مشرقیات

سعدی سفر پہ نکلے، والد بزرگوار کا ساتھ تھا۔ قافلے نے ایک جگہ رات میں قیام کیا تو اور لوگوں کیساتھ سعدی اور ان کے والد بھی اُتر پڑے۔ قافلہ ٹھہر گیا تو کھانے پینے سے فارغ ہو کر سعدی تلاوت کلام اللہ میں لگ گئے، قرآن عمل کیلئے اُتاراگیا ہے، عمل کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھا جائے۔ قرآن کے الفاظ پڑھنے اور دہرانے میں جو لذت ہے اور ثواب ہے وہ تو ہے ہی لیکن بات تب پوری ہوتی ہے کہ ہم اسے سمجھ کر پڑھیں۔سعدی عربی جانتے تھے اور خوب جانتے تھے، سعدی اس بات کو خوب سمجھتے تھے اُن کی مادری زبان فارسی تھی۔ اس زمانے میں فارسی زبان میں کلام اللہ کا ترجمہ ہوچکا تھا بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سعدی ہی نے پہلے پہل فارسی میں ترجمہ کیا تھا لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ اب پانچویں صدی ہجری کے ابتدائی زمانے کے بعض ترجموں کا پتہ چل گیا ہے۔ ایک زمانے میں جب ارض ہمالہ میں مغلوں کی حکومت تھی تو یہاں بھی فارسی کا چلن تھا یہی سرکاری زبان بھی تھی۔ قرآن کا پہلا ترجمہ جو اس علاقے میں ہوا وہ بھی فارسی میں تھا۔ یہ ترجمہ شاہ ولی اللہ نے کیا ان ہی کے صاحبزادوں شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے اس کا اُردو میں ترجمہ کیا، پھر کیا تھا اُردو میں بھی ترجمے ہونے لگے۔ اب تو یہ حال ہے کہ مکمل اور نا مکمل کوئی پونے تین سو ترجمے اور تفسیریں اُردو میں ملتی ہیں، اگر ایک بار بھی ہم نے زندگی میں ناظرہ قرآن نہیں پڑھا تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری پوچھ ہوگی اور سخت پوچھ ہوگی۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو ترجمے کیساتھ قرآن پڑھوائیں اور مسلمان بچوں کی خود بھی ذمہ داری ہے کہ اس بنیادی اہمیت کو سمجھیں۔ سعدی تلاوت کرچکے تو کچھ دیر کیلئے سو گئے۔ پھر تہجد کیلئے اُٹھے۔ سعدی نے وضو کیا، نماز پڑھی تو دیکھا کہ قافلے والے مزے سے پائوں پھیلائے سورہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بڑا افسوس ہوا، اپنے والد سے کہا آپ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے بے خبر سورہے ہیں، ان کے والد نے پوچھا مطلب کیا ہے تمہارا؟ سعدی نے کہا! انہیں تو توفیق نہیں ہوتی کہ اُٹھ کر دو رکعت نماز پڑھ لیں! ان کے والد نے جواب دیا میرے لعل! تم بھی سوتے رہتے تو اچھا تھا یہ کیا کہ قرآن اور نمازپڑھ کے تم دوسروں کی برائی کررہے ہو! یہ تو غیبت ہے۔ غیبت کرنا اور سننا دونوں حرام ہیں۔ آدمی بھی طرفہ تماشہ ہوتا ہے، ذراکوئی اچھا کام اس سے ہوگیا کہ اترانے لگتا ہے۔