ارباب اختیار۔۔ ایک نظر ادھر بھی

شاور کی بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی نے ہم سے زندگی کی بہت سی سہولتیں چھین لی ہیں، ہمارے مشہور ومعروف شاہی باغ اور وزیرباغ کے چاروں طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مکانات تعمیر ہوچکے ہیں، دکانیں اور پلازے بن چکے ہیں، دکھ تو اس بات کا ہے کہ باغات کے اندر بھی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، دفاتر قائم کئے جاچکے ہیں، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ذوق جمالیات سے محروم ہوچکے ہیں، ہمیں باغات کی اہمیت کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ ہماری سڑکیں گرد وغبار سے اٹی ہوئی ہیں، بے تحاشہ ٹریفک نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے، گھر سے نکلتے ہی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہم گاڑیوں، رکشوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں جیسے مشینی درندوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں، ہمارے چاروں طرف دھواں چھوڑتی گاڑیاں، ہارن بجاتی بسیں اور پھر مادرپدر آزاد رکشے، اونٹ ایک شریف جانور ہے لیکن نجانے کس ستم ظریف نے اونٹ کے حوالے سے کہہ رکھا ہے ''اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی'' یقینا اس نے پشاور کی سڑکوں پر دوڑتے بھاگتے رکشوں کو نہیں دیکھا ہوگا ورنہ وہ یہ تاریخی ضرب المثل ان رکشوں کے بارے میں کہتا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان رکشوں کی تعداد کا آج تک صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پشاور کے حدوداربعہ کے مطابق ان کی کوئی تعداد ہی مقرر نہیں کی گئی، اگر اس قسم کی کوئی بات ہے بھی تو وہ صرف کاغذات تک محدود ہے زمینی حقائق کوئی اور کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں پشاور کی سڑکوں پر سائیکلوں کی بہار تھی، یہ کم خرچ بالا نشین سواری اگر پشاور میں پھر سے رواج پاجائے تو یقین کیجئے ہمارے بھی وارے نیارے ہوجائیں۔ ہمارے یہاں جو ذرا ذرا سی بات پر بے تحاشہ ہارن بجا کر ماحول میں آواز کی آلودگی پیدا کی جاتی ہے کم ازکم اس سے تو جان چھوٹ جائے گی۔ آپ سائیکل پر سوار ہوکر پورے پشاور کو ایک گھنٹے میں باآسانی دیکھ سکتے ہیں، پہلے بچے چھٹی ساتویں میں پہنچتے تو سائیکل ان کا سب سے بڑا خواب ہوتا، اگر کلاس میں فرسٹ آجاتے تو ان کی والدین سے پہلی فرمائش سائیکل ہی کی ہوتی، پشاور میں جگہ جگہ کرائے کی سائیکلیں دستیاب تھی ہر بڑے بازار میں ایک آدھ سائیکلوں کی دکان ضرور ہوتی، دکاندار کے پاس ایک موٹا سا رجسٹر اس کی دکان میں موجود اکلوتی میز پر پڑا ہوتا جو بچہ یا بڑا کرائے پر سائیکل لینے کا طلب گار ہوتا اس کا نام اور سائیکل لینے کا وقت رجسٹر میں درج کردیا جاتا، اس وقت شہر کی آبادی بھی کم تھی زیادہ تر لوگ علاقے کے لوگوں کو جانتے تھے اس لئے سائیکل لینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ زیادہ تر لڑکے ہی کرائے کی سائیکلیں پشاور کی سڑکوں پر بلا کسی مقصد کے دوڑاتے رہتے، سائیکل چلانا ان کیلئے ایک بہت بڑی تفریح تھی، آج کل بچے اپنے والدین سے سب سے پہلی فرمائش موٹر سائیکل کی کرتے ہیں، پہلے جس طرح سائیکل بھگائے جاتے تھے اب موٹر سائیکل اُڑائے جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جن کے پاؤں بریک تک بمشکل پہنچ پاتے ہیں بائیک کو یوں اُڑاتے ہیں جیسے وہ ان کی غلام بے دام ہو۔ اس حوالے سے اب تک بہت سے دردناک حادثات بھی پیش آچکے ہیں لیکن جب چیزیں بدلنے لگتی ہیں تو پھر کسی کے روکنے سے نہیں رکتیں، جب باغات ناپید ہوتے چلے جائیں اور شہروں کی سڑکوں پر گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کا راج ہو تو پھر ہسپتال آباد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اب بڑے بڑے پلازے راتوں رات تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں ڈاکٹرز اپنے نجی کلینک چلارہے ہیں، بہت سے ایسے پلازے ہیں جن کی اپنی کار پارکنگ نہیں ہے۔ ان کے سامنے سڑک پر گاڑیاں قطار درقطار کھڑی نظر آتی ہیں، درمیان میں پولیس کانسٹیبل بھی اپنی چھوٹی سی گاڑی پر گھومتا نظر آتا ہے جو گاڑی قطار سے باہر پارک کی گئی ہو وہ اسے ہوا میں اُٹھا کر فٹ پاتھ پر کھڑا کر دیتا ہے جب گاڑی کا مالک اپنے کام کاج سے فارغ ہوکر واپس آتا ہے تو جرمانے کی رقم وہیں ادا کرکے اپنی گاڑی چھڑا لیتا ہے۔ پلازوں کی تعمیر کے حوالے سے جو قواعد وضوابط ہیں ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ قواعد وضوابط تو اپنی جگہ رہے ہمارا تو یہ خیال ہے کہ اب پشاور مزید پلازوں کی تعمیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اب شہروں کی بجائے دیہات کو سہولیات مہیا کی جارہی ہیں، اگر دیہات میں معیاری سکول، ہسپتال، پختہ سڑکیں، کاروبار کے مواقع اور دوسری سہولیات موجود ہوں تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی جنم بھومی چھوڑ کر اجنبی شہروں کی طرف ہجرت کرے؟ آج پشاور کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ لوگ مجبور ہو کر پشاور کا رخ کرتے ہیں اور جہاں آبادی بڑھتی ہے وہاں آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آبادی کے اس عفریت کو قابو کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ سڑکیں بھی کشادہ کی جارہی ہیں، فلائی اوورز بھی تعمیر کئے جارہے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔