کیا جارحانہ حکمت عملی ہی کامیابی کی ضمانت ہے

ہلے سے جارحانہ حکمت عملی کیساتھ حزب اختلاف کا مقابلہ کرنے والی حکومتی ٹیم کو وزیراعظم نے مزید جارحانہ انداز اختیار کرنے کی ہدایت کردی ہے حالانکہ اس میں مزید تیزی لانے کی گنجائش کے بقدر لچک دکھائی ہی نہیں دیتی۔ وزیراعظم کے منشاء کے مطابق اب اگر حکومتی ٹیم مزید سخت لب ولہجہ اختیار کرے تو افادہ مختتم کے بعد کی صورتحال ہی درپیش ہوسکتی ہے ۔وزیراعظم کی ہدایت کو اگر جاری پالیسی میں نرمی نہ لانے اور اسے اسی طرح جاری رکھنے کا تصور کیا جائے تو مناسب ہوگا، یہ پہلی حکومت ہے جس کے دور میں حزب اختلاف کے مقابلے میں کہیں سخت اور جارحانہ پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی کے لب ولہجہ کی تکرار اور بار بار وہی باتیں دہرانے کا عمل عوامی سطح پر بیزاری کا سبب بن رہا ہے۔ حکومتی ٹیم عرصے سے ان دوسیاستدانوں ہی کو نہیں ساری اپوزیشن کو بے نقاب کرنے کی سعی میں ہے اور اگر کہا جائے کہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ کامیابی کی خواہ جس طرح بھی تشریح کی جائے حکومت کا پلہ اگر بھاری نہیں تو ہم وزن ضرور ہے لیکن حکومت اور حزب اختلاف کی ترکی بہ ترکی سے عوام کا کیا لینا دینا ہے۔ حزب اختلاف اور حکومت دونوں کی صرف ہوتی ان توانائیوں کو عوام کی کتنی تعداد دیکھتی، پڑھتی اور سنتی ہے اور اس سے کیا اثر لیتی ہے اس پر غور ہونا چاہئے اور اس کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی کارکردگی کا اگر سوال ہے تو حزب اختلاف کی جماعتوں کی بیانیہ سازی اور لائحہ عمل بھی واضح نہیں، اختلافات ہیں یا نہیں ذہنی عدم ہم آہنگی اور مخمصے کا شکار ضرور نظر آتے ہیں۔ حزب اختلاف کے سوائے جلسوں کے عوام سے محدود پیمانے پر رابطے، گلی محلوں میں حزب اختلاف کا بیانیہ واضح کرنے کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ کرائے کے ترجمانوں کی جگہ مختلف سماجی وثقافتی طلبہ مزدور اور کسان انجمنوں اور محروم طبقات سے روابط کا فقدان ہے۔ ان تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے تو حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کا سارا زور عوامی سطح پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر مرکوز ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے ایک دوسرے کو بے نقاب کرنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، جب سے حکومت اورحزب اختلاف نے اسمبلی کی بجائے جلسہ گاہوں کا چنائو کیا ہے عوامی مسائل ومشکلات پس منظر میںچلے گئے ہیں۔ حزب اختلاف کے پاس مہنگائی در مہنگائی کی صورت میں جو سنجیدہ ایشو موجود ہے آئے روز قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، عوام میں اس سے جو غم وغصہ کی فضا پیدا ہورہی ہے اس کو مرکز سخن بنانے کی بجائے لعن طعن اور تمام مسائل کا حل وزیراعظم کے استعفے، اسٹیبلشمنٹ کو جھکا نے کی کوشش اور حکومت کی رخصتی پر زور دینے سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں۔ دوسری جانب حکومت بھی تقریباً اسی پچ پر ہی کھیل رہی ہے، بجائے اس کے کہ عوامی مسائل کا حل مہنگائی پرقابو پانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں مخالفین کو بے نقاب کرنے کی پالیسی اختیار کئے رکھی ہے جس سے عوام کو کوئی خاص دلچسپی نہیں، وہ خاموش اکثریت جو یا تو بالکل ہی غیرسیاسی اور سیاست سے بیزار ہے یا پھر وہ کسی سیاسی جماعت کا سرگرم کارکن نہیں محض ووٹر ہیں وہ سب اس صورتحال سے اُکتا چکے ہیں۔ عوام کو حکومتوں کی رخصتی کے باوجود مسائل کے حل نہ ہونے اور بعد میں آنے والے کا پہلے سے بہترکی بجائے بدتر ہونے کا تجربہ ان کی لا تعلقی اور مایوسی کی وہ وجہ ہے جس سے سیاسی جلسوں میں اب عوام کی بجائے سرگرم سیاسی کارکنان ہی نظر آتے ہیں۔ اس سطح کا احتجاج کتنا مؤثر ہوسکتا ہے اور حزب اختلاف کی یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے ، حزب اختلاف استعفے کب دے گی، سارے دیدیں گے یا بعض عین موقع پر مصلحت کی ردا اوڑھ لیں گے، ان تمام امور پر اگر ساری حکومتی مشینری نظر رکھنے کی بجائے اگر چند ایک وزراء اور پارٹی ترجمانوں واراکین کو مقرر کر کے باقی حکومتی مشینری وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں یکسوئی کیساتھ عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرے تو یہ زیادہ بہتر حکمت عملی ہوگی۔