خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر

شعر کے پہلے مصرعے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ اسے نقل کیا جائے البتہ دوسرا مصرع اپنی افادیت کے لحاظ سے اپنی اہمیت ہر دور میں دلاتا رہتا ہے یعنی یہ صرف آج کے حکمرانوں کی کارکردگی پر ہی منطبق نہیں ہوتا،سابقہ ادوار میں بھی یہ مصرعہ اسی طرح کارآمد رہا ہے،اس لئے ایک بار پھر اسے لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی یہ بازومرے آزمائے ہوئے ہیں۔مصرعہ یاد آنے کی وجہ صوبے کے سب سے اہم حاکم کا یہ حکم ہے جو ایک اجلاس کے دوران انہوں نے دیا اور یہ حکم صوبائی دارالحکومت اور گردونواح میں گیس کے کم پریشر کے مسئلے پر قابو پانے سے متعلق تھا اور صوبے بالخصوص پشاوراور گردونواح میں موسم سرما میں سوئی گیس کے کم پریشر کو عوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کر کے مسئلے کو حل کرنے کا حکم دیا۔محولہ اجلاس کے دوران جن خیالات ،معلومات اور احکامات کی باز گشت سنائی دی ہے ان پر کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں والا مصرعہ بھی فٹ بیٹھتا ہے کہ عوام ایک عرصے سے اس قسم کے سٹیریو ٹائپ ڈائیلاگ سننے کی عادی ہوچکی ہے بلکہ محاورةً ان کے کان پک چکے ہیں اور گزشتہ کئی ادوار کے حکمران اور ان کے ماتحت چلنے والے ادارے عوام کو اسی نوع کے سبز باغ دکھاتے رہے ہیں اور جب ان کا دور گزر جاتا ہے تو پھر توکون میں کون والی صورتحال جنم لے لیتی ہے عوام نئے آنے والوں کے وعدوں کے لالی پاپ سے باردگر بہلنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔یعنی بقول شاعر
قدم قدم پہ نئی داستاں سناتے لوگ
قدم قدم پہ کئی بار جھوٹ بولتے ہیں
میرے قارئین اس بات کے گواہ ہیں کہ گزشتہ کئی سال سے موقع ومحل کے لحاظ سے اس مسئلے پر بھی قلم اُٹھاتا رہا ہوں اور آئین کی متعلقہ شق کا حوالہ دے کر عوام کی فریاد حکمرانون تک پہنچاتا رہا ہوں کہ یہ جو جنوبی اضلاع کے مختلف مقامات پر ہمیں قدرت نے اپنی مہربانی سے گیس کے ذخائر دے کر اس صوبے کو مالا مال کر رکھا ہے ان ذخائر پر آئین کے مطابق ترجیحی حق صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام کا ہوتا ہے اور صرف فاضل گیس کو دوسرے علاقوں کو فراہم کیا جانا چاہیئے مگر عملاًہو کیا رہا ہے؟یہی سب سے اہم نکتہ ہے جس کا علاج نہ سابقہ ادوار میں ممکن ہوسکا نہ ہی موجودہ دور میں ہوتا نظر آتا ہے یعنی جس طرح پن بجلی حاصل کرنے کے بعد اسے ایک مخصوص طاقتور لابی کی خواہشات کے مطابق''قومی گرڈ''کے نام سے قائم تقسیم کار ادارے کی صوابدید پر رکھا گیا ہے اور باوجود اس بات کے کہ صوبوں کیلئے کوٹہ مخصوص کیا جا چکا ہے مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ایسی ہی صورتحال گیس کی تقسیم کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آرہی ہے،کیونکہ مبینہ طور پر گیس پہلے خیبرپختونخوا کے ان علاقوں جہاں یہ ذخائر موجود ہیں کے ملحقہ ضلع میانوالی پہنچائی جاتی ہے اور وہاں سے''کنٹرولڈ''صورت میں اسے واپس خیبرپختونخوا کو''من مرضی''کے مطابق کم مقدار اور کم پریشر کے ساتھ تقسیم کیاجاتا ہے حالانکہ چند سال پہلے پشاور ہائی کورٹ نے سی این جی سٹیشنز کے مالکان کی جانب سے ایک مقدمے کی شنوائی کے دوران واضح احکامات دے دیئے تھے کہ گیس ترجیحی بنیادوں پر پہلے خیبرپختونخوا کے عوام کو دی جائے،تاہم جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کر چکا ہوںکہ''یہ بازومرے آزمائے ہوئے ہیں''تو آج تک نہ سابقہ اور نہ موجودہ مقتدروں نے اس حوالے سے صوبے کے آئینی حق کے حصول کیلئے کوئی کامیاب کوشش کی ہے یہ بھی مرکز سے درخواستیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور عوام کو وعدوں کے لالی پاپ تھما کر''چوسنے''پر مجبور کرتے ہیں۔سو یہ جو تازہ حکم موجودہ حاکم نے دیا ہے تو اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
آدمی پہچانا جاتا ہے قیافہ دیکھ کر
خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر
سابقہ اور موجودہ حکمران آج تک بجلی کے خالص منافع کی رقم اور بقایاجات تک حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں تو قدرتی گیس میں ترجیحی بنیادوں پر ملنے والا حصہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں بد قسمتی سے یہاں''ورنہ پر ملازمت''کرنے کی مجبور ی کچھ کرنے نہیں دیتی،ویسے خدالگتی کہئے تو ہم عوام بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور وہ یوں کہ ایک تو گیس پریشر کم ہے اوپر سے بعض بدبخت اپنی دکانوں اور گھروں میں کمپریسر لگا کر دوسرے شہر یوں کا حق مارتے ہیں اور رہی سہی کسر بھی پوری کردیتے ہیں۔اگرچہ اب گھریلو صارفین اور صنعتوں کیلئے گیس لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے دعا ہے کہ اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور یہ صرف وعدہ ہی نہ بن جائے جس کے وفاء ہونے پر سوال اٹھیں۔