گھمبیر سونامی آنے والا ہے

شاید آ ج پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی خطر ناک موڑ پر کھڑا ہے سیاست ، معیشت ،سماجیت، اقتصادیات اور حالا ت واقعات پر گہر ی نظر رکھنے والو ں کا تو یہ ہی نقطہ نظر ہے موجو د ہ حالا ت سے سب ہی کو گھبراہٹ لگی ہوئی عالمی طاقتیں بھی اپنے خود غرضانہ مفادات کی بناء پر پر یشان ہیں کیوں کہ جو ارما ن وہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں پورے نہیں کر پاسکتے تھے وہ بھی پاکستان جمہور ی تحریک میں غرق وآب ہو تی نظر آرہی ہے چنانچہ وہ بھی پچھلے کواٹر کھولے بیٹھے ہیں ، یہ حقیت ہے کہ حالات کو ملک کے مفاد اور استحکا م وترقی کے لیے لا زم ہے کہ وہ اس عفریت کے چنگل سے جلد سے جلد نکل جائے ورنہ مشر قی پاکستان اور سانحہ سے بڑا بڑا حادثہ رونما ہو نے کا بھی امکا ن ہوسکتا ہے جو ملت اسلامیہ کی تاریخ میں سب بڑا جُگاڑ بن جائے گا ۔ حالا ت کو سدھار نے کی ذمہ داری کس کی ہے تو یہ نہ کسی تیسر ی طا قت کے فرائض میں شامل ہے اور نہ ہی کسی فر د واحد کے کھاتے میں آتی ہے سب سے زیادہ ملکی حالا ت کے بگاڑ اور سنوار میں ذمہ دار حکو مت وقت ہو تی ہے جس طرح جب بھٹو مر حوم نے جنرل یحییٰ کے دور میں ان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے چین کا دورہ مع ایک تگڑے وفد کے کیا تھا تاکہ چین پاکستان کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلاکے مد د گار بن جا ئے لیکن چین کی اس وقت کی قیادت نے جو انتہائی اعلیٰ درجہ اور دنیا کی تار یخ ساز تھی یعنی ماؤزے تنگ اور وزیر اعظم چونلائی ان دونو ں نے پاکستان کو اپنے وفد کو اپنے سامنے کھڑا کر کے یہ نصیحت کی تھی کہ یہ پاکستان کا اندورنی معاملہ ہے اس لیے پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ ازخود افہا م و تفہیم کا راستہ نکالے ورنہ پاکستان ڈوب جائے گا مگر اس وقت حکومت بہری اور اندھی ہو گئی تھی چنا نچہ وہ ہوا جو آج بھی دنیا کا تاریکدار داغ ہے۔
پھر ایسا ہی ایک تجر بہ ہوا کہ بھٹو مر حوم کے دور میںجب پی این اے نے جو تحریک انتخابات میں دھا ندلی کے خلا ف اٹھائی تھی اس میں بھٹو مر حوم کی غلطی سر فہر ست تھی کیو ں کہ حکمران وقت کے ناتے انھوں نے غفلت سے کا م لیا اور حالا ت کو صراط مستقیم پر لا نے کی بجا ئے حزب اختلا ف کی تحریک کو کچل دینے کے لیے اپنی ہرآمر انہ مزاجی کی بدولت تاخیر حربے استعما ل کر تے رہے اس دنیا کی یہ ہی مصیبت ہے کہ ہرآمر اپنے اقتدا ر کو دنیا کی سب سے بڑی قوت سمجھ بیٹھتا ہے۔غرور اور گھمنڈ کی کنڈلی میں بہہ کر سب کچھ غر ق آب کر بیٹھتا ہے اسی بنیا د پر بھٹو نے پی این اے کی تحریک کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں سامنے رکھی ہو ئی میز پر زور سے مکا ما ر کر کہا تھا کہ اگر مجھے کمزور جا نا جا تا ہے تو یہ یا د رہے کہ میر ی کرسی بہت مضبوط ہے۔ اگر کوئی برا نہ ما نے تو یہ کہنے میں باک نہیں کہ آج کے دور کو دیکھ کر ایسا محسو س ہو تا ہے پھر بھٹو والا دور لوٹ آیا ہے مگر اس کی نسبت کچھ اس میں رنگ آمیزی گہر ی کر دی گئی ہے ، بہر حال موجودہ قیا دت کا فر ض ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے اور چین کے نظریاتی لیڈ ر موزے تنگ اور ان کی عظیم قائد چونلائی کے فرما ن سے استفادہ کریں اسی میں بہتری ہے ۔ یا د رہے کہ تاریخ بڑی عبرت نا ک ہو تی ہے وہ کسی نہ خوف رکھتی اور نہ پردہ اسی لیے تو کہا جا تا ہے کہ زما نہ استاد سے بڑا زیا دہ ظالم ہوتا ہے استا د سبق دے کر امتحان لیتا ہے اور زما نہ امتحان لے کر سبق دیتا ہے ۔ یہاں تو ذاتی خواہشیں ذات سے گلے لگا رکھی ہیں اور ملک کا کوئی ادراک نہیں رہا ہے حالا نکہ دانشور دیکھ رہے ہیںکہ مستقبل قریب میں ایک اور خطر ناک پھڈا پڑنے والا ہے وہ یہ کہ آگے چل کر چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے سبکدو ش ہو رہے ہیں ، حز ب اقتدار اور حزب اختلا ف میں اس مسئلے پر رن پڑے والا ہے کیوں کہ آئین کے مطا بق حز ب اقتدار اور حز ب اختلا ف باہمی افہا م سے تقرری کی منظوری دیں ، چنا نچہ حز ب اختلا ف کے قائد کی حیثیت سے شہبا ز شر یف نے امکافی عرصہ پہلے دو نا م حکومت کو تجویز کر دئیے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے ایک نا م سابق چیف جسٹس آصف کھو سہ کے بھائی ناصر کھو سہ ہے اوردوسرا نا م غالباًًغلا م عبا س جیلانی کا ہے یہ دونو ں سابق بیوروکریٹ ہیں ان کی ایما نداری اور قانون کی پاسداری کی سب ہی گواہی دیتے ہیں ایک یہ وہ کسی سے گھبراتے بھی نہیں ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومتی حلقے یا تو ستو یا پھر لسی پی کے سو گئے ہیں ِ ِ، حزب اختلا ف کا الزام یہ ہے کہ وزیر اعظم یہ چاہتے ہیں کہ پہلے ان پر فارن فنڈنگ کا جو مقدمہ بالکل آخری مرحلے پر آگیا ہے اور وہ جو چا ر سال سے اسے ٹرخا رہے ہیں ان کو ایسا سرپر ست مل جا ئے جو ان کی اس سے جان بخشی کرادے اسی طر ح وہ چاہتے ہیں کے سینٹ کے انتخابات ہو جائیں تاکہ جو ان کو اکثریت متو قع ہے تو اس سے وہ اپنے حلیفوں کی بھی خواہش کے مطا بق اٹھارویں ترمیم کرالیں ، جب کہ حزب اختلا ف جد وجہد اس غرض سے کر رہی کہ کسی طر ح ما رچ سے پہلے انتخابات ہو جائیں، اس وقت پارلیمنٹ میںجس کو آئین میں مجلس شوریٰ کہا گیا ہے پی ٹی آئی اکثریت سے محرو م ہے چنا نچہ سب کو اپنے دال دلیے کی فکر ہے کسی کو عوام کو مسائل اور مہنگائی میں غرق ہو نے سے کوئی غرض نہیں ہے پی ڈی ایم کے رہنما اپنے جلسو ں میں مہنگا ئی کا طعنہ حکومت کو بڑے طمطراق سے دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سب دکھا وا ہے اور ان کو عوام کے دلو ں میں جگہ کی بھی سیا سی ضرورت ہے۔