قومی میثاق سیاست کی ضرورت

امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ماضی سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھارکھی ہے ۔ایسا لگتا ہے انہیں خود پسندی ہی مرغوب ہے۔کبھی بستر مرگ پر پڑے مریضوں کی بھداڑاتے ہیں اور کبھی مرنے والوں کے حوالے سے ایسے ایسے جملے کستے ہیں کہ خوف آنے لگتا ہے۔دشنام طرازی اور الزامات کی تو تکار کے علاوہ اب سیاسی عمل میں کچھ نہیں رکھا ۔اصولی طور پر حزب اختلاف سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ماحول کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے رواداری کو فروغ دے مگر بد قسمتی سے یہاں بعض حکومتی اکابرین کے ذہنوں سے کلام کی بجائے آگ کے گولے پھینکے جارہے ہیں ۔اپنے رہنمائوں کی اس روش سے متاثر پیروکاران ان سے دو قدم آگے نکل کر حق پیروی اداکرتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ عوام بھگتے ہیں یہ صورتحال افسوسناک ہے بظاہر یہی لگتا ہے کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت نہیں بچی ''اُوئے توئے''کے انداز تکلم نے ہمارے سماج پر کیا اثرات مرتب کئے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان رواں صدی کی پہلی دہائی میں ہونے والے میثاق جمہوریت کا پس منظر یہی تھا۔دشنام طرازی سے تباہ ہوئے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔میثاق جمہوریت کے سیاسی نکات کو زیر بحث لانے والوں نے بھی کبھی اس امر پر توجہ نہیں دی کہ میثاق جمہوریت سیاسی عمل میں شائستگی لانے اور سیاست برائے نفرت کی بجائے سیاست کو نظر سازی کا ذریعہ بنانے کی خواہشوں کا عہد نامہ تھا۔یہ بجا ہے کہ میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ ہو پایا اگر ہو جاتا تو کم از کم سیاسی عمل کے دیگر شرکا کو یہ بات آسا سے سمجھ میں آجاتی کہ دشنام طرازی،الزامات اور کفن نوچنے کے نتائج کیا نکلتے ہیں اور کتنے نقصان کے بعد میثاق جمہوریت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ہماری سماجی روایات کے برعکس سیاسی عمل میں سطحی زبان دانی کے مظاہرے کی تاریخ بھی اتنی ہی ہے جتنی ہمارے مسلکی آزادی کی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سیاسی عمل میں طلباء یونینوں اور مزدور تنظیموں کے ذریعے نیا خون آبیاری کا ذریعہ بنتا رہا شخصیات کے بتوں کو پوجنے کی بجائے نظریہ اہم رہا یقیناً نظریاتی سیاست کے ادوار مثالی نظام اس خوشحال سماج تعمیر کرنے میں اس طرح کامیاب نہیں ہوسکے جس طرح توقعات باندھی گئی تھیں اس کے باوجود یہ امر دو چند ہے کہ ان کے ادوار میں بہر طور روایات وشائستگی سے انحراف کرنے والے شرمندگی محسوس کرتے تھے لوگ بھی انہیں ٹوک دیتے اور ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔آج صورتحال بالکل1980ء اور1990ء کی دہائیوں جیسی ہے جو جتنی بد زبانی کرتا ہے اتنا ہی معتبر تصور کیاجاتا ہے غور طلب امر یہ ہے کہ کیا اب یہی رویئے ہماری اگلی نسلوں کا مقدرہوں گے؟۔جمہوری عمل کو پروان چڑھانا از بس ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب سیاسی جماعتوں میں شخصی وفاداری سے بندھے لوگوں کی جگہ باشعور سیاسی کارکنوں کی توقیر اور انہیں درجہ بدرجہ آگے لانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا۔ایک سیاسی کارکن اور وفادارشخص کی سوچ میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ سیاسی کارکن اپنے عمومی شعور کے ساتھ معاشرے کی رہنمائی کا فرض ادا کرتا ہے اور شخصیت سے وفاداری میں جذباتی شخص نظریہ کو بوجھ سمجھ کر اپنے سیاسی دیوتا کو اوتار کے طور پر پیش کرتے ہوئے اندھی تقلید کے جنون کا شکار ہوجاتا ہے۔اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاست کے بیانہ پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور یہ تبھی ممکن ہے جب سیاسی جماعتوں میں نچلی سطح پر منصب نامزدگیوں کی بجائے انتخابی عمل سے کارکنوں کے حصے میں آئیں اور یہ سلسلہ بتدریج آگے بڑھے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ کو بھی اب حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کرلینا چاہیئے کہ سماج کی فکری واخلاقی رہنمائی کے ذمہ دار اس شعبہ میں درآئے کمرشل ازم نے اسے حقیقی کردار ادا نہیں کرنا دیا۔تجزئیہ،تحریریں،عمل وفکری رویوں کی بجائے ملا کھڑوں کا سماں باندھ دیتی ہیں۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔بہت مناسب ہوگا اگر سیاسی جماعتیں انفرادی سطح پر احتساب کو رواج دیں اس سے مناسب اقدام یہ ہوگا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سینٹ کے چیئر مین اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر صاحبان پر مشتمل فورم تشکیل دیا جائے جس میں حکومت اور حزب اختلاف کی نمائندگی کے ساتھ اہل دانش اور سماج سدھار بھی شامل ہوں یہ فورم از سر نو سیاسی اخلاقیات کو رواج دینے جمہوریت کے ہر سطح فروغ اور نظام حکومت میں عوام کے حق حاکمیت کے تصور کو اجا گر کرنے کے لئے میثاق سیاست وضع کرے۔مروجہ سیاست،عدم برداشت دشنام طرازی اوردیگر نامناسب معاملات نے جہاں لاکھڑا کیا ہے اس سے نجات کی واحد صورت اب ایک عوام دوست میثاق سیاست سے ہی ممکن ہے اس حوالے سے تاخیر نقصان کا باعث بنے گی۔ہمارے اہل سیاست اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لیں گے یہ ہم سب کے حق میں بہتر ہوگا۔