آصفہ بھٹو’ مریم نواز اور عیدی امین

عقل وخرد اور فہم وفراست کے تقاضے یہی تھے جن پر گزشتہ روز عمل درآمد کرتے ہوئے بہت بڑے سیاسی تصادم سے بچنے کی بالآخر شعوری کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، انتہائی معذرت سے کہنے دیجئے کہ حکومتی حلقوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تھی اور ملتان کے جلسے کو روکنے کیلئے جو اقدامات اُٹھائے تھے ان سے خانہ جنگی کے شعلے بھڑک سکتے تھے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ جلسوں جلوسوں یہاں تک کہ دھرنوں سے حکومتیں نہیں گرائی جا سکتیں، اس کا سب سے زیادہ تجربہ خود حکومتی جماعت سے کس کو ہو سکتا ہے۔ کیا 2014ء کے اس جماعت کے جلسوں، جلوسوں اور 126دن کے طویل ترین دھرنے سے لیگ(ن) کی حکومت کو گرانے میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی تھی؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ہی ہے تو پھر اگر پی ڈی ایم جلسے کرتی ہے، ریلیاں نکالتی ہے تو خود کو جمہوریت قرار دینے والے وزیراعظم کو آئین کے تحت دئیے جانے والے جمہوری حقوق پر قدغن لگاتے ہوئے احتجاج کو روکنے کیلئے بقول شخصے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کیا تک ہے؟ مانا کہ کورونا کی نئی لہر آئی ہوئی ہے اور ہر شخص کو عقل وفہم سے کام لیتے ہوئے اس سے نمٹنے کیلئے احتیاط کا دامن تھامنے میں حتی الامکان کوشش ضرور کرنی چاہئے مگر حکومت اس معاملے میں خود نیمے دروں نیمے بروں والی کیفیت سے جس طرح دوچار ہے اور خود اس کے وزراء تو کسی احتیاط کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں ہیں اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے جلسوں پر تو کوئی اعتراض کر رہے ہیں نہ ہی انہیں روکنے کی کوئی صورت دکھائی دے رہی ہے، اگرچہ اب جماعت کے امیر نے ازخود دو ہفتے کیلئے سرگرمیاں موقوف کردی ہیں مگر حکومتی اعتراضات صرف پی ڈی ایم کیلئے ہی محدود ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اُجاگر کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے رہنماء عوامی احتجاج سے بچنے کے الزامات لگاتے ہوئے حکومت کو کورونا کی آڑ لینے پر طعنہ زن ہیں۔ ادھر حکومتی حلقے پی ڈی ایم پر کورونا پھیلانے کے مضحکہ خیز الزامات لگا کر اپنے لئے مزید جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔ ایسے ہی موقعوں کیلئے بے خود دہلوی نے کہا تھا
جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا
بات ہورہی تھی اس فہم وفراست کی جس کو بروئے کار لاتے ہوئے بالآخر ملتان کے اندر اور آنے والے راستوں سے کنٹینرز ہٹا کر پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو نہ صرف ملتان آنے دیا گیا بلکہ جلسہ بھی کرنے دے دیا گیا اگرچہ جلسے کے انعقاد سے تین دن پہلے ہی نہ صرف قلعہ کہنہ قاسم خان سٹیڈیم کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا تھا، راستوں کو روکاوٹیں لگاکر مختلف شہروں سے آنے والے احتجاجی قافلوں کو روکنے کی کوششیں جاری تھیں بلکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کر کے سینکڑوں سیاسی کارکنوں کوگرفتار کیا جارہا تھا۔ ملتان کے اندر پیپلزپارٹی کے جوشیلے کارکنوں نے جس طرح سٹیڈیم پر دھاوا بول کر قبضہ جمایا اور پھر اگلی رات پولیس نے دوبارہ اسے واگزار کر کے اپنے قبضے میں لیا، یہ سب کچھ پوری دنیا نے دیکھا جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ایک آدھ غیرملکی سفیروں نے اس حوالے سے معلومات حاصل کر کے ان اطلاعات کو اپنے ملکوں کو بھیجا اس سے یقیناً پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے عالمی سطح پر سوال اُٹھ رہے تھے ممکن ہے حکومتی حلقے اپنے اقدامات کیلئے جواز ڈھونڈ لے لیکن جو جگ ہنسائی ہوئی اس پر اظہارافسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان گزشتہ تین چار روز میں حکومت اور پی ڈی ایم کے ورکروں کے درمیان جو آنکھ مچولی ہوتی رہی اور بعض رہنماؤں کی آمد کو روکنے کیلئے جو اقدامات اُٹھائے گئے اور جن میں بہرحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ناکامی ہوئی (اس کی وجوہات میں دوسرے عوامل بھی شامل ہیں) اس سے یوگنڈا کے مردآہن مرحوم عیدی امین یاد آگئے، جن پر دولت مشترکہ کی جانب سے بعض قدغنیں لگائی گئیں کہ انہوں نے بھی اپنے ملک میں سخت آمرانہ اقدامات اُٹھا رکھے تھے، تو دولت مشترکہ کے اجلاس میں انہیں شرکت کی دعوت نہ دئیے جانے پر انہوں نے ہر حال میں شرکت کرنے کا اعلان کیا جس پر نہ صرف انگلستان کی فضائی حدود کی نگرانی شروع کر دی گئی کہ ان کا طیارہ لندن میں داخل نہ ہوسکے بلکہ رودبار انگلستان میں بھی بحری جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے بحری حدود کی ناکہ بندی کی گئی، مقررہ تاریخ پر یوگنڈا کے شہر ادیس ابابا سے ایک طیارے میں عیدی امین کے سوار ہوکر کسی نامعلوم سمت کی جانب سفر کی خبریں آنے لگیں اور کئی ممالک کے حدود میں سے محولہ طیارے کے گزرنے کی اطلاعات بھی آتی رہیں، تاہم اجلاس کے اختتام تک نہ تو فضائی حدود نہ ہی سمندری راستوں سے عیدی امین کے داخلے کی کوئی اطلاع سامنے آئی اور جب دولت مشترکہ کا اجلاس ختم ہوا تو یوگنڈا نے اعلان کیا کہ عیدی امین تو ملک سے باہر گئے ہی نہیں اور یہ طیارہ اُڑنے کی اطلاعات صرف ڈرامہ تھا، تاہم گزشتہ روز آصفہ بھٹو کے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ملتان پہنچنے کی اطلاعات میں کوئی ڈرامہ بازی تھی، نہ ہی مریم نواز کے قافلے کی راہ میں مختلف مقامات پر رکاوٹیں ہٹانے کی اطلاعات غلط تھیں بلکہ دونوں خواتین نے ملتان پہنچ کر پی ڈی ایم کے جلسے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اب آگے لاہور جلسے کو روکنے کیلئے بزدار حکومت کیا اقدامات اُٹھاتی ہے جبکہ اس سے پہلے سیاسی ماحول گرم رکھنے کے حوالے سے جو اعلان کیا گیا ہے اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اس کیلئے تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا۔
وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا
اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا