حکومت اور حزب اختلاف مذاکرات

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سپیکر اور حزب اختلاف کے درمیان تنازعہ کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے بعد اگرچہ پہلی نشست نتیجہ خیز نہیں ہو سکی لیکن فریقین کے درمیان مذاکرات مثبت قدم ہے جس میں پیشرفت نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی اراکین اور خاص طور پر وزراء سپیکر اور حزب اختلاف کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ میں جلتی پر تیل کا کام نہ کرتے تو معاملہ سنگین نہ ہوتا ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی حکومت اور سپیکر سے جو جائز شکایات ہیں ان کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین کو خاص طور پر ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے جو شکایات ہیں بنیادی طور پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اختلاف کی ابتداء وہاں سے ہوئی، وسائل کی منصفانہ تقسیم حزب اختلاف کا مطالبہ نہیں بلکہ یہ ان کے حلقوں کے عوام سمیت پورے صوبے کے عوام کا مطالبہ ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ اس کے علاوہ ایوان کے اندر حزب اختلاف کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنا بھی ضروری ہے، جہاں تک مطالبات اور مذاکرات کا تعلق ہے ان دونوں کی پوری طرح گنجائش ہے لیکن ایوان کو بازیچہ اطفال بنانے کا جو حالیہ مظاہرہ دیکھنے میںآیا اس کی گنجائش نہیں۔ پارلیمانی روایات کا تقاضہ ہی یہ ہے کہ ایوان کے اندر اور ایوان سے باہرکسی بھی فورم پر اپنے تحفظات وشکایات کا اظہار مناسب طریقہ سے ہو اور اس کا جواب بھی دوسرے فریق کو اچھی اور رواداری کی فضا میں دینا ان کی ذمہ داری ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور انا پرستی کی بجائے ایوان کی کارروائی احسن طریقہ سے چلانے کی سعی کی جائے گی اور فریقین باہم مل بیٹھ کر اختلافات دور کریں گے اور ایوان کا ماحول مزید مکدر نہیں کیا جائے گا۔
اسلامی مہینے کی تاریخوں بارے وفاقی وزیر کا متنازعہ بیان
وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی کی جانب سے رویت ہلال کمیٹی کے ذیقعد اور رجب کے چاند کی تاریخ کا غلط اعلان کرنے سے متعلق بیان ایک نیا پینڈوراباکس کھولنے کے مترادف ہے۔ قبل ازیں جو تنازعہ مسجد قاسم علی خان کی مقامی کمیٹی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے درمیان دو ملائوں میں مرغی حرام کی کیفیت تھی مگر اب حکومت ہی کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے درمیان کی اس کشمکش کو کیا نام دیا جائے۔وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی پہلے بھی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں اور کارکردگی پر معترض رہے ہیں، وفاقی وزیر کے اس بیان سے تو رمضان المبارک اور عیدین کے حوالے سے ابھی سے شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں ایسے میں عوام کس کی سنیں اور کس کو درست مانیں۔ بہرحال سرکاری طور پر پیروی مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کی ہوگی لیکن خیبرپختونخوا میں اس سال صورتحال اسلئے مختلف ہوسکتی ہے کہ جب خود حکومتی عہدیدار تک مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کو غلط قرار دے رہے ہیں تو پھر صوبے میں پہلے سے کمیٹی کے حوالے سے مثبت تاثرات نہ ہوتے ہوئے اس کے فیصلے پر کیسے صاد کیا جائے۔سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر نے یقیناً اپنے وزارت کے ماہرین ہی کے آراء کی بنیاد پر ذیقعد اور رجب المرجب کے چاند اور تاریخوں کو غلط قرار دیا ہوگا۔ وفاقی حکومت اگر اس کے باوجود بھی رویت ہلال کمیٹی کی اصلاح اور جواب طلبی کی زحمت نہ کرے تو عوام کا اس پر سے اعتبار اٹھ جانا فطری امر ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دینی اہمیت کے حامل فریضہ کو ایسے افراد کو سونپ دے جس پر لوگ اعتماد کرسکیں یا پھر اسے صوبائی حکومتوں کے اختیار میں دے کر ان کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے پورے پاکستان میں ایک ہی دن روزہ رکھنے اور عید منانے کی پہلے بھی دستور کم ہی تھا وفاقی وزیر کے بیان نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔
ون ویلنگ اور کار ریس
صوبائی دارالحکومت میں، حکومتی عملداری کے باوجودمنچلے موٹرسائیکل سوار کھلے عام ون ویلنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوںمیں چھٹیوں کے دنوں میں کم سن اور نوجوان طالب علم بھی ون ویلنگ سے دل بہلاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو تے ہیںبعض علاقوں میں رات گئے منچلوں کی جانب سے موٹر سائیکل ریس اور وین ویلنگ کے مظاہر ے سے شہریوں کا سکون غارت ہوتا ہے ۔حیات آباد میں رات گئے موٹر کار ریس کے باعث مکینوں کی نیند میں خلل واقع ہونے کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے اس بارے میں علاقہ پولیس کو سخت کارروائی کی ہدایت کی جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ پولیس حکام اس مسئلے کا سنجید گی سے نوٹس لیں گے اور اس مشکل سے عوام کو نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ والدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریس لگانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔انتظامیہ اور پولیس کو اس طرح کے عناصر کیخلاف سخت اقدامات کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔پولیس اور انتظامیہ چاہے تو خطروں سے کھیلنے والے ان کھلاڑیوںکو روکنا کوئی مشکل نہیں۔ اس قسم کے عناصر سے معاشرہ ہی نہیں خود اُن کے والدین بھی عاجز ہیں بہتر ہوگا کہ اس سلسلے میں ایسے سخت اقدامات اُٹھائیں جائیں جو موثر اور مستقل ہوں ۔