مغربی میڈیا کا پروپیگنڈہ اور ٹرمپ کا اعتراف

مغربی میڈیا میں چاروں طرف شور ہے کہ پاکستان کے حالات خراب ہیں یا ہونے والے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر ہے تو صرف مغربی میڈیا کی خرمستیاں ہیں، مغربی میڈیا کے مضموم عزائم اور گھنائونی حکمت عملی کے بارے میںہم گزشتہ ایک کالم میں تفصیلاً لکھ چکے ہیں، مغربی نیوز چینلز سے تعلق رکھنے والے چاہے انگلستان کے باشندے ہوں، امریکہ کے رہائشی ہوں یا بدقسمتی سے ہمارے اپنے ہی وطن کے باسی ہوں، وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیساتھ ساتھ چھوٹے اورغریب ملکوں میں سنسنی پھیلانے کا کام بھی کرتے رہتے ہیں اور اس کام کیلئے بے پر کی اُڑانی پڑیں تو بھی دریغ نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنے آقائوں کی طرح یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ جنگیںاسلحہ اور اب صرف میڈیا کے زور پر ہی نہیں لڑی و جیتی جاسکتیں بلکہ ان کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈہ میں اگر صداقت نہیں تو جلد یا بدیر ان کا انجام بھی متحدہ روس کی طرح ہوجانے والا ہے، پھر امریکہ کی باون ریاستیں اپنے لئے راہ فرار ڈھونڈیں گی، ان کی میڈیا وار نے بظاہر تو امریکہ اور پوری دنیا کے عوام کو خوب بے وقوف بنایا کہ عراق کے پاس خطرناک ترین ہتھیار ہیں لیکن اتنے برس گزر جانے کے باوجودا ور ان کی اپنی کٹھ پتلی حکومت ہونے کے بعد بھی وہ ہتھیار نہ ڈھونڈ سکے نہ ہی دنیا کو دکھاسکے جب ہتھیا رتھے ہی نہیں تو کہاں سے ملتے یہ توان کے لے پالک میڈیا کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈہ تھا۔اسی مغربی میڈیا کے ایک سرخیل چینل کے رپورٹر نے ہرزہ سرائی کی تھی کہ ''غیر ملکی جنگجوؤں کیخلاف جنوبی وزیرستان تک محدود جنگ اب بالعموم پورے پاکستان اور بالخصوص شمالی وزیرستان، باجوڑ، کرم ایجنسیوں، سوات اور بنوں کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ گئی ہے، ان کا کہنا تھا یہ جنگ اب کورکمانڈر ہائوس اور گورنر ہائوس سے فقط چالیس کلومیٹر کی دوری پر لڑی جارہی ہے۔
بلی خداواسطے تو چوہے پکڑتی نہیں ضرور اس نے اپنا پیٹ بھرنا ہوتا ہے، چند برس پہلے اسی چینل کے رپورٹرکو بھی ضرور کچھ اور کھٹک رہا تھا ورنہ وہ پشاور کے غم میں کیوں دبلے ہوتے پھریں۔ اسی لئے تو انہوں نے گورنر ہائوس کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں اور امریکہ کی مالی وتکنیکی امداد کا ذکر بطور خاص کیا، انہیں اپنے وطن کی ذرا برابر بھی پروا نہیں ''پشاور صرف چالیس کلومیٹر'' کا عنوان چن کر انہوں نے داد تو خوب سمیٹی مگر اپنے وطن کیلئے جو بدنامی کمائی وہ بھی داد کے قابل ہے۔ یہ ہرزہ سرائی مغربی میڈیا کاکوئی انگلستانی کرتا تو کوئی بات بھی تھی ایک پاکستانی کے منہ سے اس طرح کی بات ہرگز ہرگز زیب نہیں دیتی۔ ہم مانتے ہیں کہ دہشتگردوں کیخلاف جنگ ہم نے پورے پاکستان میں لڑی، پاکستان کاہرخطہ اس کی لپیٹ میںرہا، جہاں اس سے کراچی کے علاقے متاثر تھے تو لاہور کی گلیاں بھی بارود کی بو سونگھ چکی ہیں، پشاور کے بازارِ دالگراں سے محلہ جنگی کے امام بارگاہ تک اور اس دہشتگردی سے ہمارے ملک کا دارلحکومت بھی محفوظ نہیں رہا تھا، اس دہشتگردی کا نشانہ جہاں عام آدمی بنتارہا وہاں سرکاری اہلکا ر اور سیاستدا ن بھی ان کے نشانے سے نہ بچ سکے اور ہم کئی اہم سیاسی لیڈرز کو گنواچکے ہیں، کراچی سے اسلام آباد تک اور پشاور کے کورکمانڈر کے گھر سے راولپنڈی کے جی ایچ کیو تک اس کی لپیٹ میںتھے لیکن پھر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان ان کی امیدوں کے بالکل برعکس نہ صرف یہ جنگ جیت گیا بلکہ اب یہی لوگ ہماری صلاحیتوں کے معترف بھی ہیں۔ اس بات کا برملا اظہار امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ نے ہمارے دشمن ملک میں کھڑے ہوکرکیا۔
اس کٹھن دور میں جہاں ہم ایک طرف طالبان نما دہشتگردوں سے نبرد آزما رہے تو دوسری طرف مغربی میڈیا کی طرف سے اس یلغار کیخلاف بھی جنگ لڑ رہے ہیں کہ پاکستان خدا ناخواستہ ایک ناکام ریاست ہے اور اس کے ایٹمی ہتھیار کسی دہشتگر دکے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔مغربی میڈیا کی بے پر کی اُڑانے کی عادت نے ہمارے محترم محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کو بھی نہیں چھوڑا اور ان کے بیان کو توڑمروڈ کر ظاہر کیا جس پر ساری قوم کیساتھ ساتھ وہ بھی آگ بگولا ہوگئے، مغرب اتنی بے پر کی اُڑاتا ہے کہ بعض اوقات خود ہمارے عوام کو شک وشبہ میں ڈال دیاجاتا ہے، یورپ وامریکا کو سمجھاتے سمجھاتے ہمیں اپنے ہی لوگوں کو بھی دلاسا دینا پڑتا ہے کہ بھئی ہمارے پاس ایٹمی ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے کی پوری پوری صلاحیت ہے کہ جتنی کہ کسی بھی طاقتور ملک کے دعویدار ہونے والوں کے پاس ہے۔ ہماری فوج نے پوری حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے ۔لہٰذا کسی کو ہمارے اثاثوں کے تحفظ کے غم میں گھلنے کی چنداں ضرورت نہیں۔