تم ظلم کی کھیتی سے کاٹو گے امن کیسے

کچھ لوگ زود رنج ہوتے ہیں، ذرا ذرا سی بات پر روٹھ جانا ان کی ادائے دلبرانہ ہوتی ہے اور ہم ان کی اس ادا کو محبت ہی کی ایک قسم کہتے ہیں، لیکن جب وہ محبت کے اظہار کی اس ادائے دلبرانہ کی حدود پار کرکے تکلم گسترانہ یا اطوار گستاخانہ پر اُتر آتے ہیں تو
وہ ہم سے کھنچے، ہم ان سے کھنچے
یوں بیچ سے دھاگہ ٹوٹ گیا
مصداق ہم بھی کلام گسترانہ وگستاخانہ عرض کر اُٹھتے ہیں، کہ جو خفا ہوگیا، سو دفع ہوگیا، ہم پیار کرنے اور پیار بانٹنے کو عبادت سمجھتے ہیں، جس طرح کرنسی نوٹوں پر رزق حلال عین عبادت ہے لکھ کر اس جملے کی توہین میں کوئی کسر روادار نہیں رکھی جاتی، اس طرح کا کوئی جملہ ہمارے یا کسی پیار کرنے والے کے ماتھے پر لکھا نہیں ملتا، لیکن ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والے کی قسم جب ہم کسی سے پیار کا برتاؤ کرنے لگتے ہیں تو اس کے بدلے میں ہمیں اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو کے مصداق جتنا پیار ملتا ہے، وہ اپنے سارے غموں کو دھو ڈالتا ہے، ہم دنیا جہاں کے دکھوں کو بھول جاتے ہیں، بڑے بھولے اور معصوم ہوتے ہیں، پیار متلاشی لوگ، آپ آزما کر دیکھیں آپ کی ایک معمولی سی مسکراہٹ کے بدلے میں وہ یوں مسکرا دیتے ہیں، جیسے آپ نے ان کے دل کے تاروں کو چھیڑ دیا ہو، جیسے وہ آپ کی مسکراہٹ کے تحفہ کا شکریہ ادا کر رہے ہوں، زندگی کی مختلف شاہراہوں میں اس قسم کے لاتعداد شعوری اور لاشعوری تجربات سے گزرنا پڑتا ہے، کل ہی کی بات ہے، 28فروری کو وطن عزیر کے جید اور ثقہ بند لکھنے والوں قدیم ترین تنظیم پاکستان رائٹرز گلڈ 61ویں سالگرہ کی تقریب میں پشاور چیمبر آف سمال انڈسٹریز کے خوبصورت ہال کی چھت کے نیچے پیار لکھنے والوں کے جلو میں گلڈ کی سالگرہ کا کیٹ کاٹنے اور اراکین مجلس عاملہ میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی ایک تقریب رچانے کا موقع ملا، محمد عاطف حلیم مہمان خصوصی، بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر اور ادیب ناصر علی سید تھے، ہندکو اور اردو کے بے بدل اور نامور شاعر ڈاکٹر پروفیسر نذیر تبسم مہمان خاص تھے، مردان سے ڈاکٹر ظفراللہ بخشالی بھی تشریف لائے تھے، پرفیسر اسیر مینگل بھی تھے، فقیر حسین مسرور اور سردار فاروق جان بابر آزاد بھی تھے، بشریٰ فرخ اور میرمنہ ثمینہ قادر بھی تھیں، پروفیسر ملک ارشد تو مرکزی کردار تھے کہ وہی کنڈکٹ کر رہے تھے اس خوشیوں بھری تقریب کو یوں لگ رہا تھا جیسے کہہ رہے ہوں
جنگل میں منگل سب نے شور مچایا ہے
سالگرہ کا دن آیا ہے
کس کس کا نام لوں خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈنے والوں اور خوشیاں بانٹنے والوں کے، اک بھیڑ یا جم غفیر تھا، ان میں کتنے زود رنج بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں اس بات کا علم نہیں، لیکن جیسے ہی ہم اس تقریب کی جزئیات کو سمیٹ کر تھکے ہارے گھر پہنچے، ہمارے ایک بے حد پیارے اور معصوم دوست نے ہمیں ٹیلی فون کرکے ہم پر لعنتوں اور ملامتوں کی بوچھاڑ کردی، فرما رہے تھے کہ میں اس تنظیم کا بہت ہی پرانا سیکرٹری اطلاعات ہوں، آپ نے مجھے ایوارڈ کیوں نہیں دیا، وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر کہہ رہے تھے کہ میں اس کا بدلہ ضرور لوں گا، لکھوں گا آپ کے اس امتیازی سلوک پر، یوں لگ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ دنیا کو پلٹ کر رکھ دوں گا، ان کی اس دہشت ناک ناراضگی اور غصہ کی تاب نہ لاتے ہوئے میں نے ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی چاہی، مگر وہ میری ایک بات بھی سننے کے روادار نہیں تھے، اللہ مجھے معاف کر دیجئے گا، مجھ سے ہوگیا یہ امیتازی سلوک اور آج یکم مارچ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں امتیازی سلوک کیخلاف عالمی دن منایا جارہا ہے، سو ہمیں اپنے ساتھ ہونے والے نام نہاد امتیازی سلوک کے جذبات کی رو میں ٹو ٹ کر بکھر جانے والے وہ دوست یاد آگئے جو کبھی بھی ہماری مجلس عاملہ کے رکن نہیں رہے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی بے پایاں محبت کا یہ عالم رہا ہے کہ وہ ہماری ہر میٹنگ میں تشریف لاتے رہے، اور اخبارات میں لکھتے بھی رہے، ہم نے ان سے وعدہ کرلیا کہ ہم خصوصی تقریب کرکے آپ کو ایوارڈ ضرور دیں گے، اللہ جانے وہ اب بھی خوش ہوئے ہیں یا نہیں، اگر خوش نہیں ہوئے
الفت نہ سہی نفرت ہی سہی
اس کو بھی محبت کہتے ہیں
کی تقلید میں ان کی نفرت بھری ادائے دلبرانہ سے بھی پیار کرتے رہیں گے۔ امتیازی سلوک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نام ہے، نسل، مذہب، شناخت، معذوری، صنف یا عمر کی بیناد پر امتیازی سلوک روا رکھنا انسانیت سوز رویہ ہے اور اس رویہ کے ردعمل میں نفرتوں کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے، اسے ہرگز ہرگز محبت کا نام نہیں دیا جاسکتا، عالمی سطح پر ذات پات کی بنیاد پراستوار معاشرے میں مذہبی اور نسلی منافرت کا جو پھل بھارت کی مودی سرکار بورہی ہے، اس کی فصل جب کبھی بھی پک کر تیار ہوگی اس کی ساری زہرناکیاں اس فصل کے سارے کانٹے، اس آتش فشاں کا سارا لاوا، ناعاقبت اندیش مذہبی جنونی اور ہندوانتہا پسند مودی اور اس کی سرکار کے چیلوںکو بھسم کرکے رکھ دے گا یہ بات ہم بہت پہلے ہی کر چکے ہیں کہ
کب وقت کے پتھر کی تحریر تم پڑھوگے
مودی جو تم کرو گے، ویسا ہی تم بھرو گے
تم ظلم کی کھیتی سے کاٹو گے امن کیسے
جو ظلم کر رہے ہو ویسا ہی تم بھرو گے
کہتا دھرم ہے تیرا مر کر ہے تونے جلنا
کھیلو نہ آگ سے کہ زندہ ہی جل مرو گے