معاشی لحاظ سے پاکستان پستی کی طرف جا رہا ہے-مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک: ڈی آئی خان مولانا فضل الرحمان کا تقریب سے خطاب

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 15 لاکھ کی آبادی والے گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ دیا جاسکتا ہے مگر ڈیڑھ کروڑ آبادی کی فاٹا کو نہیں، اج ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے،ضرورت ہے کہ ہم ہر متاثر شخص کی آواز بنے اور ان کے حقوق کی بات کریں.

مولانا نے کہا کہ معاشی لحاظ سے پاکستان پستی کی طرف جا رہا ہے،معیشت ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے آج ہماری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے،ہمیں کوئی امید نہیں کہ ہماری معیشت پھر پاوں پر کھڑی ہوسکے گی،فاٹا کی عوام نے 125 سال جس نظام کے تحت گزارے لیکن ان سے وہ نظام لےلیا گیا،آج فاٹا میں نہ پرانا قانون ہے نہ نیا قانون ہے.

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مجھے کون کون اور کس کس لیول کے بندے ملے ہیں اور کیسے مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کی،مجھے اپنا موقف تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی،بین القوامی قوتوں کے نمائندوں نے مجھ سے کہا کہ پہلے فاٹا کا انضمام ہوگا، پھر ترجیح گلگت بلتستان ہے پھر کشمیر ہے.

مولانا نے کہا کہ 72 سال اپنے بچوں، جوانوں اور ماووں کا خون بہایا،خطہ میں ہندوستان کی بالادستی قائم کی جارہی ہے ،ظاہر میں مگر مچھ کے آنسو بہانے والوں کے ایجنڈے سے واقف ہوں،کشمیر پر ہندوستان کے قبضے کو قانونی قرار دیا گیا،فلسطین کو نظر انداز کرکہ اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا ہے،ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں کہ جس طرح چاہے ہمیں ہاکتے رہے، فاٹا انضمام کے فیصلے کو نہ صرف غلط کہا بلکہ غلط ثابت بھی ہوا.