افغان امن معاہدہ’ اب آگے کیا ہو گا؟

افغان امن معاہدہ تو ہو گیا،اب آگے کیا ہوگا؟ یہ معاہدہ کس کی جیت ہے، کس کی ہار ہے؟ امریکہ نے اس معاہدے سے فائدہ اُٹھایا یا نقصان؟ افغانستان کا مستقبل اب کیا ہوگا؟ کیا یہ معاہدہ برقرار رہ پائے گا؟ کیا یہ معاہدہ واقعی دیرپا ہے؟ کیا افغان طالبان نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا؟ کیا واقعی جنگ بندی دیرپا ہوگی؟ افغان حکومت کی آئندہ شکل کیا ہوگی؟
معاہدے کی دیرپا کامیابی کیلئے پاکستان کا آئندہ کردار کیا ہوگا؟ کیا امریکی انتخابات جو اسی سال کے اواخر میں ہوں گے، ان کے بعد بھی یہ معاہدہ اسی طرح برقرار اور جاری رہ پائے گا؟ کیا افغان امن معاہدے سے واقعتاً افغانستان میں امن آپائے گا؟ افغان امن معاہدے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کیساتھ ساتھ پاکستان میں بسنے والے لاکھوں افغان مہاجرین بھی واپس اپنے وطن جا سکیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا افغان عوام کا مستقبل اب افغانستان میں محفوظ اور روشن ہو جائے گا؟
ایک سال کم دو دہائیوں سے جاری نام نہاد دہشت گردی کیخلاف مغربی جنگ میں ایک افغان نسل پیدا ہوگئی، ایک بوڑھی ہوگئی اور ایک ناپید۔ 20سال پہلے پیدا ہونے والا افغان بچہ آج نوجوان ہے جس نے اپنی کھیلنے کودنے کی عمر جنگ زدہ تباہ حال ماحول میں گزاری۔ جسے نہ کھانے کو بھرپور روٹی ملی، نہ پینے کو صاف پانی، نہ صحت ملی نہ تعلیم۔ نہ صاف ہوا، فضا بھی وہ ملی کہ بارود کی بدبو سے جینا محال۔
ان گزشتہ دو دہائیوں نے جہاں افغانستان کا مستقبل تار تار کر دیا، وہیں پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان نے بھی اس جنگ میں بہت بڑا نقصان اُٹھایا ہے۔ فرق یہ ضرور ہوا کہ پے درپے زخموں اور ہزارہا قربانیوں کے بعد آخرکار سات سال پہلے پاکستان نے تذبذب اور غیریقینی سوچ سے نکل کر حتمی فیصلہ کر لیا کہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی لیکن چونکہ اب مسلط کر دی گئی ہے، سو اسے ہر حال لڑنا اور جیتنا ہے۔
دوسری طرف امریکہ جیسی سپرپاور دوکھرب ڈالرز کے ضیاع، پینتیں سو امریکی اور اتحادی فوجیوں کی جانوں کے نقصان اور دو دہائیوں کی ناکامی کے بعد بھی وہ کامیابی حاصل نہ کر پائی جو پاکستان نے محض سات سال میں حاصل کی۔ یہ الگ اور واضح بات ہے کہ 70ہزار معصوم جانوں کی قربانی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کسی اور ملک نے نہیں پاکستان نے اپنے کندھوں پر اُٹھائی۔ افغان امن معاہدہ فی الحال تو محض پہلا قدم ہے لیکن ایک ٹھوس اور مضبوط قدم۔ اگلا قدم اب افغان طالبان اور افغان حکومت نے مل کر اُٹھانا ہے۔ سنیچر کو جب دوحہ میں مائیک پومیو، ملاعبدالغنی برادر کیساتھ ملکر شیرٹن ہوٹل میں تاریخی افغان امن معاہدے پر دستخط کر رہے تھے تو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کابل میں افغان حکومت کیساتھ ایک الگ معاہدہ دستخط کر رہے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے اور حالیہ دورہِ بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی نے خود ان سے التجا کی کہ افغان امن معاہدے کی دستخط تقریب میں چونکہ پاکستان کلید ی کردار رکھنے کی بدولت شامل ہے، لہٰذا بھارت کو بھی دعوت دی جائے۔ تاریخی افغان امن معاہدے کو پورے بھارت میں بھارتی خارجہ پالیسی اور سٹریٹجک وژن کی ناکامی اور پاکستان کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ بھارت کو یہ برداشت نہ ہوگا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد کو نہ صرف محفوظ بنالے بلکہ اپنے اندرونی علاقائی امن وسلامتی کو مزید محفوظ بناتے ہوئے خطے کی سیاست اور سٹریٹجک پلاننگ میں اولین کردار اختیار کر لے۔ افغانستان کے ذریعے علاقے اور خطے میں اپنا ناجائز تسلط قائم کرنے کیلئے اپنے ڈرٹی گیم کی خاطر بھارت تقریباً تین ارب ڈالرز افغانستان میں خرچ کر چکا ہے۔ بھارت ہرگز یہ برداشت نہیں کرے گا کہ پاکستان کی موثر، مضبوط اور پرامن افغان پالیسی کی وجہ سے اس کی یہ ''سرمایہ کاری'' ڈوب جائے۔ اسی لئے بھارت ہر ممکن کوشش اور سازش کرے گا کہ تاریخی افغان امن معاہدہ آگے نہ بڑھ پائے اور اس پر عمل ناکام ہو۔ اب یہ افغان عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن منافی اور امن مخالف کسی بھی قسم کے عناصر کو ناکام بنائیں۔ دوحہ میں ہونے والے دستخط پہلا قدم ہیں۔ دوسرا اور اگلا قدم افغان عوام، افغان حکومت اور افغان طالبان کو مل کر اُٹھانا ہے۔ کابل میں افغان حکومت کیساتھ معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع خبردار کر چکے ہیں کہ اگر طالبان نے اپنے عہد کو پورا نہ کیا تو امریکہ یہ معاہدہ ختم کرنے میں ہچکچائے گا نہیں۔ اس معاہدے پر دستخط سے پہلے ایک ہفتے تک بطورٹرائل ''ریڈیکشن اِن وائلنس'' (جنگ میں کمی) کا طریقہ اپنایا گیا جو کامیاب رہا تھا۔ ان سات دنوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں80فیصد کمی آئی تھی۔ معاہدے کے بعد اب ایک طرف جہاں طالبان نے پُرامن ماحول کو مزید یقینی بنانا ہے، وہیں افغان حکومت نے طالبان کیساتھ ملکر شراکتِ اقتدار اور جنگ بندی کے اصول طے کرنے ہیں۔ جون، جولائی تک امریکہ افغانستان میں موجود12ہزار میں سے پانچ ہزار فوجی پہلے مرحلے میں واپس بلا لے گا۔ یہ ٹرمپ کیلیئے انتخابی مہم کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ تمام تر نشیب وفراز، ٹوٹتے جڑتے، اونچے نیچے حالات کے باوجود جس طرح پاکستان نے یقینی بنایا کہ افغان امن معاہدہ حتمی مرحلے تک پہنچے، وہیں اس معاہدے کے آئندہ مراحل میں بھی پاکستان کی سپورٹ انتہائی کلیدی ہوگی۔ خاص طور پر اس خطے میں موجود مخالف سپوائلرز کی ذہنیت اور چالوں کو پاکستان سے بہتر تو نہ کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ ان کا توڑ پاکستان سے بہتر کسی کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخی افغان امن معاہدہ کامیاب ہو، یہی سب کی جیت ہے۔ یہی امن کی جیت ہے، یہی دنیا کی جیت ہے، یہی افغان عوام کی جیت اور کامیا بی ہے۔
(بشکریہ: انڈیپنڈنٹ)