معیشت اور انسانی زندگی پرکورونا کے اثرات

فروری،مارچ2019ء لیکر آج تک کرونا وائرس نے انسانی زندگی اور معیشت کو جس طرح متاثر کیا ہے،شاید ہی اس سے پہلے ایسا کبھی ہوا ہوکہا جاتا ہے کہ1918-1920ء کے دوران ہسپانوی بخار یا فلونے بھی بڑی تباہی مچائی تھی اور پھر دو عظیم جنگوں کے نتیجے میں بھی معاشی کساد بازاری نے انسانی زندگی کو بہت متاثر کیا تھا۔ضرور کیا ہوگا لیکن شاید ایسا نہ ہوا ہوگا ہوسکتا ہے کہ آج کے معیار کی سائنسی وفنی ترقی نہ ہونے کے سبب انسانی جانوں کا نقصان زیادہ ہوا ہو لیکن معاشی لحاظ سے اتنا نقصان اس لئے نہیں ہوا تھا کہ اُس زمانے میں معیشت کا پھیلائو آج کی طرح نہیں تھا2008ء کی معاشی کساد بازاری (ڈپیرشن) نے بڑی معیشتوں والے ملکوں کو سوچنے پر مجبور کیا تھا۔امریکہ جیسے سپرپاور میں اُس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد تک پہنچ چکی تھی۔اسی طرح یورپ سے ہوتے ہوئے اس کے اثرات نے ایشیاء تک پہنچ کر پاکستان جیسے ملکوں کو اس حال پر پہنچا دیا تھا کہ ملک میں گرمیوں کے موسم میں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور دیہاتوں میں اس کا دورانیہ بیس گھنٹے تک پہنچ جاتا تھا لیکن پھر اس کساد بازاری کا ایک بظاہر اچھا نظر آنے والا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ دنیا میں عالمگیریت کا ڈول ڈالا گیا۔جس کے سبب بڑی معیشتوں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے حامل ملکوں کے لئے دنیا بھر کے دروازے چوپٹ کھل گئے۔غریب ممالک اور ایران کے عوام نے اس لحاظ سے اس کا خیر مقدم کیا کہ اب شاید اس عالمی معیشت اورعالمی منڈی میں سے اُن کو بھی کچھ حصہ مل جائیگا اور اس میں شک نہیں کہ حصہ ملا بھی لیکن اُس کا فائدے کی بجائے نقصان زیادہ رہا۔ترقی یافتہ ملکوں کے سرمایہ داروں نے غریب ممالک کے غریب مین پاور سے خوب فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنے کارخانے اور صنعتیں اپنے ملکوں سے اُٹھا کر ان کے ہاں لگوالیں کچھ لوگوں کو روزگار ضرور ملا لیکن اس کے ذریعے سے جو نقصان ان غریب ملکوں میں ماحولیات کو پہنچا اس کا علاج اور تدارک نا ممکن رہا اس پورے نظام کا بڑا فائدہ پھر عالمی سرمایہ داروں کو حاصل رہا اور
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بنام وطن
2018-19تک اس عالمگیر معاشی نظام نے غریبوں کو خوب خوب لوٹا البتہ ایک فائدہ غریبوں کو یہ ہوا کہ امیر ملکوں میں لیبر کی درآمد کے دروازے ان پے کھل گئے۔اگرچہ وہاں بھی اُن کا استحصال ہی ہوتا رہا لیکن پھر بھی کم از کم بے روزگاری سے بچتے ہوئے اور اپنے غریب ملکوں کی نسبت ذرا زیادہ پیسے ملتے رہے خلیجی ممالک میں پاکستان کے محنت کشوں نے مشکل حالات میں اپنے ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے کے علاوہ اپنے اپنے خاندانون کے معیار زندگی کو غربت سے نکال کر متوسطہ طبقے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔لیکن اب کویڈ۔19کے بعد سے ہزاروں لاکھوں پاکستانی مزدور بے روزگاری کے سبب بے چارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ اس وقت نہ صرف وہ بے روزگاری کے ہاتھوں مقروض ہورہے ہیں بلکہ اُن پر منحصر اُن کے خاندان کے افراد کی خوراک اور صحت پر اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔پاکستانی مزدور طبقے کی اکثریت کو اس وقت نہ سماجی فاصلے رکھنے کی سہولت اور مواقع حاصل ہیں اور نہ ہی وہ بے چارے اپنے گھرون کو واپس آسکتے ہیں 10x12فٹ کے عربوں کو بوسیدہ متروک گھروں کے ایک ایک کمرے میں دس بارہ کے قریب مزدور ایک دوسرے کے اوپر چارپائیاں لگوا کر زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں۔
دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں کے بڑے بڑے ائیر بس اور دیگر جہاز ائیر پورٹوں پر کھڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں دفاتر،صنعتیں ،کارخانے اور کام کے دیگر مقامات ،ہوٹل ،ریسٹورنٹس سب ویرانی کامنظر پیش کر رہے ہیں،مغرب اورامریکہ میں پچاس فیصد سے زیادہ دفاتر کا کام گھروں سے ہورہا ہے۔تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ایسے میں پاکستان کے نوجوانوں کے لئے مواقع بن سکتے ہیں لیکن اس کے لئے اُن کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا ہوگا اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو اس بات پر گہرائی کے ساتھ سوچنا ہوگا اور صحیح منصوبہ بندی کرنا پڑیگی کہ جب لاکھوں لوگ گلف ممالک سے بے روزگار ہو کر واپس آئیں گے تو اُن کی وجہ سے یہاں کے انفراسٹر کچر پر جو دبائو آئے گا اُس کا حل کس نے کیسے نکالنا ہے اس وقت وزیراعظم کے صنعتوں کے لئے سستی بجلی کے سبب ٹیکسٹائل کی صنعت میں تیزی تو آئی ہے لیکن ابھی اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کپڑے کی طلب زیادہ اور رسد انڈسٹریز بند ہونے کے سبب کم ہے تعمیراتی شعبوں میں بھی سیمنٹ سریا اور دیگر متعلقہ مواد اینٹ وغیرہ سب مہنگی ہورہی ہیں اوروزیراعظم نے اس شعبے کے لئے جس غرض سے مراعات دی تھیں اُس کا پھل غریب مزدور کو صحیح طور پر نہیں مل رہا ابھی کورونا نے رہنا ہے اور معلوم نہیں ویکسین کب آئے گی اور آئے گی بھی تو غریبوں کو کب میسر ہوگی۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا
محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائیگی