تاریخ کا سبق

یہ ایک باصلاحیت انسان کی کہانی ہے جو ایک بازار میں سستے داموں فروخت ہوا لیکن پھر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت شہنشاہ ہند بن گیا اور اس شان سے حکمرانی کی کہ دوست دشمن عش عش کر اٹھے ! اس کا تعلق ترکوں کی قراختائی نسل اور البری قبیلے سے تھا اس کا باپ دس ہزار گھرانوں کا سردار تھا مغلوں نے جب ترکستان فتح کیا تو دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح اسے بھی ایک مغل نے گرفتار کرلیا بعد میں اس نے اسے ایک سوداگر کے ہاتھ بیچ ڈالا ۔ یہ سوداگر اسے اپنے ساتھ بغداد لے آیا اور یہاں کے مشہورو معروف بزرگ بہت بڑے عالم دین خواجہ جمال الدین بصری کے ہاتھ فروخت کردیا ۔خواجہ جمال نے اسے التتمش کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے اسے بھاری قیمت کے عوض خرید لیا ! یہ وہی غلام ہے جسے تاریخ غیاث الدین بلبن کے نام سے جانتی ہے !التتمش نے بلبن کے چہرے سے اس کی آئندہ عظمت اور بلند اقبالی کا اندازہ کرکے اسے اپنا بازدار خاص مقرر کردیا جہاں اس نے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا ! ناصرالدین محمود کے دور میں بلبن نے مزید ترقی کی اور وزارت کے عہدہ جلیلہ تک جا پہنچا !بعد میں جب ناصرالدین محمود کا دور ختم ہوا تو بلبن بغیر کسی روک ٹوک کے بادشاہ بن گیا۔غیاث الدین بلبن ایک باشعور، سمجھدار، ہوشیار اور صاحب وقار حکمران تھا اس کے ہر حکم میں عقلمندی اور سنجیدگی کے آثار پائے جاتے تھے وہ ہمیشہ سلطنت کے اہم امور قابل اور موزوں افراد کے سپرد کرتا تھا نااہل لوگ اس کے دربار کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتے تھے اسے جب تک لوگوں کی قابلیت ، ایمانداری، معقولیت ، پرہیزگاری اور پختہ کاری کا تجربہ و اندازہ نہ ہوجاتا تھا وہ اس وقت تک کوئی اہم کام ان کے سپرد نہیں کرتا تھا ان صفات کے ساتھ ساتھ اسے اپنے نائبین کی عالی خاندانی اور شرافت نسبی کا بھی بہت خیال رہتا تھا اس کے مقررکردہ عمال اور صوبہ داروں میں گھٹیا فطرت اور پست طبیعت لوگوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی اگر اس کو اپنے کسی صوبہ دار کی بددیانتی کا کوئی ثبوت مل جاتا تو فورا اس کو اس عہدے سے برخاست کردیا جاتا ! اسی طرح بلبن انصاف اور حق پرستی کو بھی پوری طرح مدنظر رکھتا تھا ! ایک مرتبہ غیاث الدین بلبن کے ایک معتبر غلام ہیبت خان نے جو اودھ کا حاکم تھا سرمستی کے عالم میں ایک شخص کو ہلاک کردیا مقتول کی بیوی اس کے پاس فریاد لے کر آئی غیاث الدین نے ہیبت خان کو پانچ سو درے لگانے کا حکم دیا اس سزا کے بعد بلبن نے ہیبت خان کو اس بیوہ کے سپرد کردیا اور کہا : یہ شخص پہلے میرا غلام تھا لیکن اب تیرا غلام ہے،تو جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کر، چاہے اسے قتل کروا دے چاہے معاف کردے ! ہیبت خان نے بڑی منت سماجت کے بعد اس بیوہ کو تیس ہزار روپے خون بہا کے ادا کیے اور بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی ! بادشاہ نے یہ فیصلہ قبول کرلیا لیکن ہیبت خان اس واقعے سے اس قدر شرمندہ اور نادم ہوا کہ اس نے گھر سے باہر نکلنا بھی چھوڑ دیا !غیاث الدین بلبن اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتاہے کہ بادشاہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی شان وشوکت اور رعب داب کو مناسب موقع پر استعمال کرے اور خدا ترسی اور مخلوق خدا کی بھلائی ہمیشہ اس کے پیش نظر رہے ! بادشاہ کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے ملک میں بدکاری رواج نہ پائے ، فاسقوں اور بے غیرتوں کو ہمیشہ ذلیل و رسوا کرنا چاہیے ! امور سلطنت کو عقل مند اور مہذب لوگوں کے سپرد کرنا چاہیے۔ خلق خدا پر جن کو حاکم مقرر کیا جائے وہ دیانت دار اور خدا ترس لوگ ہونے چاہییں ، بد عقیدہ لوگوں کو ملک میں پھلنے پھولنے نہیں دینا چاہیے کیونکہ ایسے لوگ عوام کو غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں! چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ بادشاہ کو چاہیے کو وہ انصاف سے کام لے ، ماتحتوں کی کارکردگی کا بنظر عدل جائزہ لیتا رہے تاکہ ملک سے ظلم وستم کا نشان تک مٹ جائے ! وہ اپنے بیٹوں سے یہ بھی کہتا کہ تم سب میرے جگر گوشے ہو مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر تم میں سے کسی نے کسی عاجز اور لاچار کو ستایا تو میں ظالم کو اس کے ظلم کی پوری پوری سزا دوں گا ! غیاث الدین بلبن کے قدیم غلاموں اور ملازموں کا بیان ہے کہ ان میں سے کسی نے بادشاہ کو ننگے سر اور ننگے پائوں نہیں دیکھا وہ محفل میں کبھی باآواز بلند قہقہہ نہیں لگاتا تھا ! اس کا اپنا قول ہے کہ بادشاہ کا رعب اور اس کے وقار کا سکہ رعایا کے دل پر جس قدر سنجیدگی اور متانت سے بیٹھتا ہے اس قدرسیاست کا اثر نہیں ہوتا! اس کے عہد حکومت میں ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے مفسدوں کو ہر طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں !ہمارے حکمرانوں کو تاریخ کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے اس سے نہ صرف بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ عبرت بھی حاصل ہوتی ہے اور اپنے انجام پر بھی نظر رہتی ہے ! تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ وقت گزرتاچلا جاتا ہے یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا انسان جو فصل کاشت کرتا ہے وہ اسے ایک دن کاٹنی پڑتی ہے ہم سب امتحان میں ہیں اور ایک دن اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہونا ہے جہاں ہم سے ذرے ذرے کا حساب لیاجائے گا۔