جماعت اسلامی حکومت اور اپوزیشن اتحاد سے الگ تھلگ

جماعت اسلامی اپنے بانی مولانا مودودی کے دور سے عملی سیاست کے میدان میں کوشاں ہے لیکن تب سے لے کر مولانا طفیل محمد کے دور تک جماعت اسمبلیوں میں تو پہنچی مگر اس تعداد میں نہیں کہ کسی طور حکومت کا حصہ بن سکے یا کم ازکم مولانا فضل الرحمن اور متحدہ قومی موومنٹ کی طرح حکومت سے کسی طرح کا حصہ وصول کر سکے۔ ہمارا یہاں یہ مطلب قطعاً یہ نہیں کہ جماعت مذکورہ بالا کی طرح کسی بلاواسطہ یا بالواسطہ بلیک میلنگ کرنے کی جدوجہد کرے یا کرے گی، جماعت اسلامی کا کسی بھی اسمبلی میں صرف وجود کی حد تک کردار رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں قاضی حسین احمد نے کبھی سیاسی اتحاد اور کبھی انفرادی حیثیت سولو فلائٹ کے تجربے کئے اور ہر تجربہ پچھلے تجربہ سے تلخ ہی رہا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بن کر جو نقصان ان کی جماعت کو ہوا پھر انفرادی حیثیت کے ذریعے (چھ ارب روپے کے مالی نقصان کے علاوہ) سیاسی نقصان کا تخمینہ لگانا محال ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک ڈکٹیٹر کے دور میں یعنی 2002 میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے ایک اور غیرفطری اتحاد میں صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت تو بنالی اور حکومت میں کلیدی عہدے بھی حاصل کرلئے جن میں سینئر وزیر کا اہم عہدہ بھی شامل ہے یعنی نائب وزیراعلیٰ کا جلیل القدر عہدہ بھی جماعت اسلامی کی ساکھ اور اس کے نظریاتی ورکر کو قائل نہ کرسکا بلکہ اس سے جو دھچکا لگا اس کا اثر یہ ہوا کہ جماعت اگلے انتخابات میں بائیکاٹ کرکے ہی کارکنوں کا اعتماد بچا سکی کیونکہ متحدہ مجلس عمل کے دورحکومت میں جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمن کے آگے تقریباً سرنگوں رہی، جیسے تیسے کرکے وہ پانچ سال گزر گئے مگر جماعت اسلامی کا عام ورکر اور سینئر وزیر بھی ان پالیسوں سے کبھی خوش نظر نہیں آرہا تھا۔
پانچ سال کے وقفہ کے بعد 2013 میں مولانا منورحسن کی قیادت میں جماعت اسلامی نے کسی سے اتحاد کئے بغیر نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنا وجود تسلیم کروا لیا بلکہ ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں اہم اتحادی کے روپ میں ایک بار پھر بہت سی اہم وزارتوں (جی ہاں ایک بار پھر سینئر صوبائی وزیر یعنی نائب وزیراعلیٰ) سمیت صوبائی دارالحکومت میں براجمان ہوئے لیکن گزشتہ اسلامی سیاسی اتحاد کی طرح یہ جمہوری اتحاد بھی جماعت اسلامی کے نظریہ سے ہرگز ہرگز مماثلت نہیں رکھتا، جماعت اسلامی تو بطور عام دیگر اسلامی جماعتوں سے بھی مختلف نظریات رکھتی ہے اور بطور خاص وہ ہر سیاسی پارٹی کے منشور سے ہرگز ہرگز مدغم یا مماثلت رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی، یہ اس کے سیاسی کیریئر کی بہت بڑی بھول ہی قرار دے گی اور اگر اس اتحادیوں کی بات کریں تو یہ کوئی سیاسی پارٹی سے اتحاد نہیں بلکہ کسی دینی فکر رکھنے والی سیاسی پارٹی (مسلم لیگ وغیرہ) سے بھی اتحاد نہیں بلکہ یکسر مختلف الذہن، مختلف المزاج لوگوں سے اتحاد تھا۔ اب جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے منشور اور ورکرز کے ذہنوں میں واضح اختلاف ہے، تحریک انصاف کی انتخابی سرگرمیوں سے لیکر پارٹی ورکر کے ٹکٹوں کی تقسیم میں فنکاروں کی اچھی خاصی اہمیت رہی ہے بلکہ گلوکاروں اور فنکاروں کو باقاعدہ سے نہ صرف ٹکٹ دئیے بلکہ ان کے انتخابات میں کامیابی کیلئے حکمت عملی بھی وضع کی گئی جبکہ ایم ایم اے کے دورحکومت میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سنیما گھر بند کروا کر سارے فحش بل بورڈز بھی توڑ دئیے تھے۔ اسی لئے یہ دو مختلف سمت کے نظریات رکھنے والوں نے جوں توں کر کے پانچ سال پورے کئے اور پھر اگلے الیکشن میں اتحاد اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر ختم ہوگیا۔
آج ملک میں جماعت اسلامی کے پرانے اتحادی تحریک انصاف کی حکومت ہے مگر جماعت اسلامی اس حکومت کا حصہ نہیں بلکہ اس کیخلاف ہے لیکن اس اختلاف میں اپنی انفرادی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھ کا حصہ بھی نہیں۔ کچھ لوگوں کی نظریں ان سب سے مختلف اسلامی جمعیت کے تربیت یافتہ، مولانا مودودی کے افکار کا داعی سراج الحق پر ہیں کہ وہ کیا کردار اداکریں گے۔ اپنے آبائی حلقہ سے بڑے جلسے کرکے وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ جماعت اسلامی ابھی بھی زندہ ہے، یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی ابھی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ اکیلے کچھ کرسکے، اسے لازمی طور پر کسی دوسری بلکہ بڑی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے لیکن آج کی اس کھینچاتانی میں نہ تو وہ حکومت کی طرف جھکی ہوئی لگ رہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے جلسوں کو رونق بخشنے میں کوئی دلچسپی لے رہی ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ جماعت اسلامی ان دونوں رسہ کشی کرنے والوں کیساتھ نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ سیاست سے بالکل کنارہ کشی کئے ہوئے ہے بلکہ جماعت اسلامی اپنے زور پر جلسے کررہی ہے اور پارٹی کارکنان کو مشغول رکھے ہوئے ہے جس کا مطلب ہے کہ جلد ہی وہ کوئی سیاسی فیصلہ کرنے والی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ماضی کی طرح کسی غیرفطری اتحاد کا حصہ بننے جارہی ہے یا اپنی ہم خیال پارٹی کیساتھ اتحاد بنا کر نوے کی دہائی کی طرح سیاست میں ان رہنے کا فیصلہ کرے گی۔