اس گلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھا

صدر پرویز مشرف جب اپنے دوراقتدار میں امریکہ کے دورے پر تھے اور وہاں جیوش کانگریس سے خطاب کیا تھا اور پھر جب اُس وقت کے ہمارے وزیرخارجہ خورشید قصوری نے استقبال میں اسرائیلی سفارتکار سے اتفاقاً ملاقات کی تھی، اس خاکسار نے انہی سطور میں لکھا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کہیں تنہا نہ رہ جائے۔ پھر جب پچھلے دنوں ایک دفعہ امارات کے اسرائیل کے تسلیم کرنے اور سعودی عرب کے جدید ترین لبرل وسیکولر مجوزہ شہر نیوم میں امریکی وزیرخارجہ کیساتھ اسرائیلی وزیراعظم بھی تشریف لائے تھے اور ایم بی ایس وغیرہ سے ملاقات کی خبریں خود اسرائیلی میڈیا نے بریک کیں، تو ایک دفعہ پھر انہی سطور میں ''دل کا جانا ٹھہر رہا ہے'' کے عنوان سے عرض کیا تھا کہ اس کے باوجود کہ وزیراعظم پاکستان نے دوتوک الفاظ میں مختلف مواقع پر کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود پاکستان میں زلفی بخاری کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ اُس نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا ہے جس کی حکومت کی طرف سے اور وزیراعظم کی طرف سے بذات خود تردید کی گئی لیکن پھر بھی یہ افواہ ختم نہیں ہوئی اور پاکستان کے لبرل وسیکولر طبقے میں بہت پہلے سے یہ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ آخر ہمارے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا کیوں مشکل پڑ رہا ہے۔ نوجوان نسل بالخصوص پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل بھی وقتاً فوقتاً یہی راگ الاپتے رہتے ہیں کہ آخر اسرائیل کو جب ایک دنیا تسلیم کر چکی ہے اور بھارت اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے بہت سارے جائز وناجائز فوائد سمیٹ رہا ہے تو ہمیں بھی اس گنگا میں ہاتھ دھونے ہی چاہئیں جبکہ اسرائیل سے بھی اس قسم کی پیشکش بعض اوقات آتی رہی ہیں کہ پاکستان اگر ہمیں تسلیم کر لے تو سائنس وٹیکنالوجی اور زراعت کے میدان میں (کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے) بہت کچھ دے سکتے ہیں اور ہم جیسے لوگ اس کے جواب میں کہتے رہے ہیں کہ مصر اور اُردن نے تو کب کا اسرائیل کو تسلیم کیا ہے لیکن اُن کے ہاں تو اس سبب کوئی خاطر خواہ ترقی سامنے نہیں آئی ہے اور اگر آنے والے زمانے میں کہیں ایسا ہوا تو کیا بھارت کے ہوتے ہوئے اسرائیل ہمیں کوئی کام کی چیز دے سکے گا لیکن اس لین دین سے ہٹ کر اس وقت پاکستان پر جو مشکل آن پڑی ہے وہ بہت بھاری پیچیدہ اور ''ایک طرف بھیڑیا دوسری طرف اندھا کنواں'' کے مصداق سخت مخمصے میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں دو ہی ملک ایسے ہیں جن کیساتھ مشکل وقت میں پاکستان مشورہ کرتا تھا اور یہ دونوں مشکل وقت میں پاکستان کی مادی، اخلاقی اور سفارتی مدد کرتے تھے۔ ترکی پاکستان کا بہت ہی مخلص دوست ملک ہے بالخصوص موجودہ صدر طیب اُردوان کے دور میں تو ان تعلقات میں بنیادی چاشنی اسلام اور تاریخ کی شامل رہی ہے۔ ویسے تو ترکی نے اسرائیل کیساتھ شروع دن سے سفارتی مراسم قائم کئے ہوئے تھے لیکن وہ اتاترک کے کھاتے میں شمار تھا لیکن پچھلے دنوں جب اُردوان نے بوجوہ اپنا سفیر وہاں بھیج دیا تو اس سے ثابت ہوا کہ اُردوان صاحب بھی قوم پرست لیڈر ہیں اور ترکی کے مفادات کو اولیت دیتے ہیں اور اب شاید جوبائیڈن سے ترکی کے بہتر تعلقات استوار کرنے کیلئے اسرائیل سے پینگیں بڑھائی ہیں۔ دراصل ہم پاکستانی مذہب کے حوالے سے کٹر جذباتی قوم ہیں، طرفہ تماشا ملاحظہ کیجئے کہ جے یو آئی کے سربراہ عمران خان کو یہودی ایجنٹ ہونے کے ناتے کشمیر کا بھارت کے ہاتھوں سودا کرنے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کا الزام دہراتے نہیں تھکتے جبکہ اسی جماعت کے بلوچستان چیپٹر کے بہت بڑے رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ مغربی حصے میں اسرائیل اور مشرق میں فلسطین کی ریاست ہونی چاہئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ فلسطین خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا جب ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور ساتھ فلسطین کا مقدمہ عربوں نے اُٹھایا تھا اور اب جب مصر، امارات، مراکش، بحرین وغیرہ تسلیم کر رہے ہیں تو ہمیں اسرائیل سے ہزاروں کلومیٹر دور اس مسئلے پر خواہ مخواہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن پاکستان کو اس رنگارنگ گلستان میں ایک حد سے گزرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ ایک طرف بابائے قوم کا فرمان ہے کہ ''کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے'' اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو مسئلہ کشمیر پر اس کے اثرات تو نہیں پڑیں گے؟ کیا واقعی اسرائیل کے تسلیم کرنے سے اہل فلسطین اور عالم اسلام ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیں گے۔ ہم جیسے خاکسار تو بس اپنے پیرومرشد علامہ اقبال سے رجوع کرتے ہیں، ہر ایسے معاملے میں جب کثرت تعبیر سے خواب پریشاں ہونے لگتے ہیں۔ علامہ نے فرمایا تھا۔
میں نہ عارف، نہ مجدد، نہ محدث، نہ فقیہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاں، مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فلکِ نیلی فام
وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگِ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت وشوکت کا پیام