کتاب دوستی اور شخصیات

اگرچہ نیٹ،موبائل اور سوشل میڈیا وغیرہ نے کتب بینی کو کافی حد تک کم کردیا ہے اورپاکستان میں ویسے بھی کتاب بینی کا رجحان کبھی بھی قابل رشک نہیں رہا ہے لیکن نئی نسلوں کی ہاتھوں سے کتاب چھیننے میں والدین،اساتذہ اورماحول وجدید تہذیب کا بہت بڑا کردار ہے۔بعض دوست شاید حیران ہوں گے کہ والدین واساتذہ کیوں کتاب بینی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔دراصل بچے والدین اور اساتذہ کے نقال ہوتے ہیں ۔اگربچے اپنے اساتذہ اور والدین کو کتاب بینی میں کہیں مشغول دیکھتے تو ضرور اُن کے نقش قدم پر چلتے۔اساتذہ کرام،معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ پڑھنے پڑھانے والے نصاب کی کتابوں کے علاوہ الا ما شاء اللہ کہیں کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوں گے۔اسی طرح آج ہمارے گھر وںمیں بالخصوص صاحبان ثروت اور نو دولتیوں کے گھروں میں بیڈ رومز سے لیکرکچن اور لاونچز تک جدید سامان لذت کام دھن اور نشاد سرد کی اشیاء سے بھرے ہوں گے لیکن کسی بھی کمرے میں کتابوں کے شیلف کا ملنا نعمت غیر متربقہ کے مترادف ہی ہو سکتا ہے۔اب تو بہت کم گھرانوں میں روزانہ اخبار آتا ہے اس لئے کہ ''اخبار بھی آن لائن ہی مطالعہ کر لیا جاتا ہے حالانکہ اخبار بینی سے جہاں بچوں بچیوں میں کتب بینی کا ذوق وشوق پیدا ہوتا ہے وہاں جنرل نالج معلومات عامہ اور ادب وتاریخ کے مطالعے کا بھی رجحان پروان چڑھتا ہے جو بتدریج کتب بینی پر منتج ہوتا ہے۔لیکن اب یوٹیوب اور اس سے پیسہ کمانے والوں نے سیاسیات،معاشیات اور دیگر علوم کے بارے میں کچے پکے قسم کے علوم کے خزانے اور دریا بہا کر لوگوں کو کتاب سے مستغنی کر کے کافی دور کردیا ہے لیکن اب ایسے افراد طلبہ اساتذہ اور شخصیات موجود ہیں اگر چہ خال خال ہی کہ وہ کتاب کو حرز جاں بنا کر روزانہ کا معمول بنائے ہوئے ہیں۔جامعات کے اساتذہ کرام میں سے اردو،اسلامیات اور پشتو کے اساتذہ کرام میں اکثریت کے ہاں کتب بینی کے شوق اور اپنی ادبی وتحقیقی ضروریات کی تکمیل کے لئے اچھی کتابوں کا اچھا بھلا ذخیرہ موجود ہوتا ہے،جو اُن کی زندگی کے بعد لوگوں کے کام آتا ہے۔پشاور یونیورسٹی کے ایسے اساتذہ کرام میں سے دوشخصیات کو میں اُن کے ساتھ اپنے تعلق کی بناء پر جانتا ہوں جو کتاب بینی اور کتاب دانی کا عشق کی حد تک شوق رکھتے تھے ۔شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر صابر حسین کلوروی اور شعبہ پشتو کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال نسیم خٹک دو ایسے پروفیسر گزرے ہیں جن کی یادیں اُن کی لکھی اور جمع کی گئی کتب کی بدولت شاگردوں ،دوستوں اور علمی حلقوں میں زندہ رہینگی۔دونوں اساتذہ اس قابل اور مستحق ہیں کہ ان پر تفصیلی مضامین اور کالم لکھے جائیں لیکن آج پروفیسر ڈاکٹر صابر حسین مکوروی مرحوم کا ذکر خیر کرنا چاہوں گا۔
پروفیسر صاحب نہ صرف ایک اچھے استاد اور ادب کے شنا اور اور اچھے لکھاری اور صاحب مطالعہ تھے بلکہ ایک ہمدرد بذلہ سنج اور دوستوں کے دوست انسان تھے۔آپ کا تعلق ایبٹ آباد کے ایک مشہور گائوں(اب شہر)قلندرآباد سے تھا۔آپ کا کمال یہ تھا کہ بی ایس سی کرنے کے بعد اردو ادب کے ساتھ شغف بلکہ عشق کے سبب ایم اے اردو کے بعد اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری صاحل کر کے پہلے کالج اور پھر اہلیت وصلاحیت کی بنیاد پرجامعہ پشاور میں استاد بن گئے اور بالآخر شعبہ اردو کے چیئرمین کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔اس دوران آپ نے اپنے طلبہ کی جو تعلیم وتربیت کی وہ قابل قدر ہونے کے ساتھ قابل تقلید بھی ہے۔آپ نے اپنے عہد میں پاکستان بھر سے اردو ادب وشاعری اور تنقید اور تاریخ سے متعلق شخصیات کو مدعو کر اکر اُن سے سیمینارز اور کانفرنس کروائے اور اردو کے طلبہ کے ذوق وشوق ادب کو مہمیز لگا نے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن برا ہو پاکستان میںسیاست اورحسدات اور کینہ پروری کا کہ ڈاکٹر صاحب کو بھی اُن کے بعض حاسدین نے کھل کر کام کرنے نہ دیا۔یہاں اس بات کا بھی ذکر شاید بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی کم وبیش ہر جامعہ میں اساتذہ کے درمیان حسد ومسابقت کے یہ جراثیم ایسی حد تک موجود ہیں کہ بعض اوقات دشمنی میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یقینایہ شیطانی وسوسے اور فعل ہیں کیونکہ شیطانی اساتذہ کے پیچھے سب سے زیادہ لگا ہوتا ہے لیکن آفرین ہو صابر صاحب پر کہ بادمخالف کے باوجود اپنے چراغ کو آخری سانس تک جاری رکھا اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلا کہ آج اُن کی تحقیق کردہ کتب اور مقالہ جات طلبہ و محقیقین کی رہنمائی کے لئے دستیاب ہیں لیکن آپ کی سب سے بڑی کارکردگی جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا یہ ہے کہ آپ نے قلندرآباد میں تقریباً تئیس ہزار کتب پر مشتمل لائبریری اپنی زندگی میں ایبٹ آباد کے طلبہ مطالعے کے تشنہ گان اور اساتذہ کے بلا معاوضہ واحسان کے کھلی رکھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے لائق فرزند شہزاد احمد نے وہ پوری لائبریری جامعہ ہزارہ کی لائبریری کے لئے وقف کردیا۔اور یقیناً یہ پروفیسر صابر حسین کلوروی کے لئے صدقہ جاریہ ہونے کے علاوہ ان کی اولاد اور ہم جیسے دوستوں کے لئے بہت اطمینان اور سکون کا معاملہ ہے۔اللہ ایسے اساتذہ کرام کی مغفرت فرمائے۔