مکالمہ کا سلسلہ جنبانی

پی ڈی ایم نے وزیراعظم عمران خان سے نئے سال کے پہلے ماہ کی آخری تاریخ تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی رکن سیاسی جماعتوں نے اپنے اراکین سے ماہ رواں کی آخری تاریخ تک استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے لیکن استعفوں کا معاملہ کچھ تعطل اور رکن سیاسی جماعتیں تذبذب کا شکار ہوگئی ہیں اسی اثناء میں جے یو آئی(ف)کے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دو دو اراکین جو اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور جے یو آئی(ف)کے اہم اراکین رہے ہیں وہ جے یو آئی (ف) کے قائد کے مدمقابل آگئے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے تین اراکین بلوچستان کے دو اور خیبرپختونخوا کے ایک سینئر رہنما پارٹی قائد کو کھٹکتے آئے ہیں اور جو موقع ملتے ہی قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن جے یو آئی (ف)میں یہ عناصر اتنے بااثر نہیں کہ پارٹی کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں اور نہ ہی پس پردہ عناصر کے اس اقدام سے جے یو آئی(ف)دبائو میں آئے گی دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف سے جیل میں مقتدر حلقوں کے مبینہ اور ممکنہ نمائندے کی ملاقات اور ٹریک ٹومذاکرات کے عندیہ کے بعد مسلم لیگ(ن)کے قائد نوازشریف اور سینئر نائب صدر مریم نواز کا ایک مرتبہ پھر سخت بیان سامنے آیا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ان کا یہ بیان ن لیگ کے قائد نواز شریف کی اس ٹویٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے بھی ڈائیلاگ کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ اس کا مقصد حکومت کو پی ڈی ایم سے این آر او دلوانا ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔سخت سے سخت حالات اور وقت میں مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف نے تنہا پرواز سے ہمیشہ انکار کیا علاوہ ازیں بھی مسلم لیگ(ن) میں نواز شریف کا بیانیہ اور مریم نواز کا لب ولہجہ ہی پارٹی کی پالیسی رہی ہے اس ملاقات کے بعد ان کے بیانات سے ایک مرتبہ پھر مفاہمت کے کسی فارمولے کی نفی ہوتی ہے اور مذاکرات کے امکانات بھی روشن نہیں۔استعفوں کے معاملے میں پی ڈی ایم کا فیصلہ پوری طرح واضح نہیں اس طرح کی صورتحال میں جہاں حکومت بند گلی میں ہے اسی طرح حزب اختلاف بھی بند گلی ہی میں نظر آتی ہے ہر دو کیلئے مذاکرات اور مکالمہ کا دروازہ ہی ان کو اس گلی سے نکلنے کا راستہ مل سکتا ہے جس پر اس وقت تک آمادگی پر پی ڈی ایم تیار نہیں پی ڈی ایم کی قیادت حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکاری ہے جبکہ ٹریک ٹو مکالمہ بھی ان کو منظور نہیں سیاست میں اس طرح کی صورتحال جب بھی آئی ہے بالآخر مکالمہ ہی کے ذریعے اس کا حل تلاش کر لیا گیا ہے اگر مسلم لیگ کے قائد نوازشریف اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن کی تر یاہٹ کا مظاہرہ خود ان کیلئے بھی اس لحاظ سے نقصان دہ ہے کہ تصادم اور استعفوں کی پالیسی کے نتائج خود ان کیلئے بھی مثبت نہیں بلکہ ضرور رسان ہیں جمہوریت کو نقصان سے بچانے کیلئے سیاسی مخاصمت کا بالآخر راستہ مکالمہ ہی سے ملتا ہے ممکن ہے مذید ملاقاتوں اور ضمانتوں کے بعد پردے کے پیچھے اور پر دے کے سامنے کی سرگرمیوں کے اثرات واضح ہوں گے۔پی ڈی ایم اور حکومت سمیت سبھی کا بھلا اسی میں ہے کہ پارلیمان کی رونقیں بحال ہوں مکالمہ کے ذریعے ایک دوسرے کو راستہ دیا جائے اور عوام کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جائے یہی مدعا اور اصل سیاست ہے۔