پی ڈی ایم کا ملتان جلسہ

26نومبر سے جاری گرفتاریوں، مقدمات کے اندراج، پابندیوں اور دوسرے اقدامات کے باوجود30نومبر کو بالآخر ملتان میں پیپلز پارٹی کے 53ویں یوم تاسیس کے موقع پر پی ڈی ایم کا جلسہ ہوہی گیا۔ ملتان انتظامیہ نے 29اور30کی درمیانی شب شہری داخلی راستے کنٹینر لگا کر بند کروا دیئے۔ قاسم باغ سٹیڈیم پر رات گئے پولیس آپریشن کرکے 100سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ قاسم باغ کی طرف جانے والے راستے سیل کر دیئے گئے لیکن دوپہر دوبجے جب اچانک چاروں طرف سے سیاسی کارکنوں کے جلوس چوک گھنٹہ گھر تک ساری رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے پہنچ گئے تو پولیس کو پیچھے ہٹا لیا گیا۔ تصادم کا خطرہ ٹل گیا، جلسہ ہوگیا۔ پی ڈی ایم اور انتظامیہ دونوں نے حالات کی نزاکت کا احساس کیا۔ جلسہ سٹیڈیم کی بجائے چوک گھنٹہ گھر میں کر لیا گیا۔ انتظامیہ اپنی ضد سے پیچے ہٹ گئی، 30نومبر کو ملتان میں کاروبار زندگی معطل رہا۔ پولیس نے مختلف بازاروں میں داخل ہو کر دکانیں بند کروائیں اور بعض علاقوں میں لوگوں نے دو دن سے پہلے خوف کی وجہ سے کاوربار بند رکھا۔ شہر کے داخلی راستے البتہ بند رکھے گئے، موبائل نیٹ ورک سسٹم اور پی ٹی سی ایل انٹر نیٹ14گھنٹے بند رکھا گیا۔ اس جبر وتشدد اور گرفتاریوں کے باوجود فردوس عاشق اعوان کہہ رہی تھیں ''پی ڈی ایم والے جلسہ کا سامان اُٹھا کر سٹیڈیم سے بھاگ گئے، اب شہر میں مارے مارے پھرتے ہیں''۔ بھاگا کون، شکست کس کی ہوئی اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آخری لمحات میں دانش مندی کے مظاہرے نے ملتان کے امن وامان کو محفوظ کرلیا یہ کسی کی شکست ہے نہ فتح۔ جمہوریت اسی کوکہتے ہیں۔ اختلافات سیاست میں ہوتے ہیں البتہ انہیں ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کرنے والے سیاسی عمل کی نہیں استحصال وجبر کی نوکری کرتے ہیں۔ ملتان اور گرد ونواح کے شہروں اور قصبوں میں پچھلے چار دنوں سے پھیلے خوف وہراس کے بادل چھٹ گئے، سو اب اُمید کی جانی چاہئے کہ پچھلے ایک ہفتہ کے دوران درج کئے جانے والے مقدمات بھی واپس لے لئے جائیں گے۔ گرفتار کارکنوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ سرائیکی علاقوںکے لوگ مطمئن ہوسکیں۔ پی ڈی ایم کے ملتان جلسہ میں صرف میاں افتخار حسین اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سرائیکی صوبہ کے حوالے سے کھل کر بات کی دیگرجماعتوں کے قائدین نے سرائیکی ایشو کو نظرانداز کیا۔ مریم نواز صوبہ بنانے کے حوالے سے عمران خان کی وعدہ خلافی کا تو طنزیہ انداز میں ذکر کرتی رہیں لیکن خود سرائیکی صوبہ کے حق میں دو لفظ بھی نہ بول پائیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی جماعت سرائیکی وصیب کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہے۔ پی ڈی ایم کے کامیاب جلسہ کے باوجود سرائیکی وسیب کے لوگ پی ڈی ایم سے ناخوش ہیں، انہیں شکوہ ہے کہ پی ڈی ایم نے ملتان میں سرائیکی صوبہ کو اپنے میثاق پاکستان کا حصہ بنانے کا اعلان نہیں کیا۔
ملتان میں 30نومبر کی شام جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ 13دسمبر کے لاہور جلسہ کے بعد حکومت کیخلاف تحریک شروع کریں گے جو حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ کیا واقعی پی ڈی ایم حکومت گرانے کی تحریک چلا پائے گی اور حکومت احتجاجی سیاست سے رخصت ہو جائے گی؟ اس سوال پر جذباتی نعرے بازی کی بجائے غور وفکر کی ضرورت ہے۔ حکومت جس کے چھوٹے بڑے ترجمان بات بات اور بیان بیان میں اپوزیشن کا تمسخر اُڑاتے پھرتے ہیں کیا اس حقیقت کو نظرانداز کرسکتے ہیں کہ عوام کو درپیش مسائل ہر گزرنے والے دن کیساتھ گمبھیر تر ہوتے جارہے ہیں جبکہ حکومت کی ترجیحات قدرے نہیں یکسر مختلف ہیں۔ ان حالات میں حکومت کے ذمہ داروں کا فرض اولین یہ ہونا چاہئے کہ وہ شائستہ کلامی سے ماحول کو بہتر بنانے کیساتھ عملی طور پر ایسے اقدامات پر توجہ دیں جن سے عوامی مسائل حل ہوں۔ ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ اس اعتبار سے سیاسی طور پر اہم تھا کہ اس جلسہ سے محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے خطاب کرنا تھا۔ آصفہ بھٹو زرداری کا مختصر خطاب مکمل طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کی ابتدائی سیاسی تقاریر جیسا تھا۔ پی پی پی کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ جلسہ میں بینظیر بھٹو کی صاحبزادی کی شرکت اور تقریر کو لیکر بھگوڑے جیالے اور فیس بکی دانشوروں کے لشکر آسمان سر پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔ رونا وہی ہے موروثی سیاست کا، اچھا ویسے موروثیت صرف سیاست میں ہے؟ عدلیہ، فوج، طب، صحافت اور دوسرے شعبے اس سے مختلف ہیں؟ ہمارے خیال میں موروثی سیاست کا رونا روتے رہنے کی بجائے اس جبر وستم کے خاتمے کیلئے کوششیں ہونی چاہئیں جس کی وجہ سے سیاست میں جمہوری عمل کی بجائے موروثیت مقبول ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی یہ 22،24 سال سے ایک ہی شخص پارٹی کا سربراہ ہو اسے کیا کہیں گے؟ میں چونکہ اپنے ہمزاد کے عزائم کو سمجھ رہا ہوں اس لئے اس بحث میں نہیں پڑتا، البتہ اس پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر سیاسی عمل انہونیوں کا شکار نہ ہو تو نہ صرف جمہوری اقدار پھلتی پھولتی ہیں بلکہ سیاسی جماعتیں بھی اپنے اندر جمہوری روایات کو پنپنے کا موقع دیتی ہیں۔