں سے غلطیاں سرزد ہوئیں مگر کیا باقی کا مل واشرف لوگوں سے کبھی غلطی سرزد نہیں ہوئی؟یہی وہ نکتہ ہے کہ کم از کم مجھے بلاول بھٹو کی یہ بات اچھی لگی کہ جب تک اس ملک میںجج، جرنیل،اور سیاستدان کے لئے ایک قانون اور نظام انصاف نہیںہوگا انصاف کی بالا دستی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ہماری بد قسمتی ہے کہ جب سے نظریاتی سیاست کی جگہ کاروباری سیاست نے لی ہم مارکیٹ کے اتار چڑھائوکے حساب سے سیاسی عمل کا تجزئیہ کرتے ہیں۔اچھا تجزئیہ بھی کیا ہوتا ہے زیادہ تر پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور جب اس پگڑی اچھال گروپ کے کسی رکن سے کوئی سوال پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے یہ تو میرا ذاتی معاملہ ہے۔آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے سوال کرنے والے ۔ارے بھیا!سیاستدانوں کی طرح پگڑی اچھال بھی پبلک پراپرٹی ہیں۔لوگوں کو حق دیجئے کہ وہ آپ سے سوال کریں کہ چند برسوں میں فاقہ مستی کی جگہ''ہن پرستی نے کیسے لے لی۔ایک نہیں کئی کردار ہیں چند برس قبل کے سڑک چھاپ اپنی سیاپہ فروشی کی وجہ سے کروڑپتی ہوگئے۔چند دن اُدھر ایک محفل میں اہل صحافت کی لوٹ مار پر زوروشور سے بحث جاری تھی تب ہم نے عرض کیا۔حضور!چھاتہ برادری کی طرح اُتارے گئے پگڑیاں اچھال سیاپہ فروشوں اور قلم مزدوروں میں بہت فرق ہے۔پھر اس فرق پر بحث چل نکلی۔ایک صاحب نے سرائیکی وسیب کے وائسرائے کی طرح طعنہ اُچھالا۔تم محروم شخص ہو اس لئے جلتے ہو۔ارے محروم کیسی، صاحب 47 برس کی قلم مزدوری کے دوران 34 کتابیں لکھیں ومرتب کیں۔ملک کے چار بڑے اخبارات میں بطور ایڈیٹر خدمات سرانجام دیں۔ چوتھی جماعت میں گھر سے بھاگ کر محنت مزدوری کر کے نور علم حاصل کرنے اور جماعت نہم سے قلم مزدوری کو ذریعہ رزق بنانے والے کومحرومی کیسی؟۔ یہ بجا ہے کہ صحافت کمرشل ازم کی خدمات سے دوچار ہے۔لیکن کمرشل ازم کس شعبہ میں نہیں گُھس آیا؟ایک خاص اور طویل المدتی منصوبے کے تحت سیاست وصحافت کو بدنام کروایا گیا یہ طویل المدتی منصوبہ جولائی1977ء کے بعد شروع ہوا قبل ازیں مختصر مدت کے منصوبے بھی بھگتائے گئے لیکن اس طویل المدتی منصوبے کے تحت جو زہر بویا گیا وہ آج ہر کس وناکس کی نسل نسل میں پھیل چکا۔اللہ کی شان ہے تھانوں کے ٹاوٹ اور ایجنسیوں کے مخبر یہاں معززومحترم ہیں یا سیاسی کمپنیوں کے میڈیا منیجر۔کبھی کسی نے اس ملک کی حقیقی سیاسی وصحافتی تاریخ مرتب کی کہ عین ممکن ہے ہماری اگلی نسلیں اُن اُجلے کرداروں سے روشناس ہو جائیں جنہوں نے جمہوریت اور آزادی اظہار کے دفاع میں زندگی بھرپرعزم جدوجہد کی یہ تاریخ مرتب ہوئی تو لازماً وہ کردار بھی بے نقاب ہوں گے جنہوں نے مخصوص مقاصد کے لئے سیاست وصحافت میں سرمایہ کاری کی۔ تاریخ کو مسخ کروایا ہر شخص کو گالی دلوائی یہ کب ہوگا فی الوقت معلوم نہیں البتہ مجھ جیسے اُمید پرست کو یقین ہے کہ ایک دن ایسا ہو کر رہے گا۔تخت وتاج اچھالے جائیں گے۔اس ملک میں رعایا عوام کا درجہ حاصل کرلیں گے۔ جمہوریت انصاف اور مساوات کا دور دورہ ہوگا۔ معاف کیجئے گا کالم میں تلخی درآئی۔وجہ یہی ہے کہ جب ڈھنگ سے دومنٹ گفتگو نہ کرسکنے والا دولے شاہی چوہا جمہوریت سیاست اور صحافت کو منہ بھر کے گالی دیتا ہے تو دکھ ہوتا ہے۔ویسے کچھ کچھ کیا بہت حد تک ہماری سیاسی جماعتون کا بھی قصورہے۔ انہوں نے جماعتون کے اندر جمہوریت متعارف نہیں کروائی۔مطالعے اور مکالمے کو رواج نہیں شخصی فوجی حکومتوں اور جرنیل جمہوریتوں کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو جانے والوں کو بوقت ضرورت سینے سے لگا کر پھر سے عوام پر مسلط کیا۔سیاسی جماعتوں سے اگر جرائم سر زد نہ ہوئے ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ دستور کی بالادستی ہوتی فرد اور محکمے سبھی اپنی اپنی حدود میں رہتے۔ خیر وقت اب بھی ہاتھ سے نکل نہیں گیا سیاسی جماعتیں سنجیدہ ہوں آٹھ دس سال میں ایک ایسی نسل تیار ہوسکتی ہے جو جمہوریت اسی انصاف،مساوات اور عوام کے حق حکمرانی پر یقین کامل کی دولت سے مالا مال ہو۔ کرنا فقط یہ پڑے گا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت متعارف کروادی جائے۔کام مشکل ہے لیکن واحد اور آخری راستہ بلکہ حل یہی ہے۔ورنہ یہی ہوگا کہ تنگ نظر متعصب شرف انسانی سے محروم سماجی اقدار کے قاتل ہی ہمارے رہنماء نجات دہندہ اور رہبر ہوں گے۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اہل دانش ادیبوں شاعروں سماج سدھاروں قلم مزدوروں سب کو اپنی اپنی جگہ اصلاح احوال کے لئے پرعزم کردار ادا کرنا ہوگا۔لوگوں اور خصوصاً نئی نسل کو باور کروانا ہوگا کہ اس ملک اور سماج کی وحدت صرف جمہوریت انصاف اور مساوات سے مشروط ہے ورنہ یہی کچھ آئندہ بھی ہوگا جو ہورہا ہے۔