خواتین پر تشد د اور زیادتی کے واقعات

خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد اور زیادتی کے واقعات کے اندراج کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کروا دیا گیا ہے جس سے یقینا متاثرہ خواتین کی دادرسی ہوگی۔ ہمارے معاشرے میں اس قسم کے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، خواتین کی عزت کا معاملہ ہوتا ہے اس لئے اس قسم کے واقعات کو عام طور پر دبا دیا جاتا ہے جس سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ سزا سے بھی بچے رہتے ہیں۔ آن لائن سسٹم کے ذریعے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا اندراج کروایا جاسکے گا اور پھر متاثرہ خاتون کو متعلقہ سرکاری ادارے کیساتھ منسلک کرکے اس کی مدد کا طریقۂ کار وضع کردیاگیا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے اس قسم کے واقعات میں خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، روزبروز ترقی کرتی جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی ہمارے یہاں خوب پھیل رہا ہے، فیس بک پر ہونے والی دوستیاں رواج پا رہی ہیں جو آگے چل کر فریقین کیلئے عموماً مصیبت کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادی بھی ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل رہی ہے اس کی جہاں ایک وجہ غربت ہے، وہاں کم علمی اور بے خبری بھی ہے، غریب والدین چھوٹی چھوٹی بچیوں کو عمر رسیدہ افراد کیساتھ بیاہ دیتے ہیں، اس قسم کی شادیوں کا خمیازہ کم عمر لڑکی کو ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے۔ امیر گھرانوں میں کام کرنے والے چھوٹے بچوں اور بچیوں پر تشدد کیا جاتا ہے، اب تک جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں ان میں بہت سے پڑھے لکھے لوگ اس قسم کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر بہت جلد وائرل ہوجاتی ہیں، ورنہ یہ واقعات تو پہلے بھی ہوتے تھے لیکن کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی تھی۔ اب بھی متاثرہ بچوں اور بچیوں کے والدین کو کچھ دے دلا کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے جو یقینا مناسب نہیں ہے۔ اس قسم کے واقعات میں ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ جو آن لائن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے اس میں تشدد یا زیادتی سے متاثر ہونے والی خواتین کی رضامندی بہت ضروری ہے، اگر خواتین خود اپنے خلاف ہونے والے جرم کی رپورٹ کرنے پر رضامند نہ ہوں تو پھر کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کو عمل میں نہیں لایا جاسکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خواتین کی حفاظت کو ہر لحاظ سے ممکن بنائیں اور معاشرے میں موجود جرائم پیشہ عناصر کیساتھ سختی سے نپٹا جائے۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں میں بچوں اور بچیوں کی باقاعدہ تربیت ہونی چاہئے، ہمارے یہاں عدم تربیت یا معاشرے میں پھیلے ہوئے بگاڑ کی وجہ سے بہت سے کیس اس لئے بھی رپورٹ نہیں کئے جاتے کہ متاثرین کو انصاف ملنے کی توقع نہیں ہوتی، ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ معاشرے میں بدنامی ہوگی اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے اور جہاں تک انصاف کے حصول کا تعلق ہے وہ بھی انہیں نہیں ملے گا۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن سسٹم کیساتھ ساتھ اس قسم کے واقعات سے وابستہ پیچیدگیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ اس قسم کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ ساتھ عوامی فلاحی اداروں کو بھی تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ علاقائی سطح پر ایسی کمیٹیاں ہونی چاہئیں جو اس قسم کے واقعات سے متاثر ہونے والی خواتین اور بچوں کیساتھ جانی اور مالی تعاون کریں۔ اس حوالے سے ہمارے یہاں پولیس کا کردار بھی مثالی نہیں ہے، عام طور پر اس قسم کے جرائم میں ملوث افراد بڑی آسانی کیساتھ سزا سے بچ جاتے ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ سب کچھ بدل رہا ہے، ہماری بہت سی اقدار بدل گئی ہیں، اب اس حوالے سے خواتین اور بچوں کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے واقعات کو چھپانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس قسم کے سیمینارز منعقد کئے جائیں جن میں لوگوں کو اس حوالے سے باخبر کیا جائے کہ متاثر ہونے والی خاتون یا تو مکمل طور پر بے قصور ہے یا اپنی کسی بیوقوفی (فیس بک وغیرہ پر دوستی، سیل فون کا غلط استعمال) کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنی ہے اور اس قسم کے واقعات کسی بھی گھرانے کی خواتین کیساتھ پیش آسکتے ہیں، اس لئے ان کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اگر والدین اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں اور آج کل کے بدلتے ہوئے حالات سے انہیں باخبر رکھتے ہوئے ان کاموں کی نشاندہی کرتے رہیں جن کی وجہ سے ان کے بچے اور بچیاں جرائم پیشہ افراد کا نشانہ بن سکتے ہیں تو اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکتا ہے۔ سیل فون اور نیٹ کی وجہ سے بچوں اور بچیوں کی زندگی کے انداز کافی حد تک بدلتے چلے جارہے ہیں اور والدین کا یہ فرض ہے کہ ان کی مصروفیات پر کڑی نظر رکھیں، بہت سی بچیاں اپنی بے خبری کی وجہ سے ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں جو انہیں بلیک میل کرتے رہتے ہیں، اب تک اس قسم کے واقعات کی وجہ سے بہت سی خودکشیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ادارے، اساتذہ کرام اور والدین یہی وہ تکون ہے جس کی مدد سے خواتین اور بچوں کی حفاظت کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔