صوبائی حکومت وفاق سے بجلی کا خالص منافع لینے سے کیوں گھبرا رہی ہے، سردار حسین بابک

ویب ڈیسک (پشاور):سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق سے بجلی کا خالص منافع لینے سے کیوں گھبرا رہی ہے، صوبائی حکومت اپنا کیس کونسل آف کامن انٹرسٹ میں کیوں پیش نہیں کررہی ہے؟ صوبہ مالی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے لیکن حکومت اپنے آئینی واجبات مرکز سے لینے سے کترا رہی ہے، صوبائی حکومت اپنے صوبے کی عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، صوبائی حکومت کو بارہا درخواست کی کہ صوبے کی پارلیمانی جماعتوں کا مشترکہ جرگہ بنائیں کہ وہ مرکزسے آئینی حقوق کی پوچھ گچھ کرسکیں، وفاق کیوں دہشت گردی سے تباہ حال صوبے کو واجبات دینے سے انکاری ہے؟ پی ٹی آئی کے منتخب ایم این ایز اور وفاقی وزراء قومی اسمبلی میں صوبے کے حقوق کی بات کب کریں گے؟
صوبائی حکومت کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ کہ وہ بجلی کے خالص منافع کے حصول سے دستبردار ہو، صوبائی اور مرکزی حکومت کے گٹھ جوڑ نے خیبر پختونخوا کو تباہ کردیا ہے، بے روزگاری میں نے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے، حکومت نے صوبے کے آئینی واجبات لینے میں مزید غفلت برتی تو اپوزیشن جماعتیں مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنائيں گے۔