بنی گالہ اور نت ہائوس کبھی دوری کبھی قربت

گجرات کا نت ہائوس ماضی کی سیاسی روایات کا امین اور گواہ ہے تو اسلام آباد کا بنی گالہ ہائوس جدید سیاست اورنئی روایتوں کا رازدار ہے ۔دونوں حکومت میں قدیم وجدید کا امتزاج بنائے ہوئے تو رہے مگر اس تعلق پر ایک دریا کے دوکناروں کی مثال ہی صادق آتی رہی ۔یوں لگ رہا تھا کہ دونوں کے درمیان تعلق ایک بوجھ سے زیادہ کچھ اور نہیں۔چوہدری شجاعت حسین نوازشریف کی سیاست میں ٹھنڈی تار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔جو ان کے حادثہ کروانے کے سیاسی مزاج اور موسم کومعتدل رکھتے تھے ۔ عمران خان کے تند خو مزاج میں چوہدری برادران کی ٹھنڈی تاریہی کام دے سکتی تھی ۔اس تار سے نوازشریف نے کام لینے کی بجائے ہمیشہ معاندانہ نظروں سے ہی دیکھا اور ڈھائی برس کے اقتدار میں عمران خان نے اپنے اقتدار کی اس ٹھنڈی تار سے وہی سلوک روا رکھا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کا تعلق اس شعر کی مانند ہو کر رہ گیا
اتنا قریب آکے بھی کیا جانے کس لئے
کچھ اجنبی سے آپ ہیں کچھ اجنبی سے ہم
اجنبیت کی اس کیفیت میں تپاک کے آثار اس وقت محسوس کئے گئے جب وزیر اعظم عمران خان نے ق لیگ کے علیل قائد چوہدری شجاعت حسین کے گھر میں ان کی عیادت کی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے چوہدری برادران سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ بتایا گیا کہ اس ملاقات کے بعد فریقین کے درمیان سرد مہری ختم ہوگئی ہے او ر گلے شکوے دور ہوگئے ہیں ۔چوہدری برادران اور عمران خان دونوں کی سیاست کے انداز اور اطوار قطعی جدا گانہ تھے ۔یہ تو نظریہ ضرورت تھا جس نے ان دونوں مختلف المزاج سیاسی دھاروں کو حکومت کی چھتری تلے یکجا کیا تھا ۔عمران خان نے سیاست میں آتے ہی جس طرز سیاست کی مخالفت کی تھی وہ صرف شریف خاندان اور پیپلزپارٹی تک محدود نہیں تھا بلکہ قومی سیاست کا فعال چوہدری شجاعت گھرانہ اور گجرات کا'' نت ہائوس'' بھی اس میں شامل تھا ۔جن روایتی سیاسی گھرانوں اور جماعتوں نے عمران خان کے سیاسی اُبھار کو معاندانہ زاویہ ٔ نگاہ سے دیکھا نت ہائوس بھی ان میں شامل تھا ۔ نوے کی دہائی میں پی ٹی آئی کے پہلے الیکشن میں گجرات میں چوہدری برداران نے ان کے انتخابی کیمپ اکھاڑ پھینکے تھے اور ان کے امیدوا ر کو ہی لے اُڑی تھی۔طاقت اوراقتدار کے کھیل عجیب ہوتے ہیں ۔گزشتہ انتخابات کے بعد جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو کاتب تقدیر نے نت ہائوس اوربنی گالہ کا مقدر ایک صفحے پر لکھ دیا ۔یوں مسلم لیگ ق مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی اتحادی بن کرسامنے آئی ۔چوہدری برادران کی نظریں بلاشبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر جمی تھیں اور پرویز الٰہی ایک کامیاب وزیر اعلیٰ کے طور اپنی شناخت بھی قائم کر چکے تھے مگر قرعۂ فال عثمان بزدار کے نام نکلا اور پرویز الٰہی پنجاب کی سپیکر شپ کے حقدار ٹھہرے ۔مسلم لیگ ق بظاہر تو حکومت کی مضبوط اتحادی رہی مگر دونوں کو اقتدار کے نظریہ ضرورت نے جوڑ رکھا تھا ۔گزشتہ دو سال میں مسلم لیگ ق اتحادمیں تنگ وبیزار تھی اور پی ٹی آئی بھی اس تعلق کو بوجھ کے طور اُٹھائے پھر رہی تھی۔
اپوزیشن کی نظریں ہمیشہ ق لیگ پر امیدافزا انداز میں جمی رہیں ۔وہ اس امید پر جیتے رہے کہ اتحاد میں دراڑ پڑے اور ق لیگ اپنی شاخ بدل دے اور حکومت دھڑام سے زمین پر آگرے ۔دو سال میں یہ امید بر نہ آسکی ۔دونوں اتحادیوں کے درمیان تعلقات کا گلیشئرپگھلنے کی بجائے منجمد ہی ہوتا چلا گیا ۔مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں چوہدری پرویز الٰہی کی پر اسرار ملاقات اور سرگرمی نے دوریوں کو مزید بڑھا دیا تھا ۔اس ملاقات کے بعد مولانا واپسی کا رخت سفر باندھنے پر آمادہ ہوئے تھے ۔اب عمران خان کی چوہدری برادران کے ساتھ ملاقات نے حالات کے دھارے کو موڑ دیا ہے ۔عمران خان نے جس طرح اپنے ایک اہم اتحادی رکن کے گلے شکوے دور کئے جس پر یہی کہا جا سکتا ہے ''جب گلے سے لگ گئے سارے گِلے جاتے رہے''۔گلے شکوئوں کی دوری کا یہ دائرہ اب وسیع ہونا چاہئے ۔اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی سسٹم چلانے کے لئے ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔اپوزیشن جماعتیں ایک زمینی حقیقت ہیںاور زمینی حقیقت کو نظرانداز کرنا خود فریبی ہوتا ہے ۔اپوزیشن کو اپنے کیسز کو سیاسی عمل میں حصہ داری اور تعاون سے مشروط نہیں کرنا چاہئے ۔اپوزیشن کو کرپشن کیسز کو الگ سیاسی معاملات کو الگ رکھنا چاہئے ۔اسی طرح حکومت کو کرپشن کیسز کو اپوزیشن کا بازو مروڑنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے قانون سازی کے لئے تعاون کے لئے اپوزیشن کی طرف دست تعاون دراز کرنا چاہئے ۔قانون سازی ایوان کو بلڈوز کرکے بھی ہو سکتی مگر اس سے پارلیمانی نظام بے وقعت ہوتا ہے ۔عمران خان کو اسی پارلیمانی نظام نے عزت دے کر وزیر اعظم بنایا گیا ۔صدارتی نظام اور اسلامی صدارتی نظام ابھی محض سراب اور افسانہ ہے پارلیمانی نظام ایک حقیقت ہے ۔اس سسٹم کی عزت میں حکومت کی عزت ہے ۔سسٹم کامیاب ہوگا تو عمران خان دوربارہ جیتنے کی امید رکھ سکتے ہیں۔