آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا

وہ کہانی نما لطیفہ تو آپ نے یقینا سنا ہوگا' اکثر اپنے کالم میں خود میں بھی اس کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں جس میں ایک خاتون ایک ویران علاقے سے گزرتے ہوئے ایک اور شخص کو دیکھتی ہے جس کے سر پر بھاری بوجھ بھی ہوتا ہے جسے اس نے دونوں ہاتھوں سے تھام رکھا ہوتا ہے۔ عورت کا خوف ختم ہوتا ہے اوروہ اس اجنبی شخص کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے۔ راستے میں اچانک عورت اس شخص سے کہتی ہے' مجھے ڈر ہے کہ تم مجھے اس ویرانے میں اکیلا سمجھ کر چھیڑو گے' وہ بے چارہ اسے کہتا ہے' دیکھتی نہیں ہو میرے د ونوں ہاتھ بوجھ کو تھامنے کی وجہ سے بندہیں' بھلا میں تمہیں کیسے چھیڑ سکتا ہوں' کچھ دور چلنے کے بعد عورت پھر کہتی ہے' مجھے ڈر ہے کہ تم یہ بوجھ سر سے اُتار کر رکھ دو گے اور مجھے چھیڑو گے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اپنے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کیساتھ بھی ہے' جب سے وزارت اطلاعات ان سے واپس لے کر وزارت سائنس وٹیکنالوجی کا قلمدان ان کو سونپا گیاہے ان کی حالت دیدنی ہے۔ نہ صرف حکومت مخالف سیاسی رہنمائوں پر اکثر وبیشتر طنز کے تیر چلاکر خود کو خبروں میں اِن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ گزشتہ چند روز کے ان کے بیانات خود اپنی جماعت کے بعض اکابرین کے حوالے سے بھی طنز وتشنیع سے بھرے ہوئے تھے اور حکومتی پالیسیوں پر بھی منفی بیان بازی کرتے دکھائی دئیے۔ اس سے بھی کام نہیں چلا تو اپنی وزارت کے تحت ایک بار پھر وہ کمر کس کر میدان میں آگئے ہیں اور تازہ بیان میں گزشتہ برس کی طرح ابھی سے ماہ رمضان کی پیشگوئی کرکے نہ صرف مرکزی رویت ہلال بلکہ پشاور کی روایتی مسجد قاسم علی خان کی رویت کمیٹی والوں کو پیغام دیدیا ہے کہ ''تم مجھے چھیڑو گے''۔ بلال عاجز نے کیا خوب کہا ہے کہ
کتنی عجیب بات ہے ہنسنے کا واقعہ
سنجیدگی کے ساتھ سنانا پڑا مجھے
رمضان تو ابھی دورکی بات ہے' ابھی تو شعبان کا مہینہ بھی کم وبیش 25/24 دنوں کی مسافت پر ہے یعنی دم تحریر رجب المرجب کی 4تاریخ اور اس کالم کے شائع ہونے کادن 5رجب ہے' اب یہ بھی نہیں معلوم کہ رجب 29 دنوں کا ہوگا یا 30 دنوں کا۔ اس کے بعد شعبان کے دنوں کا بھی تعین ہونا ہے' مگر ''حضرت مفتی فواد چوہدری'' مدظلہ نے ابھی سے اعلان فرما دیا ہے کہ پہلا روزہ 25اپریل کو ہوگا۔ یوں موصوف نے دو مکھی لڑائی کا آغاز کرتے ہوئے ایک جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم علی خان رویت کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی رگ رویت ہلال کو چھیڑنے کی جسارت کی ہے' یعنی بال ان دونوں مفتیان کرام کے پول کے درمیان تھری ڈی اینی میشن کی طرز پر پھینک دی ہے اور یہ بال دونوں پولز کے درمیان محوسفر ہے' حالانکہ ان دونوں کے مابین اس حوالے سے بعد المشرقین والی کیفیت ہے جیسے کہ نارتھ پول اور سائوتھ پول کے درمیان 180ڈگری کی مسافت رہتی ہے سو دیکھتے ہیں کہانی کدھر کو جاتی ہے' ممکن ہے کہ اس کالم کے شائع ہونے تک دونوں مفتیان کرام یا ان کے ہمدردوں کی جانب سے کوئی ردعمل بھی آچکا ہو' اگرچہ فی الحال اس کا امکان کم کم ہی ہے کیونکہ اتنے دن پہلے روزہ کے اعلان پر جانبین کی جانب سے جواب جاہلاں باشد خموشی کی صورتحال ہوسکتی ہے' تاہم اگرچوہدری صاحب کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے آگیا تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ موصوف اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں یعنی وہ یہی تو چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طور خبروں میں اِن رہیں' جیسا کہ حال ہی میں میاں نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے وصول شدہ رپورٹس پر وہ اپنی ہی پنجاب حکومت کیخلاف بول کر خود کو نمایاں کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسلئے اگر رویت ہلال کے مسئلے کو ابھی سے اُچھال کر اس حوالے سے بلاوجہ اور بلاضرورت تفرقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کم ازکم اگلے تین مہینے وہ تواتر کیساتھ میڈیا کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول میں ''سرخرو'' ہوسکتے ہیں' یعنی ابھی تو موصوف نے صرف رمضان کے حوالے سے پیشگوئی فرما دی ہے اور عیدالفطر کے چاند کی رویت کا معاملہ ابھی پائپ لائن میں ہے جس پر خاصی افراتفری ہر سال مچ جاتی ہے۔ ایسی صورتحال کے حوالے سے اسحاق اظہر صدیقی نے کیا خوب کہا ہے کہ
آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا
گھر کی تاریکی نمایاں ہوگئی
حالانکہ چاند اور وہ بھی عید کے چاند کے حوالے سے شاعروں نے دفتر کے دفتر سیاہ کر رکھے ہیں جبکہ رمضان کے چاند پر کم کم اشعار دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں،اس ضمن میں وکیل انجم رانا اور نظیر ساگر کے دو اشعار بھی ملاحظہ کیجئے
عید کے چاند میں کچھ روز ابھی باقی ہیں
اپنے چہرے سے دوپٹہ نہ سرکنے دینا
نوید عید نہ دے مجھ کو آسماں سے اے چاند
کہ میں نے دیکھے ہیں چہرے اُداس لوگوں کے
چوہدری صاحب موصوف نے رمضان کے چاند کے بارے میں تاریخ کا تعین کر کے البتہ ان منافع خوروں کو الرٹ ضرور کردیا ہے جو ہر سال ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے خوب خوب دولت کماتے ہیں اور انہی سے رمضان کے آخری نصف میں عمرہ اور بعد میں حج کی ''سعادت'' سے دین ودنیا دونوں کو سنوارنے کی سعی کرتے ہیں۔