3 249

بی آرٹی، شہادت العالمیہ، گیس اور سڑکوں کی بحالی

بی آر ٹی کی بس کیا رکتی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مہم چلتی ہے، یہ پیغام ایک بزرگ شہری کا ہے جو تحریک انصاف کی سیاست وحکومت دونوں کا ناقد ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ حق کو حق کہنے کا ظرف اور حوصلہ رکھتے ہیں۔ بی آرٹی بسوں کے منصوبے بس کاریڈور کے بننے میں بدعنوانی کی کہانیوں پر تو مجھے یقین کی حد تک گماں ہے، بی آرٹی کے ادھورے منصوبے اور اس کی تکمیل میں حکومت کی لاپرواہی نظر آنے والی حقیقت ہے، جس حکومت کو اس منصوبے کی تکمیل میں جلدی کرنی چاہئے اسی دورحکومت میں عالم یہ ہے کہ سوائے ایک ذیلی روٹ کے کوئی دوسرا روٹ ابھی تک نہیں چلایا گیا، ڈبگری گارڈنز اور حیات آباد مال پر کام بند ہے، یہ سب مسائل اپنی جگہ لیکن جہاں بسیں چل پڑی ہیں وہاں لوگوں کو بہت زیادہ سہولت بھی ہوگئی ہے، لوگوں نے گاڑیاں گھر میں کھڑی کر کے بسوں میں سفر کرنا شروع کردیا ہے، کرایہ مناسب ہی نہیں رعایتی ہے، بسوں کی باربار خرابی پر توجہ دی جانی چاہئے نیز کبھی محرم اور کبھی جلسے جلوسوں کے ڈر سے سروس بند نہیں کرنی چاہئے بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بی آرٹی روٹ پر بسوں کا تحفظ ممکن بنائے۔ میری دانست میں یہ کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے ذہن میں نہیں ہوگا کہ بی آرٹی کی بسوں کو نشانہ بنایا جائے، ان بسوں میں عوام سفر کرتی ہے اور جو بھی عوامی سہولت کی کسی چیز کو نقصان پہنچائے عوام خود ان کا احتساب کریں گے اور ان کا چہرہ بے نقاب کریں گے، اس لئے کم ازکم ان بسوں کو شاید ہی کوئی نشانہ بنانے کا سوچے، بہرحال ازروئے احتیاط بوقت ضرورت حفاظتی احتیاط کیساتھ بسیں چلائی جائیں اور ان کو بند کر کے عوام کو تکلیف نہ دی جائے۔
قبائلی ضلع مہمند کے موضع پنڈیالی سے نوراللہ کو شکایت ہے کہ ٹی ٹی سی کیلئے آسامی محکمہ تعلیم صرف ایم اے شہادت العالمیہ کے نمبرات کو ایگریگیٹ شمار کرتا ہے حالانکہ ہمارے دیگر اسناد بھی میٹرک، ایف اے اور بی اے کے برابر ہوتے ہیں، ان اسناد کو شمار نہ کرنے سے ہمارے نمبر کم پڑتے ہیں جبکہ غیرمتعلقہ مضامین میں ہائی لیول ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جہاں تک شہادت العالمیہ ہی کے نمبر شمار کرنے کا تعلق ہے اس حوالے سے پالیسی سازی کے وقت اسے تسلیم کیا گیا ہے بہرحال اب بھی وفاق المدارس کے عہدیدار اس سلسلے میں حکومت سے بات چیت کر سکتے ہیں، دوم یہ کہ آپ جسے ہائی لیول ٹیسٹ گردانتے ہیں درحقیقت ایسا نہیں تمام متعلقہ وغیرمتعلقہ مضامین میں انگریزی ریاضی سبھی مضامین ٹیسٹ میں شامل ہوتے ہیں صرف متعلقہ مضمون ہی کا ٹیسٹ نہیں لیا جاتا بلکہ یہ ایک جنرل قسم کا ٹیسٹ ہوتا ہے جس میں علماء سے امتیاز برتنے کا خیال درست نہیں۔ دینی علوم کے طالب علم محنتی اور قابل ہوتے ہیں، عصری علوم کا بھی ساتھ میں امتحان دینے کی اب تک پرائیویٹ کی صورت میں گنجائش تھی اب اس امر پر غور ہونا چاہئے کہ دینی علوم کے طلبہ کس طرح عصری علوم بھی حاصل کر سکیں، بہرحال علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی صورت میں ایک موقع موجود ہے اس سے فائدہ اُٹھایا جائے تو دینی علوم کے طالب علم پیچھے نہیں رہیں گے بلکہ تھوڑی سی محنت کریں تو بڑی کامیابی ان کے قدم چومے گی۔یونین کونسل ڈاگ87 کے سابق ضلع ممبر الحاج شمس الباری اور گاؤں دارمنگی کے سابق نائب ناظم جامدار خان نے علاقے میں گیس کی سخت لوڈشیڈنگ اور نکاسی آب کے مسئلے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کے باوجود ان کو ضرورت کے وقت گیس نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ قبل ازیں صوبے میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے چکے ہیں، توقع ہے کہ آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا، بہرحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس طرح کے دیہات اور محروم علاقوں کے عوام کی اپیل پر صورتحال سے آگاہی کے بعد نوٹس لیں تو اچھی حکمرانی کا تاثر درست ثابت ہوگا اور عوام کی توقعات پوری ہونے سے ان کو مایوسی نہ ہوگی۔چترال سے عبدالغنی نے چترال میں سڑکوں کی خستہ حالی کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چترال کی مرکزی اور ذیلی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، بعض علاقوں میں تو سڑکوں کے صرف نشانات ہیں، ابشارو میں پل گرنے کے باعث علاقہ ضلع سے کٹ چکا ہے، مواصلات کے ذرائع اشیائے خورد ونوش کی بہم رسانی سے لیکر بیماروں کی منتقلی تک بطور خاص ضروری ہیں مگر چترال میں کافی عرصے سے اس خراب صورتحال کے باعث لوگ اجتماع کا انعقاد کر کے سڑکوں کی تعمیر کا ایک نکاتی ایجنڈا لیکر بار بار مطالبہ کر رہے ہیں جس کا حکومت کی جانب سے نوٹس نہ لینا اور عوام کو طفل تسلیوں سے مطمئن کرنے کی سعی قابل قبول نہیں۔ حکومت کو چترال اپر اور لوئر دونوں اضلاع میں عوام کی سہولت اور سیاحت کے فروغ کیلئے سڑکوں کی تعمیر ومرمت اور بحالی شکستہ پلوں اور تباہ ہونے والے بنیادی اساس کو مکمل طور پر بحال کرنے کیساتھ ساتھ ریش بجلی گھر، گولین گول پاور پراجیکٹ کی بحالی ومرمت اور پن بجلی کے دیگر چھوٹے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور جلد سے جلد تکمیل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔(قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 9750639 0337-پر میسج اور وٹس ایپ کرسکتے ہیں)۔