کورونا اور پاکستان

2019کے اواخر میں چین میں کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا اور اس نے عالمی وباء کی صورت اختیارکرلی۔ اس وائرس نے امریکہ اور یورپ میں بے تحاشا تباہی پھیلائی اور اب تک لاکھوں افراد اس کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ کروڑوں اس سے متاثر ہوئے۔ انسانی صحت اور زندگیوں کیساتھ ساتھ یہ وباء دنیا کی معیشت پر بھی بُری طرح اثرانداز ہوئی اور معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوئے۔ کاروبار بند اور مختلف ملکوں میں لاک ڈاؤن ہوئے جس سے عالمی منڈی میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، کچھ عرصے کیلئے تیل کم قیمت نہیں بلکہ بے قیمت ہوکر رہ گیا جس کی وجہ ہر قسم کے فلائٹ آپریشنز کی بندش سے لیکر کسی بھی قسم کی ٹریفک کی بندش تھی۔ سونے کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں یعنی محتصراً دنیا اُلٹ پلٹ کر رہ گئی۔ بیروزگاری میں شدید اضافہ ہوا، کئی صنعتیں دم توڑتی محسوس ہوئیں تو کئی نئی صنعتوں نے یا تو جنم لیا اور یا پروان چڑھیں۔ فیس ماسک، سینیٹائزر اور صابن یا ہینڈ واش کی کمی پڑ گئی اور بڑے بڑے ملک جہاں کورونا زیادہ شدت کیساتھ آیا نسبتاً کم متاثر چھوٹے ملکوں کے محتاج ہوکر رہ گئے۔ ایسے میں ان ممالک نے بھی اس طرف توجہ دی جو پہلے یہ اشیاء نہیں بناتے تھے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جو پہلے عام ڈسپوزیبل ماسک تک باہر سے منگواتا تھا یعنی ماسک تک نہیں بناتا تھا دوسرے پی پی ای یعنی پرسنل پروٹیکٹیو ایکویپمنٹ تو دور کی بات تھی اور کورونا کی پہلی لہر کے دنوں میں اسی لئے ان اشیاء کے سلسلے میں طبی عملے کو سخت مشکلات پیش آئیں، دوردراز علاقوں کیساتھ ساتھ بڑے شہروںکے ڈاکٹر اور نرس بھی اس سے محروم رہے اور پھر اس قوم نے یہ ثبوت دیا کہ وہ حادثوں کی منتظر رہتی ہے جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس سے نمٹنے کا بندوبست کر لیتی ہے چنانچہ اس بار بھی ایسا ہی ہوا جب ماسک دس روپے کی قیمت سے سو پچاس تک پہنچا تو ہمارے ایسے لوگ سامنے آئے جو یہ اشیاء بنا سکتے تھے اور دھڑا دھڑ ماسک بنانے شروع کر دئیے اور اب وہی ماسک جو نایاب ہو چکا تھا ہر رنگ میں دستیاب ہونے لگا یعنی آپ جس رنگ کے کپڑے پہنیں ساتھ ہی اُس رنگ کا ماسک بازار میں موجود ہے۔ پاکستان کا بنا ہوا ماسک سستے داموں باآسانی مل سکتا ہے۔ اسی طرح ذاتی حفاظت کا لباس آپ کو آرام سے مل جاتا ہے جو پاکستانی ساختہ ہی ہوتا ہے بلکہ کپڑوں کے تمام برینڈز نے بھی اسے بنانا شروع کر دیا اور اب عام لباس کی طرح آپ یہ پی پی ای بھی اپنے کسی پسندید برینڈ کا پہن سکتے ہیں۔ یہی حال سینیٹائزر کا ہے جو اس سے پہلے باہر سے ہی منگوایا جاتا تھا اور کورونا کی پہلی لہر کے دوران ناپید ہوگیا تھا، کئی مقامی کاسمیٹکس کمپنیوں نے بنانا شروع کر دیا اور اب یہ بہ آسانی دستیاب ہے۔ ایک اور اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ کورونا تشخیصی ٹیسٹ کٹ پر پاکستان میں کام ہوا ور بفضلِ تعالیٰ اس میں بھی کامیابی حاصل کرلی گئی ہے اور جلد ہی یہ کٹ بھی مارکیٹ میں فروخت اور استعمال کیلئے پیش کر دی جائے گی۔ اس کٹ پر نسٹ میں کام ہوا اور کامیابی سے مکمل کیا گیا اگرچہ بیرون ملک سے ضرورت کے مطابق یہ کٹ ملک میں موجود ہے تاہم اب بھی نجی لیبارٹریوں میں اس ٹیسٹ کی قیمت سات سے نو ہزار روپے ہے جو یقینا ایک عام پاکستانی کی پہنچ سے باہر ہے اس مقامی سطح پر بنائے گئے کٹ کی وجہ سے یہ قیمتیں یقینا کم ہوںگی اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنا ٹیسٹ کراسکیںگے۔ ایک اور بڑی کامیابی جو پاکستان نے حاصل کی ہے وہ وینٹیلیٹرکا بنانا ہے۔ پاکستان نے اس ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مقامی طور پر ونٹیلیٹر بنانے شروع کئے جو میڈیکل آلات کی تیاری میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ کورونا کے سیریس مریضوں کو وینٹیلیٹر کی ضرورت ہوتی ہے جو ہسپتالوں میں محدود تعداد میں ہونے کی وجہ سے کورونا کی پہلی لہر کے دوران کئی ضرورت مند مریضوں کو بھی مہیا نہیںکئے جاسکے اور اسی صورتحال کے پیش نظر اس پر مقامی طور پر کام شروع کیا گیا اور کامیابی حاصل کی گئی اور سب سے اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان نے کورونا وائرس کے ویکسین کے اوپر بھی کام شروع کیا ہوا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس کی آزمائش شروع ہوچکی ہے اور ابھی تک حوصلہ افزا ء نتائج دیکھنے میں آرہے ہیں۔ان تمام کامیابیوں سے جہاں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ پاکستان کورونا کیخلاف سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے وہاں یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو پاکستان میڈیکل کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ یہی پاکستانی ہیں جو وسائل موجود ہونے کی وجہ سے مغربی ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شروع میں محدود پیمانے پر سہی تحقیق کا کام شروع کیا جائے اور کامیابی کیساتھ ساتھ اس پیمانہ کو وسیع کیا جاتا رہے تو انشاء اللہ پاکستان جلد ہی آگے بڑھ سکے گا اور درکار طبی سہولیات ملک میں ہی تیار اور مہیا کی جا سکیں گی ۔