سٹیل ملز سے 4 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنا 4 ہزار سے زائد خاندانوں کا معاشی قتل عام ہے. میاں افتخار حسین

ویب ڈیسک(پشاور):عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ترجمان میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز سے 4 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنا 4 ہزار خاندانوں کا معاشی قتل عام ہے، نئے پاکستان میں غریب عوام کے منہ سے دو وقت کی روٹی تک چھینی جارہی ہے، موجودہ حکمران وہ لوگ ہیں جو نون لیگ کے دور حکومت میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کی مخالفت کرتے تھے.
اپنے ایک بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں جب عوام پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے مزید لوگوں کو بے روزگار کر کے خوار کرنا موجودہ حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے، پاکستان سٹیل ملز جس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے کیوں کہ پچھلے دو سال سے پاکستان سٹیل ملز کے خسارے میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے اور پاکستان سٹیل ملز کو اس مشکل ترین صورتحال سے نکالنے کے لیے حکومت وقت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز سے 4500 سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستان معاشی طور پر بدحال ہوچکا ہے، حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کیا تھا لیکن ان کی ناکام پالیسیوں کی بدولت پچھلے ڈھائی سالوں میں لاکھوں لوگوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں، سٹیل ملز کے ملازمین کو نکالنے کا حکومتی فیصلہ بدترین اور ظالمانہ فیصلہ ہے، انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبائی صورتحال کے دوران لوگوں کو بے روزگار کرنا ظلم ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم ہر ادارے کی نجکاری کر کے اپنی ناکامی چھپانا چاہتے ہیں، حکومت ملازمین کی جبری برطرفی کا فیصلہ واپس لے، حکومت ملنے سے پہلے موجودہ وزیر اعظم کنٹینر پر کھڑے ہو کر دعوے کرتا تھا کہ ان کے پاس ایسے معاشی ماہرین اور پالیسیاں ہیں جو پاکستان کی معیشت کو آسمان کی اونچائیوں پر لے جائے گی، آج ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ کونسی پالیسیاں ہیں کہ پاکستان کے کھربوں روپے کی مالیت اثاثے سٹیل مل کو چلانے کی بجائے آئی ایم ایف کی غلامی کرتے ہوئے ہزاروں خاندانوں کو تباہ کردیا جائے، شاید نئے پاکستان کی معاشی ترقی یہی ہے کہ گھروں کے جلتے چولہے بھی بند کردئیے جائیں۔