بھارتی مداخلت کا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عوام کو اور دنیا کو یاد دلایا گیا کہ کس طرح بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی ایس پر حملے سے لے کر ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور کے ہاسٹل پر حملے تک میں بھارت ملوث رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے دہشت گردی میں بھارت کیلئے اڈوں کا کام دیتے ہیں اور ایسے کئی دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے۔ اُس وقت بھی میں نے لکھا تھا کہ قوم کو یہ سب بتانا ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ یہ سب کچھ دنیا کو بتایا جائے اور ایسا ہی ہوا جب پاکستان نے ان تمام الزامات کا ڈوزیئر اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کو پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ان تمام واقعات کے ثبوت موجود ہیں اور اُس نے انہیں اقوام متحدہ میں پیش کر دیا ہے۔ یہ ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب جناب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کو دیا، ان سے ملاقات کی اور انہیں معاملے کی تقصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈوزیئر دہشت گردی کے ان تمام واقعات کی تفصیلات پر مبنی ہے جن کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے اور میڈیا پر اس کے ثبوت بھی پیش کر چکے تھے۔ بھارت کا پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرنا کچھ نیا نہیں، سب ہی جانتے ہیں کہ وہ ماضی میں بھی یہ جرم کر چکا ہے اور بار بار کر چکا ہے اور ماضی میں بھی کبھی بھارت کو اور کبھی اقوام متحدہ کو پاکستان یہ ثبوت پیش کر چکا ہے لیکن کوئی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں اس لئے ڈوزیئر پیش کرنا تو ظاہر ہے کہ ضروری ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس معاملے کو انفرادی طور پر دنیا کے مختلف ملکوں اور خاص کر بڑی طاقتوں کے سامنے رکھنا چاہئے تاکہ اپنا کیس مضبوط کیا جاسکے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ملک کے اندر بھی ایک رائے قائم نہیں کر پاتے اور ہم بین الاقوامی برادری سے تو توقع رکھتے ہیں لیکن اپنے ملک میں بھی ایسی آوازیں اُٹھ جاتی ہیں جو بھارت کے مقاصد کو تقویت بخش دیتی ہیں۔ بھارت نے فروری 2019 میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاکستان ایئرفورس نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا، یہ ایک بہت بڑا کارنامہ تھا جس پر پوری دنیا میں پاکستان ایئر فورس کو داد وتحسین ملی اور پاکستان کے اندر بھی اسے بطور فتح منایا گیا لیکن اس کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ایک سیاستدان نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستان قومی اسمبلی کے سابق سپیکر ایاز صادق صاحب نے اس واقعے کو جس طریقے سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی وہ انتہائی قابل افسوس ہے اور خاص کر آرمی چیف کے متعلق ان کے الفاظ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ ان الفاظ کا بھارتی میڈیا نے خوب جشن منایا اور ہم نے خود بھارت کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی شکست کو فتح بنا کر پیش کریں اور دنیا کو بتا دے کہ پاکستان اس سے کتنا خوفزدہ ہے اور اسی خوف کی بنا پر اس نے ان کا گرفتار شدہ پائلٹ واپس کیا۔ اسی طرح ہمارے سیاستدانوں نے کلبھوشن کے معاملے پر بھی سیاست کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا حالانکہ وہ ایک اچھا موقع تھا کہ دنیا کو ایک اتنے بڑے ثبوت کیساتھ بتایا جاتا کہ دیکھو بھارت اپنے فوجی افسروں تک کو پاکستان میں تخریب کاری کیلئے استعمال کر رہا ہے اور انہی جاسوسوں میں سے ایک پکڑا گیا ہے لیکن ایک حکومت نے تو اس معاملے کو بالکل سردخانے کی نذر کر دیا تھا اور اگر اندرونی دباؤ نہ ہوتا تو شاید اس کو باعزت بری بھی کر دیا جاتا جس طرح ابھی نندن کو باعزت بنانے کی کوشش کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اُسے بھارت کی جنگ کی دھمکی سے ڈر کر چھوڑا گیا۔ دراصل ہمیں اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کیلئے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سخت محنت کرنی ہوگی اور خاص کر ہمارے سیاستدانوں کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ ملکی سلامتی اور عزت ووقار ذاتی یا پارٹی سیاست سے کہیں بالاتر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی سجیدہ کوشش کرنا ہوگی کہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ خود اس کا شکار ہیں اور ہم نے اس کی قیمت ہزاروں جانوں اور کروڑوں اربوں کے مالی خسارے کی صورت میں دی ہے اور اب ہم مزید قربانیاں دینے کیلئے تیار نہیں بلکہ دنیا سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا ازالہ کرے اور اصل دہشت گرد کو پہچانے۔