احتجاج کے شور میں مکالمہ کی احسن تجویز

پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف نے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے سیاسی طاقتوں کے درمیان قومی مکالمے کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سماجی و معاشی صورتحال خراب ہے اور اسے صرف اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی بہتر کیا جاسکتا ہے، جس کیلئے قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کو تباہ کردیا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، معیشت کا ہر شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے۔اپنے بڑے بھائی اور مسلم لیگ(ن)کے قائد نواز شریف جو سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں (اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ)کے درمیان قومی بات چیت کی حمایت کر رہے ہیں، کے برخلاف شہباز شریف ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے صرف سیاسی قوتوں کے درمیان قومی مکالمہ کے خواہاںہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے ملک کے حالات بہتر بنانے ہیں تو تمام سیاسی قوتوں کو قومی مکالمے میں خود سے شامل ہونا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو قومی سیاست کو زہرآلودہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ اب سیاسی حریفوں کیخلاف سیاسی تبادلہ خیال کیچڑ اُچھالنے سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت اور پی ڈی ایم ملتان میںجلسہ کا ہر قیمت پر انعقاد اور حکومت کی جانب سے بزورقوت جلسہ روکنے کی کھینچا تانی اور کشیدگی کا ماحول عروج پر ہے پی ڈی ایم کے قائدین بشمول مسلم لیگ(ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز حکومت سے سیاسی مکالمے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں نظر آتی ہیں، پی پی پی کے چیئر مین اور قائد جمعیت علمائے اسلام بھی اسی سوچ سے متاثر وآمادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے قریب خیال کئے جانے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب قید وبند کی صعوبتوں کو جھیلنے کے باوجود سیاسی مکالمے پر زور دے رہے ہیں جسے اگر اعتدال اور حقیقت پسندانہ سوچ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک جمہوری تحریک یا حزب اختلاف کی جماعتوں کا اکٹھ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کی وکالت کررہی ہے اور دوسری جانب دعویٰ جمہوریت کا کیا جارہا ہے۔ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور موجودہ حکومت کی پشتبانی کا جسے ایک جانب الزام دیا جارہا ہے بات چیت کی بھی ان سے کرنے کی خواہش ہے جو کسی طور بھی جمہوری اور حقیقت پسندانہ رویہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ خواہ موجودہ حکومت کو سلیکٹڈ ہی قرار دے کر مکالمہ کیا جائے بہرحال مکالمہ سیاستدانوں ہی کے درمیان ہونا چاہئے اور اس کا ایجنڈا اگر حکومت گرانے کی بجائے آئندہ کیلئے آزادانہ انتخابات پر اتفاق اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور اس سے تعاون ومدد مانگنے اور اسے ملوث کرنے کی کوششوں سے مکمل طور پر پرہیز پر اتفاق کر کے میثاق پر اتفاق کیا جائے تو ملک میںسیاست کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف کی سوچ اور تجویز اسی سوچ کا آئینہ دار نظرآتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کافی قبل ہی حزب اختلاف کی جماعتوں کو مکالمے کی دعوت دی جا چکی ہے جس کا حزب اختلاف نے مثبت جواب نہیں دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور حکومتی قیادت دونوں کو شہباز شریف کی تازہ تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور باہم مل بیٹھ کر نہ صرف سیاسی معاملات، انتخابات میں مداخلت بلکہ ملکی معیشت اور عوامی مسائل کا حل تلاش کرنے میں بھی تعاون کا مظاہرہ کیاجائے۔ عوام اس وقت جس مشکل میں ہیں وہ نہ تو حکومت سے خوش ہیں اور نہ ہی حزب اختلاف کی جانب سے ملک میں ایک جانب کورونا وباء کے باعث متاثرہ تعلیم وکاروبار اور صحت کے خطرات اور دوسری جانب مہنگائی پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کے عالم میں ملک میں ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا ساتھ دیں گے۔ عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں جو ملکی سطح پر مفاہمت اور مکالمہ سے ہی ممکن ہے۔ عوامی مسائل اتنے گمبھیر ہوچکے ہیں کہ ان کا حل اگرچہ مفاہمت سے بھی ممکن نظر نہیں آتا لیکن کم از کم کچھ بہتری کی اُمید تو وابستہ کی جاسکے گی۔ یہ خود مسلم لیگ(ن)کی قیادت کیلئے بالخصوص اور پی ڈی ایم کیلئے بالعموم لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ جس امکان ہی کو مسترد کررہے ہیں انہی کی صف کا ایک دانا اسی امکان کی تجویز پیش کررہا ہے، بہتر ہوگا کہ طرفین ضد وانا کی دیواریں گراکر ٹھنڈے دل سے اس تجویز پر غور کریں ۔