لغویات کا ناٹک

انگریزی زبان میںTheater of the Absurd یعنی لغویات کا ناٹک یا مضحکہ خیز تماشے کی اصطلاح عام ہے۔ کبھی کبھی تو گمان ہونے لگتا ہے کہ یہ اصطلاح ہماری ریاست کے کرداروں کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔ اس کھیل کے سب کردار ایک ایسے وقت میں اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں جب کھیل دیکھنے والوں کو خود زندگی اور موت کا مسئلہ لاحق ہے۔ یہ مسئلہ ہے کورونا کی وبا کا اور کردار ہیں ہماری سیاسی جماعتیں۔
سب سے پہلے پیپلز پارٹی کو لے لیجئے، سخت لفظ سہی مگر پی پی پی کے طرزعمل کو منافقت کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ منافقت ذاتی بھی ہے اور سیاسی بھی۔
ذاتی طور پر پی پی پی قیادت کی گھریلو تقریبات میں محدود شرکت اور شدید احتیاط جبکہ سیاسی جلسوں میں عوام کی بھرپور آمد اسی تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سیاسی طور پر پی پی پی اپنی صوبائی حکومت میں لاک ڈاؤن اور اجتماعات پر پابندی کی سب سے بڑی علمبردار کے طور پر سامنے آئی۔ اب البتہ وہ سارے اصول سیاسی مفادات کیلئے ہوا ہوئے۔ اس کو منافقت کے علاوہ کیا کہا جائے؟
ن لیگ کی سیاست البتہ واضح ہے جس کا فی الحال فیصلہ مریم نواز کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں اس لئے ان کا طرزعمل اور اپروچ جارحیت اور غصے پر مبنی ہے مگر اسی جارحیت کا اظہار ہو رہا ہے غفلت، لاپرواہی اور بے حسی میں۔
اپوزیشن کی منافقت اور بے حسی کا جواب اگر طاقت سے دیا گیا تو حالات کی خرابی کا ذمہ بھی حکومت کے سر ہوگا۔ ایک عرصے تک نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد مریم نواز نے سیاست سے بریک لئے رکھی تھی۔ اس وقت نہ سلیکٹڈ نہ سلیکٹرز کا خیال آیا مگر اب وہ مصِر ہیں کہ عوام تمام احتیاطیں بالائے طاق رکھیں اور سڑکوں، چوراہوں اور میدانوں میں اکھٹے ہو جائیں اور ووٹ کو عزت دے کر ہی واپس جائیں۔ اس دوران کورونا کی جو صورتحال ہوگی اس کی پرواہ دور دور تک نظر نہیں آتی۔
خبروں میں ان رہنے کیلئے وہ اپنے بزرگوں کی وفات کی خبر وقت پر نہ ملنے کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتی ہیں اور کبھی جیل اور چوہوں کی بچی ہوئی خوراک کا تذکرہ کرتی ہیں۔ نواز شریف کی عدم واپسی کے ایسے بودے جواز پر حکومت کو کھل کر شاٹس کھیلنے کا موقع بھی خوب ملتا ہے مگر مریم بی بی ہر حالت میں تصادم اور تنازع کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ لوگوں کو اس ماحول میں اکٹھا کرنے اور کورونا کے پھیلاؤ میں ن لیگ کی مجرمانہ غفلت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بات اگر حالات خراب کرنے کی ہو اور حکومت کی نااہلی، نادانی اور ناتجربہ کاری کا ذکر نہ ہو یہ ممکن نہیں۔ کوئٹہ، پشاور اور سوات میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر وہاں جلسے بزور طاقت نہیں روکے گئے۔
پنجاب میں البتہ بزدار سرکار کی غیر سنجیدگی عیاں ہے۔ گوجرانوالہ میں ہلکی پھلکی رکاوٹیں لگائی گئیں مگر ملتان میں بھرپور طاقت کا استعمال جاری ہے۔
واضح طور پر یہ 13دسمبر کو لاہور جلسے کو روکنے کا ٹریلر ہے۔ اگر ملتان جلسے کو کھل کر ہونے دیا جاتا تو لاہور میں رکاوٹ کا جواز نہ رہتا۔
اب حکومت نے اپنی پالیسی واضح کر دی ہے کہ پنجاب میں پی ڈی ایم یا ن لیگ کے جلسے نہیں ہونے دئیے جائیں گے، اس کا بظاہر نتیجہ تصادم ہے۔
ملتان میں اس تصادم کا لیول کم ہے لیکن اگر لاہور میں ن لیگ کی عاقبت نااندیشی کا مقابلہ حکومت کی نااہلی سے ہوا تو اس کا انجام خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ماحول میں ٹھہراؤ، سنجیدگی اور متین فکری کا مظاہرہ کرے۔ اپوزیشن کی منافقت اور بے حسی کا جواب اگر طاقت سے دیا گیا تو حالات کی خرابی کا ذمہ بھی حکومت کے سر ہوگا۔
دوسری طرف اپوزیشن کے جلسوں میں کوئی خاص جوش وخروش اور اثر بھی نظر نہیں آ رہا۔ مزید جلسے اپوزیشن کو ایکسپوز ہی کریں گے، سیاسی طور پر بھی اور اخلاقی طور بھی۔
سیاسی طور پر عوام کی محدود شرکت سے اور اخلاقی طور پر کورونا پر بے حسی اور غفلت سے مگر حکومت میں سمجھداری اور تجربہ کاری کی اتنی ہی کمی ہے جتنے اپوزیشن میں احساس اور ذمہ داری کی۔اب تو صرف اُمید ہی ہے کہ منافقت، غفلت اور نااہلی کے اس کھیل میں کم سے کم نقصان ہو۔