پولیو کے خاتمے کیلئے وجوہات جاننے کی ضرورت

دنیا کے بیشتر خطوں میں پولیو ماضی کا قصہ بن گیا ہے لیکن کچھ خطے اب بھی ایسے ہیں جہاں یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ پاکستان کی پولیو ویکسینیشن کی کوششیں عسکریت پسندی اور غلط معلومات جیسے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اور حکومت کی جانب سے حفاظتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب بھی پاکستان کو پولیو سے پاک بننے کیلئے طویل سفر طے کرنا ہے۔ یہاں وہ تمام وجوہات ہیں جو ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے ضروری ہیں۔
دنیا میں صرف2ممالک میں پولیو وائرس باقی ہے جس میں سے ایک پاکستان اور دوسرا اس کا پڑوسی ملک افغانستان ہے۔
پولیو وائرس ایک بہت متعدی بیماری ہے اور یہ ذاتی رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ سینئر ماہر ڈاکٹرز یہ کہتے ہیں کہ مفلوج کرنے والے پولیو کے ہر کیس سے دیگر بچوں میں کم ازکم10غیر مفلوج انفیکشن ہوں گے۔کمسن بچوں میں پولیو کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے لگے لاک ڈاؤن کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً چار کروڑ بچے معمول کی ویکسینیشن سے محروم رہے جو کیسز میں اضافے کا باعث ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق عام طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں ہر200متاثرین میں سے ایک مستقل معذوری کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے ڈاکٹر کے مطابق اگر بچہ کمزور مدافعتی نظام کیساتھ غذائیت کا شکار ہے تو60لاکھ میں سے ایک معذور ہوسکتا ہے۔ پولیو ویکسین وائرس سے زندگی بھر کی مدافعت یقینی بناتی ہے اور یہ اس بیماری سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔
دوسری بیماریوں کے برعکس معذور کرنے والی اس بیماری کو ویکسنیشن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ وائرس کی تین نسل ہیں اور ان میں سے کوئی بھی انسانی جسم کے باہر نہیں رہ سکتی، اگر اسے متاثر کرنے کیلئے ویکسین سے رہ جانے والا شخص نہیں ملے گا تو یہ مرجائے گا۔
پولیو ویکسینز آسانی سے دستیاب ہیں تاکہ وائرس سے بچا جاسکے۔ ان میں سے ایک اورل پولیو ویکسین (او پی وی) ہے جو کسی کی طرف یہاں تک کہ رضاکاروں کی جانب سے دی جاسکتی ہے، دوسری ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (آئی پی وی) کے جو انٹرا مسکلر انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے، دونوں ویکسین استعمال کیلئے کافی محفوظ ہیں۔یہاں تک کہ اس وبا سے قبل ہی اس طرح کے ٹھوس اشارے ملے تھے کہ سال2020 پاکستان میں پولیو کی صورتحال سے متعلق خراب گزرے گا چونکہ اس وقت کورونا وائرس سے مقابلہ کیا جارہا ہے تاہم موجودہ بحران کے دوران صحت کے دیگر مسائل بھی توجہ کے مستحق ہیں۔ایک کروڑ80 لاکھ افراد جو پولیو کی وجہ سے معذور ہوگئے تھے وہ آج خود سے چل رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں کوئی بھی اپنی جسمانی کمی کی وجہ سے خود کو کمتر محسوس نہیں کرتا یقینی طور پر وہاں ایسی دنیا کے منتظر ہیں جو آگے بڑھے۔
اگر پولیو جلد ہی ختم نہیں ہوتا تو ہم ہر سال 2لاکھ معذور بچوں کی بحالی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، یہ بڑی تعداد پاکستان کی معیشت پر کافی دباؤ ڈال سکتی ہے (لہٰذا) بڑے پیمانے پر حفاظتی مہمات ہمارے مستقبل میں سرمایہ کاری ثابت ہوسکتی ہیں۔پولیو کی نگرانی کرنے والے نیٹ ورکس اور مہمات بچوں کیلئے دیگر صحت کے مسائل جیسے وٹامن اے کی کمی اور خسرہ کے پھیلاؤ کی بھی نگرانی کرتی ہیں تاکہ بروقت ان کا علاج کیا جاسکے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 10لاکھ افراد مختلف اقسام کی معذوری کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں خصوصی ضروریات کے حامل افراد کیلئے وسائل، مواقع اور خیال رکھنے کا نظام پہلے ہی بہت کم ہے، لہٰذا ایسے معذور افراد کے انحصار کا بڑھنا موجودہ نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگرچہ پولیو کا مرض پوری دنیا میں ایک طویل مدتی مرض تھا لیکن کچھ لوگوں نے پولیو کے نفسیاتی نتائج کو جانچا۔ایک تحقیق کے مطابق پولیو کے مریض اچانک معذور ہونے کی وجہ سے نفسیاتی صدمے کا سامنا کرتے ہیں۔ ویکسینیشن مہمات پر اندازاً ایک ارب ڈالر سالانہ لاگت آتی ہے جو مدت کیلئے پائیدار نہیں ہے، ایک مرتبہ اس وائرس سے دنیا کے پاک ہونے سے اس رقم کو تعلیم کی طرح کہیں اور لگایا جاسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے194رکن ممالک نے 2020میں ہر شخص تک ویکسین کا فائدہ پہنچانے کیلئے ایک عہد کیا ہے جس کے مطابق کرہ ارض سے پولیو کا خاتمہ ویکسین کی دہائی کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان اس وقت رواں سال پولیو کیسز میں اضافے کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ نئے کیسز کی تعداد باعث تشویش ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک بچہ متاثر ہوتا ہے تو دوسرے کم از کم200بچے اس وائرس کے خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اگر جلد اس وائرس کا خاتمہ نہیں ہوتا تو تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔
(بشکریہ ڈان)