ملتان پولیس اورپی ڈی ایم کارکنا ن کے مابین جھڑپ،علی قاسم گیلانی سمیت متعدد کارکنان گرفتار

ویب ڈیسک(ملتان):پولیس نے پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل جماعتوں کے متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا۔پنجاب پولیس نے پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم پاکستان یوسف رضاگیلانی کے صاحبزادے علی قاسم گیلانی سمیت پی ڈی ایم کے متعدد کارکنا ن کو حراست میں لے لیا۔پولیس نے علی قاسم گیلانی اور علی حیدرگیلانی کوحراست میں لیا جس کے بعد علی حیدر گیلانی کو چھوڑ دیا گیا۔علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما جاوید صدیقی اور عارف شاہ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ کریک ڈ ان شروع ہونے کے بعد پی ڈی ایم کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی کیں جس کے نتیجے میں اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
پنجاب حکومت نے گزشتہ شب قاسم باغ جانے والے راستوں کو کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر کے سیل کردیا تھا، جس کے بعد ہفتے کی دوپہر علی حیدر گیلانی ریلی کی صورت جلسہ گاہ پہنچے، کارکنان رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے جلسہ گاہ میں داخل ہوگئے تھے۔پولیس کا کنٹینرز ہٹا کر جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے پیپلزپارٹی کے کارکنان کے خلاف کریک ڈان شروع کردیا۔قاسم باغ میں بنائے جانے والی جلسہ گاہ کے مرکزی راستے کو بھی خالی کرالیا جس کے بعد وہاں پر بڑی تعداد میں اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے ملتان کے قاسم باغ میں 30 نومبر کو جلسے کا اعلان کیا گیا ہے، پنجاب حکومت نے کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہیں دی مگر پھر بھی سیاسی جماعتوں نے ہر حال میں جلسے کا اعلان کیا ہے۔
30نومبر کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک روز قبل ملتان کا قاسم باغ اسٹیڈیم رات بھر میدان جنگ بنا رہا، پولیس کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر لاٹھی چارج کیا گیا اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت درجنوں کارکن اور رہنماں کو گرفتار کیا گیا۔کمشنر ملتان کے مطابق کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کیے گئے ہیں