پی ٹی وی کے نئے چیئرمین کا نیا شوشہ

وفاقی حکومت نے مشہور قانون دان نعیم بخاری کو پی ٹی وی کا نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔ بحیثیت چیرمین اپنی تعیناتی کے بعداسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نعیم بخاری نے ایک صحافی کے سوال پر بتا یا کہ پی ٹی وی پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو حکومتی ممبران کے برابر وقت نہیں ملے گا۔صحافی نے سوال کو دہراتے ہوئے دوبارہ عرض کیا کہ کیا اپوزیشن کو پی ٹی وی پر ٹائم نہیں ملے گا تو نعیم بخاری بھی اپنے جواب کو دہراتے ہوئے بولے .بالکل نہیں۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے موصوف نے کہا کہ پی ٹی وی ایک سرکاری ادارہ ہے ، کوئی نجی ادارہ نہیں ہے۔ لہٰذایہ صرف حکومتی موقف کو عوام کے سامنے پیش کریگا۔ نعیم بخاری اعلیٰ پایہ کے قانون دان، بہترین ٹی وی اینکر اور متوازن شخصیت کے حامل ایک ایسے انسان ہیں جن سے اس قسم کے بیان کی توقع اسلئے نہیں کی جاسکتی تھی کہ نہ تو یہ ان کے اس نئے منصب کے شایان شان ہے اور نہ ہی ان کے ہر دلعزیز اور غیر متنا زعہ شخصیت کا تقاضا۔بہرحال نئے آنے وا لے چیئرمین کی خدمت میں اپنی نیک خواہشات کے ساتھ عرض صرف اتنی کرنی ہے کہ پی ٹی وی سارے پاکستانیوں کا قومی ادارہ ہے کسی ایک فرد، مخصوص سیاسی پارٹی یا حکمران جماعت کا نہیں اور اس پر حزب اختلاف کے ممبران کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزرا، مشیر اور سیاسی کارکنوں کا۔ قومی ادارے کے نئے چیئرمین کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان مسلم لیگ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے بعد دوسری بڑی، پاکستان پیپلز پارٹی تیسری بڑی اور جمعیت علماء اسلام چوتھی بڑی سیاسی جماعت ہے اور یہی سیاسی جماعتیںاپنے منتخب نمائندگان کے زریعے ان لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کررہے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی ان تینوں بڑی پارٹیوں کے ووٹروں کی مجموعی تعداد حکمران جماعت کے ووٹوں سے کہیں زیادہ ہے۔لہٰذاانکی آواز کو کیسے دبا یا جاسکتاہے؟ نعیم بخاری سے نہیں تو اس قومی ادارے کی چیئرمین کی حیثیت میں اس ذمہ دار منصب سے جاری ہونے والے کسی بھی بیان کا تقاضا تھا کہ وہ کھلے دل سے اعلان کرتے کہ آج کے بعد پی ٹی وی پر حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی جماعت سے زیادہ نہیں تو کم از کم انکے برابر وقت اور پروٹوکول ضرور ملے گا تاکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ان شکایات کا ازالہ ہو سکے جس کا برملا اظہار وہ ہر موقع پر کرتے رہی ہیں۔لیکن اسکے برعکس موصوف کے اس بیان نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔ 2018ء میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اس وقت کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے قومی ٹی وی چینل کے حوالے سے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انکی حکومت پی ٹی وی کو بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کی طرز پر ایک آزاد ادارہ بنائیگی۔ ایسے ہی بیانات وزیراعظم عمران خان بھی گاہے بگاہے دیتے رہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ملتاتھا کہ اس قومی ادارے کی مالی اورانتظامی امور سے متعلق اصلاحات حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں لیکن قومی نشریاتی ادارے کے نئے چیئرمین نے اپنی ہی حکومت کے اس موقف کی نفی کردی ہے جس کا اظہار وفاقی وزرا، مشیر اورمتعلقہ اداروں کے سربراہان مسلسل اپنے بیانات میں کرتے رہے ہیں۔ نعیم بخاری کے اس بیان سے صحافتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر اس لئے دوڑی کہ ایک ذمہ دار منصب پر براجمان شخصیت کا اس طرح غیر ذمہ دارانہ بیان خود صحافتی اقدار کے منافی ہے۔ نعیم بخاری گو کہ ایک اعلی ٰ پایہ کے وکیل ضرور ہیں لیکن صحافتی اقدار سے ناوقف ہیں اسلئے انکی خدمت میں گزارش کرتا چلوں کہ ایک سرکاری چینل پر صرف حکومتی موقف کو بیان کرکے حزب اختلاف کی رائے کو لئے بغیر ایک متوازن ، غیر جانبدارنہ اور غیر متعصبانہ بیانیہ کیسے بنایا جاسکتا ہے ۔ آج ملک میں بیسیوں نئے ٹی وی چینلز موجود ہیں لیکن آج بھی اس قومی ادارے کی اپنی شناخت اور الگ پہچان ہے۔ پی ٹی وی آج بھی لاکھوں ، کروڑوں پاکستانیوں کی دلوں کی آواز ہے۔ یہی ادارہ ہمارے، سیاسی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کا اورثقافت کا آئینہ دار ہے۔یہی ادارہ ہماری سماجی اقدار کا ترجمان ہے۔ اسی ادارے سے قوم کی سنہری یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے اس قوم کو شعور دیا لیکن آج یہ ادارہ ان باشعور عوام سے تقاضا کرتا ہے کہ اس قومی ادارے کو درپیش چیلنجز میںانکا ساتھ دیں۔اس ادارے کو بکھرنے سے بچائیں۔پی ٹی وی کو پہلے ہی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے واحد قومی ٹی وی چینل کو مذید سیاست کی نذر کرنے کی بجائے اس کی تنظیم نو کرکے دنیا کے بہترین ہم عصر نشریاتی اداروں کے برابر لانے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کی جائیں تاکہ یہ ادارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ حاصل کرکے ایک گروپ، پارٹی یا حکومت کے ترجمان کے طورپر نہیں بلکہ پوری قوم کے ترجمان کے طور پر ابھرے۔