مہنگائی ،تسلیاں اور حقیقت

حیران کن بات یہ ہے کہ ادارہ شماریات نے بعض اشیاء کی قیمتوں میں0.92فیصد کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی7.48فیصد رہ گئی ہے11اشیاء مہنگی ہوئی ہیں10سستی اور30کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔جس بنیادی حقیقت کو ادارہ شماریات نے نظر انداز کیا وہ یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ کے دوران برپا ہوئی مہنگائی کی نئی لہر نے صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے مثال کے طور پر پچھلے ہفتہ کے دوران بڑے شہر وں اور قصبوں میں آلو140روپے پیاز 110 سے120روپے۔چینی115روپے ،ادرک600روپے کلو فروخت ہوئے ٹماٹر170 سے 210روپے کلو تک جبکہ دالوں کی فی کلو قیمت میں دو سے تین روپے کا مزید اضافہ ہوا۔دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی بڑھیں۔سوال یہ ہے کہ ادارہ شماریات کے ذمہ داران کب جدید دنیا کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے منڈیوں کے نرخ پر اعشاریہ مرتب کرنے کی بجائے کھلی مارکیٹ میں نرخوں کے اتار چڑھائوکی بنیاد پر مہنگائی کا اعشاریہ مرتب کریں گے؟امرواقعہ یہ ہے کہ اس وقت ملکی تاریخ میں مہنگائی بلند ترین سطح پر ہے حکومت اپنے اعلانات کے مطابق گندم ،چینی اور آٹا مقررہ نرخوں پر فروخت کروانے سے قاصر ہے۔منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا بس نہیں چل رہا کہ وہ عوام کی کھالیں تک اتارلیں۔آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن اور مہنگائی شہریوں پر بجلی بن کر گرتے ہیں خوش آئند بات ہے کہ ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکس ریونیو کے حوالے سے مثبت اشارے ہیں مگر اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے متوسطہ کچلے ہوئے طبقات کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے یوٹیلیٹی بلز میں بتدریج اضافہ بھی قیامت سے کم نہیں اندریں حالات اہل اقتدار سے یہ درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دیجئے تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں سکون کا کوئی لمحہ بھی درآئے۔
سٹیل مل کے ملازمین کے لئے یکطرفہ شیک ہینڈ
پاکستان سٹیل مل کے منیجر کی سطح تک کے ملازمین کے لئے یکطرفہ گولڈن شیک ہینڈ کے اعلان اور4544ملازمین کو فراغت نامہ تھمائے جانے سے پیداشدہ صورتحال افسوسناک ہے وزیراعظم 2018ء کے انتخابات سے قبل تواتر کے ساتھ یہ کہا کرتے تھے کہ ان کے پاس200ماہرین کی ٹیم ہے وہ اداروں کی نجکاری کی بجائے انہیں دوبارہ منظم وفعال کرنے نظام حکومت کو بہتر بنانے انصاف ومساوات کے لئے اس تجربہ کارٹیم کے ذریعے انقلابی اصلاحات کریں گے۔اپنے دعوئوں اور وعدوں کے برعکس پالیسیوں پر عمل شروع کردیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر نجکاری سے سٹیل مل دوبارہ سے اپنے قدموں پر کھڑی ہو کر پیداواری عمل میں مثالی بن سکتی ہے تو یہ کام حکومتی ماہرین کی نگرانی میں کیوں نہیں ہوسکتا یہ بجا ہے کہ سٹیل مل ملکی خزانہ پر بوجھ بن چکی لیکن بوجھ کیسے بنی اصلاحات کی راہ میں کون حائل رہا اس بارے بھی عوام کو حقیقت حال سے آگاہ کیا جانا چاہیئے اور حکومت کو منی سٹیل مل کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر ملکی وعوامی مفاد میں نظر ثانی کرنی چاہیئے۔
پشاور وگردونواح میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پشاور اور گردونواح میں سوئی گیس کی10سے14گھنٹے کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے سلسلے کا آغاز اور شہریوں کی داد رسی کا کوئی سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال افسوسناک ہے۔شہر کے درجنوں علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جو صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ محکمے کے حکام صارفین کی دلجوئی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کریں حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی چند دن قبل وفاقی کابینہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی کہ امسال گھریلو صارفین کے لئے سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی لیکن عملی صورت یہ ہے کہ پشاور اور گردونواح میں سوئی گیس کی بد ترین لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ صبح5سے10بجے تک اور شام میں7بجے کے بعد سوئی گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے جس سے گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔متعلقہ وزارت کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیئے۔